ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 25 از 26

شیعہ یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو اپنی جنازے پر نہ آنے کی وصیت کی تھی اور جنازہ رات کو اٹھانے میں یہی مقصود تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہ آنے پائے حالانکہ جب رضامندی کی احادیث اور حضرت فاطمہؓ کے کریمانہ اخلاق کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے یہ بات دل کو نہیں لگتی کہ حضرت فاطمہؓ باغیِ فدک کے چند ٹکے نہ ملنے کی وجہ سے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ناراض ہو کر رخصت ہوں رات کو دفن کی وصیت پردہ پوشی پرسکون وقت میں مکہ کے استقبال کرنے کی خاطر ہے یا یہ تاثر دینا ہے کہ رسول خدا کی صاحبزادی دنیا سے رخصت ہو کر گویا اہل و عیال اور مسلمانوں کو اپنے نور سے محروم کر کے جا رہی ہیں صیحین کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رات کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے دفن کیا اور ابوبکرؓ کو اطلاع نہ کی اور حضرت علیؓ نے جنازہ پڑھا اس سے یہ تاثر تراشنا کے حضراتِ شیخینؓ سے ناراض تھی اور گویا جنازہ میں شرکت سے منع فرما گئیں شعیہ کا غلط استدلال ہے کیونکہ وفات و جنازہ کے اطلاع خود خاوند گھر گھر جا کر نہیں دیتا بلکہ ایسی خبر جنگل میں آگ کی طرح خود پھیل جاتی ہے جہاں تک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ اور مسلمان جنازہ میں شریک تھے بضعہ رسول کا جنازہ اور پیغمبرﷺ پر جان و مال قربان کرنے والے اور خدا سے رضا و جنت کی سندیں پانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین غیر حاضر و محروم رہیں یہ کوئی دشمن اسلام تو کہہ سکتا ہے جو حضرت فاطمہؓ کو مسلمانوں کے دلوں میں اتنا بے وقعت ثابت کرنا چاہتے ہیں صحیح العقیدہ مسلمان اس کا قائل نہیں ہوسکتا یہ کہنا کہ حضرت ابوبکرؓ کو نہ وفات کی اطلاع ملی نہ وہ شریک جنازہ ہوئے درایتاً بھی غلط ہے کیونکہ حضرت صدیقِ اکبرؓ کی اہلیہ محترمہ اسماءؓ بنتِ عمیس سب بیماری میں سیدہ فاطمہؓ کے تیماردار اور واحد خدمت گار تھی اور تجہیز و تکفین اور غسلِ سیدہ فاطمہؓ کا کام بھی حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے سانجام دیا اور ان کے جنازہ کے پردہ کا گہوارہ بھی حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ نے بنایا اس حد تک تیماردار اور حاضر خادمہ ہوں اور خاوند کو ان کی وفات و جنازہ کا بھی علم نہ ہوسکے مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا علیؓ نے جنازہ پڑھایا اور سیدنا ابوبکرؓ وغیرہ مقتدی بنے ہوں تو کیا اعتراض کی بات ہے حضرت علیؓ والی تھے اور اس کے برعکس حضرت ابوبکرؓ نے امامت کرائی۔ خلیفہ وقت کو اس وقت امام بنایا جاتا تھا تو انکار کی بات نہیں جیسے حضرت حسینؓ نے حضرت حسنؓ کے جنازے پر حاکم مدینہ سعید بن عاص اموی کو امام بناتے وقت فرمایا: لولا انه سنة ما قدمته۔

 اگر حاکم سے نماز پڑھانے کی سنت نہ ہوتی تو میں ان کو آگے کرتا بہرحال اصولی طور پر روایات نفی پر روایات اثبات کو ترجیح ہوتی ہے تو جن روایات میں حضرت علیؓ حضرت عباسؓ کے متعلق کے الفاظ وارد ہیں ان سے جنازہ پڑھنا مراد ہے امامت مراد نہیں اب امامت صدیقی کے متعلق صریح احادیث ملاحظہ ہوں۔

