ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 26

 ترجمہ: آپ فرمائیے انفال کی تقسیم اللہ اور اس کے رسولﷺ کے اختیار میں ہے اس سے مراد مالِ غنیمت ہی ہے جو کفار سے بصورتِ جنگ حاصل ہوا تھا فے مراد نہیں کیونکہ فے اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ و قتال کے کفار سے ملے خواہ وہ چھوڑ کر بھاگ جائیں یا رضامندی سے دینا قبول کریں اور نفل انفال کا لفظ اکثر انعام کے لیے بولا جاتا ہے جو امیرِ جہاد کسی خاص مجاہد کو اس کی کارگزاری کے صلہ میں علاوہ حصہ غنیمت کے بطورِ انعام عطا کرے یہ معنیٰ تفسیر ابنِ جریر میں سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیے ہیں۔ (ابنِ کثیر) 

اور کبھی مطلقاً مالِ غنیمت کو بھی نفل اور انفال کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس آیت میں اکثر مفسرین نے یہی عام معنیٰ مراد لیے ہیں صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے یہی عام معنیٰ نقل کیے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ عام اور خاص دونوں معنیٰ کے لیے بولا جاتا ہے اس لیے کوئی اختلاف نہیں اور اس کی بہترین تشریح و تحقیق وہ ہے جو امام ابو عبید نے اپنی کتاب الاموال میں ذکر کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اصل لغت میں نفل کہتے ہیں فضل و انعام کو اور اس امتِ مرحومہ کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی انعام ہے کہ جہاد و قتال کے ذریعے جو اموال کفار سے حاصل ہوں ان کو مسلمانوں کے لیے حلال کردیا گیا ورنہ پچھلی امتوں میں یہ دستور نہ تھا۔ 

(تفسیر معارف القرآن: جلد، 4 صفحہ، 174)

علماء لغت اور مفسرین کے ان بیانات سے معلوم ہوا کہ انفال بطور جنگ و قتال سے حاصل ہونے والے مال کو کہا جاتا ہے اور اسی کو مال غنیمت کہتے ہیں خواہ ایک ہی چیز کے دو نام ہوں یا عام خاص کا فرق ہو۔ جیسے اسی سورت میں: واعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ الخ۔(سورۃ الأنفال: آیت، 41)

 سے مصارف انفال کا بیان ہے لیکن مالِ فے کی حقیقت اس سے جدا ہے کہ وہ بغیر جنگ کے محض رضامندی یا رعب سے حاصل ہوتا ہے اور یہ تعریف قرآن حکیم نے ہی سورت حشر میں کی ہے۔

وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞ (سورۃ الحشر: آیت، 6)

ترجمہ: جو مال حق تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو ان لوگوں سے بغیر لڑے عنایت کیا ہے تو اس پر نہ تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس جس پر چاہتا ہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِۙ كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ الخ (سورۃ الحشر: آیت، 7)

ترجمہ: دیہات والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدون جہاد عنایت کیا وہ اللہ کا ہے اور رسولﷺ کا اور رسول کے قرابت مندوں کا اور انہی کے یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا تاکہ وہ مال غنیمت تمہارے دولتمندوں کے مابین چکر کھاتا نہ پھرے۔

لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الخ۔(سورۃ الحشر: آیت، 8)

ترجمہ: نیز یہ مالِ فے ہجرت کرنے والوں میں سے ان ضرورت مندوں کا بھی حق ہے اور ان کا بھی حق ہے۔

وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ الخ۔ (سورۃ الحشر: آیت، 9)

ترجمہ: جو ہجرت کرنے والوں کے پہلے سے دار ہجرت میں مقیم اور ایمان پر قائم ہیں۔  (ترجمہ مقبول: صفحہ، 654)

انفال و غنیمت اور مالِ فے کے درمیان اس مباین فرق سے معلوم ہوا کہ شیعہ حضرت جو انفال کو بلا جنگ حاصل شدہ مال سے تعبیر کرتے ہیں، جیسے تجلیاتِ صداقت: صفحہ، 411 پر ہے اور اگر صرف تیاری جہاد کرنے، گھوڑے دوڑانے اور کچھ عملی تگ و تاز کرنے سے لیکن جہاد کے بغیر ملے جیسے اموال و املاک بنی نضیر تو اسے فے کہا جاتا ہے اور اگر ہر قسم کی کمی کوشش کے بغیر دستیاب ہو جائے تو اسے انفال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جیسے جائیدادِ فدک۔

قرآنِ حکیم کے بیان کے برعکس صریح دھاندلی اور باطل مقصد بر آرہی ہے شاید ان کے پیشِ نظر اپنے پیشوا علامہ کلینی کا بھی غلط بیان ہوگا جو خلفائے پیغمبر کو جنگ اور غلبہ سے مال واپس ملے وہ فے ہوتا ہے اور اس کا حکم: واعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ الخ۔ (سورۃ الأنفال: آیت، 41)

ترجمہ: یعنی غنیمت و فے ایک مال کے نام ہیں اور جو ان کے پاس بغیر گھوڑے دوڑانے اور لشکر کشی کے حاصل ہو وہ انفال کہلاتا ہے جو خدا و رسولﷺ کا خاص ہوتا ہے کسی کی شرکت نہیں ہوتی۔

(اصولِ کافی: صفحہ، 537 باب الفے والانفال)

حالانکہ قرآن پاک نے جنگِ بدر سے حاصل شدہ اموال و غنائم کو انفال اور بلا جنگ سے لشکر کشی اموال بنی نضیر کو مالِ فے سے تعبیر کیا ہے جن میں جائیداد فدک بھی شامل ہے۔

فَمَاذَا بَعۡدَ الۡحَـقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ‌‌ الخ۔ (سورۃ یونس: آیت 32)

اب یہ بات تحقیق طلب ہے کہ جائیدادِ فدک انفال و غنیمت کے طور پر اہلِ اسلام کے قبضے میں آئی یا بطورِ فے بلا جنگ حاصل ہوئی سو تمام سنی شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ فدک مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک بستی کا نام ہے وہاں کے یہود نے از خود صلح میں نصف جائیداد دینے کی حضورﷺ کو پیش کش کی آپﷺ نے منظور فرمالی، چنانچہ مؤلف تجلیاتِ صداقت محمد حسین صاحب نے اپنی منشاء کے موافق، معجم البلدان: جلد، 6 صفحہ، 623 تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 95 کامل ابنِ اثیر: جلد، 2 صفحہ، 108 فتح الباری کے حوالہ جات سے فدک کی تعریف کے بعد یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

وكانت فدك خالصة الرسول الله لانهم لم يجلبوا عليها بخیل ولا رکاب۔

ترجمہ: فدک خالص رسول اللہ کے قبضے میں تھا کیونکہ مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں۔

صفحہ 5 از 26