ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 24 از 26

ثمہ و لانیه ابوبکرؓ ققسمته فی حياته ثمہ ولانيه عمرؓ فقسمته فی حياتنه۔ 

ترجمہ: پھر مجھے حضرت ابوبکرؓ نے والی بنایا تو میں نے ان کی زندگی میں تقسیم کیا پھر حضرت عمرؓ نے مجھے ماری بنایا تو میں نے ان کی زندگی میں بھی تقسیم کیا حتیٰ کہ حضرت عمرؓ کے آخری سال تھے آپ کے پاس بہت مال آیا انہوں نے ہمارا جدا کیا اور میری طرف قاصد بھیجا کہ لے لو اور تقسیم کرو میں نے کہا اے امیر المؤمنین ہم مالدار ہیں اور مسلمان حاجت مند ہیں یہ ان کو واپس کر دیجئے۔

(کتاب الخیر لابی یوسف: صفحہ، 40 با ف قسمتہ الغنائم ط مصر) 

بالکل یہ روایت سننِ ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 61 باب مواضع قسم الخمس میں ہے اور امام احمد نے اپنی سند کے سات مسندات علی مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 84 میں ذکر کی ہے فاضل بیہقی نے کی سنن الکبریٰ: جلد، 6 صفحہ، 343 باب سہم ذوالقربیٰ من الخمس میں اپنی سند سے اور مسند ابی لیعلیٰ: صفحہ، 243 میں باسند سیدنا علیؓ سے مروی ہے امام بخاری نے تاریخ کبیرق: جلد، 1 صفحہ، 381 میں بالفاظِ ذیل یہ روایت درج کی ہے:

عن بن ابی لیلی قال سمعت علياؓ قال سألت النَّبِیﷺ ان يولينی الخمس فاعطانی ثمر ابوبکرؓ فاعطانی ثمر عمرؓ فاعطانی۔

ترجمہ: ابنِ ابی لیلی نے کہا میں نے حضرت علیؓ سے سنا، فرمایا میں نے حضورﷺ سے سوال کیا تھا کر خمس پہ مجھے نگران بنادیں تو مجھے بنا دیا پھر حضرت ابوبکرؓ نے بھی بنایا حضرت عمرؓ ہم نے بھی بنایا۔  (بحوالہ رحماء بینیم حصہ دوم)

اور شیعہ بھی اسے تسلیم کرتے ہیں چنانچہ حق الیقین: جلد، 2 صفحہ، 59 پر ہے حضرت ابوبکرؓ نے کہا میں اس آیت سے یہ نہیں سمجھتا کہ وہ تمام تمہیں کو دوں مگر جس قدر تم کو کافی ہو میں تم دیکھتا ہوں اور حضرت عمرؓ نے بھی اس باب میں اس کی تصدیق کی اور جو یہ حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔ 

کان ابوبکرؓ يأخذ علتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ويقسم الباقی وكان عمرؓ كن الك ثمر كان عثمانؓ كذ الك ثم كان علیؓ کذالك۔

ترجمہ: ابوبکرؓ فدک وغیرہ کی جائیدادوں کا غلہ لے کر بقدر کفایت تو ضرورت اہلِ بیتؓ کو دیتے باقی تقسیم کر دیتے پھر حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ نے اسی طرح عمل جاری رکھا۔

(1: حدیدی شرح نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 292) (2: شرح نہج البلاغہ لابن میثم بحرانی: جلد، 5 صفحہ، 107 جدید طہرانی) 

(3: درہ بخفیہ: صفحہ، 332 )

(4: فیض السلام نقوی: صفحہ، 960 شرح نہج البلاغہ) 13: کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے مدعیہ سے قسم لے کر نصاب شہادت کیوں مکمل نہ کر لیا ایک گواہ کو صادق جان کر ڈگری کیوں نہ دی از خود تبرع سے حضرت فاطمہؓ کو دے کر خوش کیوں نہ کیا یا مسلمانوں سے اجازت لے کر کیوں نہ دیا جیسے حضورﷺ نے حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا فدیہ میں بھیجا ہوا ہار مسلمانوں سے اجازت دے کر واپس کر دیا جواب گزارش یہ ہے کہ یہ سب خصوصی ایمرجنسی حالات ہیں ان سے نہ کوئی قاعدہ کلیہ اخذ ہو سکتا ہے نہ ان کی پابندی سنت یا واجب ہے جیسے روزہ توڑ کر دوسرے کا دیا ہوا کفارے کا مال بحکمِ نبوی خود کھانے والے غریب صحابی کے واقعہ سے کوئی عام قانون نہیں نکلتا اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسا کر دیتے تو ان کی صوابدید ہوتی جب قاضی و حاکم کی حیثیت سے شرائع قانون پر عمل کیا اور بحکمِ قران و سنت مالِ فے کو 8 قسم کے مسلمانوں کا حق قرار دیا تو آپ پر طعن کیوں کیا جائے الحمدللہ مسئلہ فدک پر ہر قسم کے قدیم و جدید مطاعن کا تصفیہ ہو چکا اب حضرت فاطمہؓ کے جنازہ کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

جنازہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور حضراتِ شیخینؓ:

صفحہ 24 از 26