عن جعفر بن محمد عن ابيه قال ماتت فاطمةؓ بنت النبیﷺ‎ فجاء ابوبكرؓ وعمرؓ ليصلوا فقال ابوبكرؓ لعلىؓ بن ابى طالب تقدم فقال ما كنت لا تقدم وانت خليفة رسول اللهﷺ‎ فتقدم ابوبكرؓ فصلى عليها اربعاً۔ 

(كنز العمال: جلد، 6 كتاب الفضائل من قسم الافعال صفحہ، 318)

سیدنا باقرؒ اپنے والد سے راوی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول اللہﷺ فوت ہوگئیں تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نمازِ جنازہ پڑھنے آئے تو سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت علیؓ سے فرمایا آگے ہوں اور جنازہ پڑھائیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں آگے نہیں ہوسکتا جب آپ رسول اللہﷺ کے خلیفہ موجود ہیں پس حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھے اور چار تکبیروں سے نماز جنازہ پڑھائی۔

طبقات ابنِ سعد: جلد، 8 صفحہ، 47 اردو پر ہے:

باخبار محمد بن عمر تجدیث قیس بن ربیع از مجالداز شعبی حضرت فاطمہؓ پر حضرت ابوبکرؓ نے نماز پڑھی تھی۔

2: طبقات ابنِ سعد: جلد، ہشتم صفحہ، 29 پر ہے:

عن حماد عن ابراهيم قال صلی ابوبكر الصديقؓ على فاطمةؓ بنت رسول اللهﷺ فکبر علیھا اربعا۔

ترجمہ: حماد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ بنتِ رسول پر نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں۔

اسی طرح یہ روایت بعینہ سیرت حلبیہ: جلد، 3 صفحہ، 390 پر بھی ہے۔

جو مائل الى التشیع بھی ہیں۔ (وللہ الحمد)

 آخری گزارش:

قارئین کرام! یہ مسںٔلہ فدک کی حقیقت جس سے شیعہ کا مقصود صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اپنی دشمنی کو پختہ کرنا ہے اور بس ورنہ فی نفسہ حضرت فاطمہؓ اور ان کی اولاد سے ہمدردی ان کو مقصود نہیں اگر ہمدردی ہو تو وہ اس مسئلہ میں ایسے کیوں نہیں سوچتے اور بحث کرتے جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خاتونِ جنت کی شان دو بالا معلوم ہو چند دن کی خاطر دنیا کے چند ٹکوں کے لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نا محرموں کی عدالت میں چڑھایا جائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے نانوں سے مناظرہ کرایا جائے پھر ناراضی اور دشمنی پیدا کر کے سب مسلمانوں کو جنازہ کی شرکت سے بھی روک دیا جائے صلہ رحمی استغناء صبر اور قناعت جیسی صفات کی نفی پر زور دیا جائے اہلِ اسلام کی نظر میں ان کو بے قدر اور بے وقعت ثابت کیا جائے پھر 1400 سال تک مسلمانوں میں غیر مختتم جدال و مناظرہ کا بازار گرم رکھا جائے بقول شیعہ یہ مذکورہ بالا کارروائی درست ہے یا اس واقعہ کو نیک نیتی سے صرف ایک غلط فہمی پر حمل کرکے طبعی شکر رنجی کو رضا و صلہ رحمی سے دور کر دکھایا جائے حضرت علیؓ اور جملہ اہلِ بیتؓ کے طرز عمل کی تصدیق کی جائے اور ان کی اتباع کی جائے ان کو ظاہر و باطن میں یکساں جان کر نفاق و تقیہ کی ہمت سے بچایا جائے ان کو رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا مصداق جان کر ان میں جھگڑے اور اختلافات ثابت نہ کیے جائیں قلبی یا اجتہادی اختلافی امور میں دیانت و انصاف کا مصالحانہ فیصلہ دے کر:

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌الخ۔ (سورۃ الحجرات: آیت، 10) 

صفحہ 25 از 26