ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 26

ترجمہ: ماں کے رحم میں بچے کی طرح پر دہ نشید طرح پردہ نشین ہوگئے ہو اور خاںٔنوں کی طرح گھر میں بھاگ آئے ہو اور ابھی ہم واضح کریں گے کہ حضرت علیؓ نے بھی باغِ فدک ورثائے حضرت فاطمہؓ کو نہ دیا اور عملِ صدیقی جاری فرمایا کیا شیعہ کا مشہور اصول الحق مع على حيث دار حقِ حضرت علیؓ کے ساتھ ہے جدہر بھی جائیں کے تحت تائیدِ علوی کی وجہ سے سیدنا علیؓ برحق نہیں، خانگی تنازعات حضرت فاطمہؓ و حضرت علیؓ میں اگر حق سیدنا علیؓ کے ساتھ ہوتا تھا تو یہاں کیوں ساتھ نہیں۔

ثامناً: حضرت علیؓ پر حضرت فاطمہؓ کی ناراضی کے واقعات کئی ہیں مثلاً جلاء العیون صفحہ 123، 126، 128، 129، 132، طبع ایران ملاحظہ ہو

اور شیعہ روایات کی روشنی میں آپ کی خانگی معاشرت اتنی تلخ تھی کہ حضور ﷺ کو یوں تہدید و سفارش کرنی پڑی۔

و مہربانی کن باز وجہ خود بدرستیکہ فاطمہؓ پاره تن من است ہرچہ اورا بد رو آور دمرا بدرد میآورد۔(جلاء العیون: صفحہ، 123)

ترجمہ: اے حضرت علیؓ اپنی زوجہ پر رحم کھایا کرو بلاشبہ سیدہ فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو بات اسے تکلیف پہنچاتی ہے مجھے بھی تکلیف پہنچاتی ہے اس حدیث کو اپنے شانِ نزول سے کاٹ کر حضرت ابوبکرؓ پر منطبق کرنے والے دیانتدار فرقہ سے ہم پوچھتے ہیں کیا ان مسلسل ناراضیوں سے حضرت علیؓ کے دین پر حرف آیا یا نہ اگر نہیں آیا تو اصول کہاں گیا؟ اور اگر آیا تو فما ھو جوابکم فھو جوابنا۔

تاسعاً: اگر یہ کہو کہ یہ وقتی ناراضی ہوتی تھی بعد میں صلح صفائی ہو جاتی تھی تو سوال یہ ہے کہ صفائی سے قبل دو چار گھنٹے کے وقت ناراضی میں سیدنا علیؓ کے حبط اعمال پر فتویٰ دیا جاسکتا ہے اگر نہیں دیا جاسکتا تو حضرت ابوبکرؓ پر بھی دو ڈھائی ماہ کی ناراضی سے بھی فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔

عاشراً: فقد اغضبنی۔

ترجمہ: پس اس نے مجھے ناراض کیا کیا بناء برحقیقت ہی ہے یا دھمکی اور اغضابِ حضرت فاطمہؓ سے روکنا مقصود ہے اول بات پر اصرار ہو تو مندرجہ ذیل آیات کا جواب دیں سود خواروں کے متعلق ہے:

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت، 279)

 ترجمہ: اگر تم سود خوری سے باز نہ آؤ تو خدا و رسول کے ساتھ اعلان جنگ کرو کیا محارب خدا و رسولﷺ سود خوار پر آپ حقیقت کفر کا فتویٰ لگائیں گے؟ غیبت کرنے والوں کے متعلق ہے:

اَيُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًا الخ۔

(سورۃ الحجرات آیت 12)

ترجمہ: کیا کوئی تم سے پسند کرتا ہے کہ مردہ بھائی کا گوشت کھائے کیا غیبت کرنے والا واقعی مردار خور ہے۔ یتیم کا مال ناجائز کھانے والوں کے متعلق وہ اپنے پیٹ میں آگ کھاتے ہیں: 

اِنَّمَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت، 10)

