ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 26

رابعاً: فرض کیجئے آپ حساس اور نازک مزاج تھیں خلاف مرضی حضرت ابوبکرؓ کا عمل و ارشاد سن کر طبعاً ناراض ہوئیں، یا بقول شیعہ سیدنا ابوبکرؓ جیسے بزرگ محسن کو اپنے حق کا غاصب سمجھ کر ناراض ہوئیں تو کیا تین دن تک ناراضی کا جواز پھر ناراضی اور ترکِ کلام کی حرمت کا متفقہ مسئلہ آپ کو معلوم نہیں پھر اس کی خلاف ورزی کیسے؟ فدک کا مسئلہ مالی حقوق کے متعلق ایک دنیوی مسئلہ ہے عقیدہ اور فرائض شریعت کا مسئلہ تو نہیں جس کے خلل سے طویل ناراضی کا عذرِ لنگ تراشا جائے۔

خامساً: حضرت فاطمہ سيدة النساء رضی اللہ عنہا ہیں اعمالِ صالح اور پرہیز گاری میں اعلیٰ اور معیاری مقام رکھتی ہیں قرآن پاک می اہلِ جنت کے اوصاف عالیہ میں وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ الخ۔ 

(سورۃ آلِ عمران: آیت، 134)

 ترجمہ: اور اہلِ جنت غصے کو پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں آیا ہے گو برائی کا بدلہ اس کی مثل عام لوگوں کے لیے جائز ہے مگر خواص کے لیے: فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ‌ الخ۔(سورۃ الشوریٰ: آیت، 40)

ترجمہ: پس جو معاف کردے اور صلح کرلے پس اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور 

وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ۞ (سورۃ الشوریٰ: آیت، 43)

ترجمہ: اور البتہ جو صبر کرے اور بخش دے تو یہ پختہ کاری کی بات ہے جیسے لوگوں کی سیرت اپنانے کی تعلیم نازل کی گئی ہے رحم مجسم اور مہربان کائنات علیہ التحیہ والصلوات پیغمبرﷺ نے بڑے بڑے مجرموں کو معاف کر دینے کا اسوہ حسنہ یاد گار چھوڑا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے تو خصوصی طور پر اب رحیم کا حکم سفارش ہے: فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ الخ۔(سورۃ آلِ عمران: آیت، 159)

ترجمہ: ان کو معاف کر دیں ان کے لیے بخشش مانگیں اور اہم کاموں میں ان سے مشورے لیں خود حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مثالی شوہر اور سبط پیغمبر فرزندوں نے تکالیف سہہ کر صبر و عفو کی مثالیں قائم کیں اب جو لوگ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر ناراضی کا افسانہ مشہور کرتے ہی رہتے ہیں رضامندی یا عفو کی کوئی روایت تسلیم ہی نہیں کرتے وہی بتائیں کہ مذکورہ بالا آیات کے مصداق سے سیدہ فاطمہؓ کیوں خارج ہیں آل عبا کے مثالی طرز عمل کی خلاف ورزی سیدہ فاطمہؓ کیوں کرتی ہیں کیا سیدہ فاطمہؓ کی پاکیزہ سیرت پر شیعہ کی طرف سے خوارج سے بڑھ کر یہ ناپاک حملہ نہیں جس کا مقصد وحید صرف سیدنا ابوبکرؓ پر طعن اور تشیع کے سنگ بنیاد ہی کو مضبوط کرنا ہے۔

سادساً: اگر کوئی بزرگ کسی صاحب سے بلا قصد و ارادہ طبعاً ناراض ہو جائیں تو زیادہ سے زیادہ ناراض کرنے والے کے ذمہ یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ ان سے معذرت اور دلجوئی کرلیں اعتزار اور معافی چاہنے والوں کو معاف کرنا سنتِ خدا و رسولﷺ کے علاوہ اخلاقی فریضہ بھی ہے اگر بقول شیعہ یہ طبعی ناراضی تسلیم ہی کی جائے تو شیعہ روایات میں ہی یہ تصریح ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہؓ سے جا کر معافی مانگی حالانکہ یہ دونوں نانا جی تھے اولو الامر تھے اور سیدہ فاطمہؓ سے افضل تھے مگر پھر بھی قرابتِ نبوی اور تعظیمِ حضرت فاطمہؓ کے جذبہ سے آپ کے گھر چل کر گئے ملاحظہ ہو:

حضرت ابوبکرؓ نے جب یہ حال خفگی سیدہ فاطمہؓ دیکھا تو خدا سے عہد کیا کہ وہ چھت کے نیچے نہ جائیں گے جب تک کہ سیدہ فاطمہؓ کو راضی نہ کر لیں پس ایک رات وہ آسمان کے نیچے سوئے پھر سیدنا عمرؓ امیر المومنینؓ کے پاس آئے اور کہا حضرت ابوبکرؓ بوڑھے آدمی اور نازک دل ہیں رسولِ خداﷺ کے غار میں ساتھی تھے اور حضورﷺ سے پرانی محبت رکھتے ہیں ہم پہلے بھی کئی مرتبہ آئے ہیں اور سیدہ فاطمہؓ سے ملاقات کی اجازت مانگی ہے مگر وہ نہ مانیں اگر آپ مفید جانتے ہیں تو ہمارے لیے رخصت مانگیں پس امیر المؤمنین نے حضرت فاطمہؓ سے کہا میں ضامن ہوا ہوں کہ ان کے لیے اجازت چاہوں سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا آپ کا گھر ہے اور آپ کو اختیار ہے عورتیں مردوں کے آڑے نہیں آتیں میں کسی بات میں آپ کی مخالفت نہیں کرتی جس کو چاہیں اجازت دیں پس حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آئے حضرت ابوبکرؓ نے کہا اے رسول رسول خداﷺ کی صاحبزادی! ہم تیرے پاس آپ کی رضا چاہنے اور ناراضی سے پناہ مانگنے آئے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم سے بروایتِ شیعہ کوتاہی ہوئی اسے بخش دیں سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا میں ایک بات تم سے نہیں کرتی حتیٰ کہ اپنے والد ماجد سے ملاقات کروں اور تمہاری شکایت کروں۔ (جلاء العیون: صفحہ، 152)

شیعہ روایت کے آخری جملے غلط ہیں مگر حضرت ابوبکرؓ یہ تو حق پر تھے مطابق شرع اپنا فرض ادا کر چکے: وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ الخ۔ (سورۃ آلِ عمران: آیت، 134)

ترجمہ: وہ لوگوں کو معاف کرنے والے اور غصہ ختم کرنے والے ہیں پر عمل سیدہ فاطمہؓ کو کرنا چاہیے تھا جب حضرت علیؓ راضی اور اجازت دے کر گویا ایک قسم کی سفارشی ہیں پھر ناراضی پر اصرار کیوں؟ اگر حضورﷺ زندہ ہوتے اور آپﷺ سے حضرت فاطمہؓ یہ شکایت کرتیں تو کیا آپ صلح صفائی نہ کروا لیتے؟ جیسے سیدنا علیؓ پر سیدہ فاطمہؓ کی ناراضی اور شکایت کو ختم کرا دیتے تھے تو حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ بھی بالفرض ناراضگی ماننے میں آخرت میں ہی امید ہے کیونکہ جن پر خدا و رسولﷺ راضی ہوں ان پر بعض دوستوں کی ناراضی کا دفعیہ دوسرے ذریعہ سے ہو جائے گا قرآن و سنت میں یہ مسںٔلہ مصرح ہے 

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ۞

(سورۃ الحجر: آیت، 47)

ترجمہ: اور جو چھ ان کے سینوں میں ایک دوسرے کے متعلق کدورت ہوگی ہم دور کردیں گے اور وہ بھائی بھائی ہو کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

سابعاً: یہ حقیقت ہے کہ فدک کے سوال پر حضرت علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کا ساتھ دینے میں پس و پیش کی تو آپ کو اتنا سخت سست سننا پڑا مانند جنین در رحم پردہ نشین شده و مثل خائناں در خانہ گریختہ۔  (حق الیقین: صفحہ، 125) 

صفحہ 3 از 26