ترجمہ: بےشک وہ اپنے پیٹ میں آگ کھاتے ہیں کیا اب وہ حقیقتہ آگ ہی کھاتے ہیں۔

اگر یہاں حقیقت مراد نہیں بلکہ ان گناہوں کی شفاعت کے لیے تمثیلات ہیں اسی طرح غضب فاطمہؓ پر غضب رسولﷺ بیان شناعت کا ایک طریق ہے اور اغضاب حضرت فاطمہؓ سے روکنا مقصود ہے حقیقت مراد نہیں ہے تو حضرت ابوبکرؓ پر ناراضی رسولﷺ ثابت نہیں ہوسکتی یہ سادہ بیان مسئلہ کی حقیقت ایک خالی الذہن عامی کے ذہن نشین کرنے کے لیے قلم بند کیا گیا علمی موشگافیوں کے دلدادہ اور ردو قدح کرنے والوں کے لیے تحقیقی بیان یہ ہے صحیح بخاری: جلد، 2 صفحہ، 995 سے حدیث میراث ملاحظہ ہو:

امام زہریؒ بروایت عروه از عائشہؓ روایت کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا عباسؓ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس حضورﷺ کا ترکہ مانگنے آئے اور وہ فدک اور خیبر کے حصے کی زمینیں مانگتے تھے پس سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہﷺ‎ سے سنا ہے۔

يقول لا نورث ما تركنا صدقة انما یاکل آل محمدﷺ من ھذا المال۔

ترجمہ: حضورﷺ فرماتے تھے ہمارا ورثہ نہیں ہوتا جو ہم چھوڑتے ہیں صدقہ ہوتا ہے آلِ محمدﷺ بلاشبہ اس مال سے کھاتے رہیں گے۔

سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں وہ طریق کار نہیں چھوڑ سکتا جو رسول اللهﷺ کو میں نے کرتے دیکھا ہے مگر میں اسے ضرور کروں گا امام زہریؒ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ نے آپ سے گفتگو چھوڑ دی اور تا وفات بات نہیں کی۔

بخاری: جلد، 1 صفحہ، 435 کی روایت میں یہ لفظ بھی ہیں کہ آپ اس ترکہ کی وراثت مانگتی تھیں جو اللہ نے آپ پر بطورِ فے لوٹایا تھا نیز یہ خیبر فدک اور مدینہ منورہ کے وقف صدقات تھے حضرت ابوبکرؓ نے دینے سے انکار کیا اور فرمایا میں اس طرزِ عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جو رسول اللہﷺ کرتے تھے مگر میں اسے ضرور کروں گا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں نے حضورﷺ کا طرزِ عمل چھوڑ دیا تو گمراہ ہوجاؤں گا ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ کی رشتہ داری سب سے زیادہ محبوب ہے بخاری: جلد، 2 صفحہ، 577، 996 مگر میں مالِ فے کی میرات دینے سے معذور ہوں میرا مال آپ کے لیے حاضر ہے۔

مسںٔلہ کی علمی تنقیح:

طعنِ فدک کا سارا دارو مدار اسی حدیث پر ہے چند تنقیحات کی شکل میں اس پر بحث کی جاتی ہے۔

1: مالِ فے اور فدک کی آمد و خرچ کی کیا پوزیشن ہے اور پیغمبر ﷺ کے بعد کس کے تصرف میں آتا ہے۔

2: سیدنا ابوبکرؓ اور دیگر خلفائے اسلام اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا راشن ان اموال سے دیتے تھے۔

3: سیدہ فاطمہؓ کے سوال کا منشاء کیا تھا؟

4: حدیث لانورث متفق علیہ ہے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کا اس پر اجماع ہے۔

5: راوی کے الفاظ غضبت الخ مدرج اور اپنے ظن پر مبنی ہیں۔

6: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکرؓ پر خوش ہوکر رخصت ہوئیں۔ 

7: شیعہ کے دلائل وراثت پر تبصرہ۔

8: روایات ہبہ کی حقیقت۔

9: جنازہ سیدہ فاطمہؓ میں شیخینؓ کی شرکت۔

1: مال فے اور فدک کی حقیقت:

مسلمانوں کو کفار کے جو اموال ملتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:

1: انفال یعنی غنیمت

 2: فے انفال نفل کی جمع ہے جس کے معنیٰ فضل و انعام کے ہیں یہ لفظ سورت انفال کے شروع میں استعمال ہوا ہے جب جنگِ بدر کی غنیمت کی تقسیم میں ایک دوسرے سے بڑھ کر مستحق ہونے کا سوال اٹھا تو اللہ پاک نے فرمایا: قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ‌ (سورۃ الأنفال: آیت، 1)

صفحہ 4 از 26