ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 23 از 26

حضرت ابوبکرؓ نے کہا باخدا آپ کے والد مجھ سے بہتر تھے آپ اللہ میری بیٹیوں سے بہتر ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے یعنی اموال موجودہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے والد نے وہ آپ کو دے دیا ہے؟ وہ اللہ اگر آپ ہاں کہہ دیں تو میں ضرور ضرور آپ کا قول قبول کروں گا اور ضرور ضرور آپ کی تصدیق کروں گا انہوں نے کہا میرے پاس حضرت امِ ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ رسول اللہﷺ نے فدک مجھے دیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا پھر آپ نے بھی آنحضرتﷺ کو فرماتے سنا کہ فدک آپ کے لیے ہے؟ اگر آپ کہیں دیں گی کہ میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ فدک آپ کے لیے ہے تو میں آپ کی تصدیق کروں گا حضرت فاطمہؓ نے کہا جو دلیل میرے پاس تھی اس سے میں آپ کو آگاہ کر چکی ہوں اس سے معلوم ہوا کہ حضرت امِ ایمنؓ کے کہنے پر ہی سیدہ فاطمہؓ نے مطالبہ کیا تھا اپنا ذاتی سماع از پیغمبر وثقہ یا کوئی شہادت نہ تھی ظاہر ہے کہ نصاب شہادت نہ تھا پھر آپ کے پاس نفی میراث پر حدیث ذاتی سماع سے تھی سیدہ فاطمہؓ کے پاس نہ تھی تو منصف عادل ثبوت اور تسلی کے بغیر اپنے سماع و علم کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتا تھا۔ 

قولہ 7: مؤلف کا دعویٰ ہے کہ حدیث خلافِ عقل ہے کیونکہ سب لوگ اپنے آباء کی میراث پائیں مگر اولاد انبیاء محروم رہے اور امت کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے تو جواب یہ ہے کہ انبیاء کے عالی رتبی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی وارث وقف عام ہو تاکہ کوئی وارث ان کی موت کی تمنا نہ کر سکے پھر ایسے اعمال جو نبوت اور حکومت کے زور سے حاصل ہوں وہ بیتُ المال کا حصہ ہوں اگر وہ بھی ورثاء میں تقسیم ہوں تو عقل کا فیصلہ ان کے زہد و للہیت کے خلاف ہوگا ہاں وہ امت کے رحم و کرم کے محتاج نہ ہوں گے بیتُ المال سے خوبصورت خمس یا فے سے ان کو حصہ باقاعدہ ملے گا اور وہ خلفاء ان کو دیتے رہیں گے پھر عام نفلی تبرع اور ہبہ میں ان کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ ان پر حرام ہیں تو شریعت کا فیصلہ ان کے متعلق معتدل ہیں۔ 

قولہ 8: مؤلف کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ فدک ذاتی تصرف میں لائے کسی روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ فدک کی آمدنی کو مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 

جواب: یہ ڈھٹائی سے دروغ محض ہے سیرت و تاریخ کا ایک ایک ورق بتاتا ہے کہ آپ حضورﷺ کے بعد زاہد ترین تھے بصورتِ خلیفہ جو رقم بیتُ المال سے مسلمانوں کے مجبور کرنے پر لی تھی وہ بھی وفات پر زمین بیچ کر واپس کرا دی بیتُ المال بھی سب تقسیم کر دیا تھا کوئی چیز باقی نہ تھی جب سیدنا عمر فاروقؓ نے حضورﷺ و سیدنا ابوبکرؓ کی تقسیم کا حوالہ دے کر صدقاتِ فدک کا ناظم و خازن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ و سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بنا دیا اور وہ خود بنو ہاشم کے علاوہ تمام فقراء و مساکین پر صرف کرتے تھے تو اس کا انکار دوپہر کے سورج کا انکار ہے۔

(طبقاتِ ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 40)

اردو میں ہے کہ وفات کے وقت ان کے پاس نہ کوئی دینار تھا نہ کوئی درہم صرف ایک خادم ایک دودھ والے اونٹنی دودھ دوہنے کا برتن تھا سیدنا عمرؓ نے اسے اپنے پاس لاتے دیکھا تو کہا اللہ سیدنا ابوبکرؓ پر رحمت کرے انہوں نے اپنے بعد والے کو مشقت میں ڈال دیا۔

9: کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ خود حضورﷺ نے اپنے باپ کی میراث پائی تھی اگر یہ استدلال تام نہیں ہے کیونکہ آپ اس وقت گو فی علم اللہ نبی مقرر تھے مگر بزعمِ خویش اور بالفعل نہ تھے تمام سنی اور شیعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ بعثتِ نبوی 40 سال کے بعد ہوئی پھر قرآن اترنا شروع ہوا اس سے قبل نبی کی حیثیت سے آپ نامور تھے نہ نبوت سے متعلقہ خصوصی احکام آپ پر جاری تھے بخدا اس کے مروجہ برائیوں سے آپ پاک دامن اور معصوم تھے۔

10: کہا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے خود اس حدیث کے خلاف کہ حضرت عمرؓ کو خلیفہ بنایا تو انہوں نے حضرت عباسؓ حضرت علیؓ کو اس کا متولی بنا دیا حالانکہ بطورِ وارث مالک بنانا اور ہے اور باحیثیتِ متولی و خازن تقسیم کا ذمہ دار بنانا اور ہے۔

 11: مؤلف کا دعویٰ ہے کہ حدیث نفی میراث لاوارث ہے اپنی نوعیت کی حدیث صرف حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور حضرت عائشہؓ سے مروی ہے اس کا شانِ نزول بھی معلوم نہیں حالانکہ اس کی سنی اور شیعہ کتب سے بالمعنیٰ تخریج ہم کرچکے ہیں۔ 

(طبقاتِ ابنِ سعد: جلد، 2 صفحہ، 413) 

اردو میں ہے سیدہ عائشہؓ حضرت عمرؓ بن الخطاب حضرت عثمانؓ بن عفان حضرت علیؓ بن ابی طالب حضرت زبیر بن العوامؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہے اس سے رسول اللہﷺ کہ مراد اپنی ذات تھی پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث لا يقسم ورثتی دنیا را ولا درهما پیش کی ہے اور سو نیک صحابی سے روایت بھی حجت ہے چہ جائیکہ وہ ایک اکابر جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے ہر آیت یا ہر حدیث کا شانِ نزول پایا جانا نہ ایمان و عمل کے لیے ضروری ہے نہ معلوم کرنا ممکن ہے اصول و کلیات بغیر شانِ نزول کے بیان ہوتے رہتے ہیں کسی خاص سببِ واقعہ کی ضرورت نہیں ہوتی برخلاف اس کے حدیث غدیر ولایت حضرت علیؓ سے شکایت کی ازالہ کے لیے ارشاد فرمائی گئی تھی حدیث منزلت ان کی تسلی کے لیے اور ہاں ثقلین قرآن و سنت بطورِ وصیت ارشاد فرمائی گئی تھی۔

12: مؤلف کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اہلِ بیتؓ کا خمس بند کر کے رسول کے خلاف کیا۔ 

جواب: یہ مغالطہ ہے ورنہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سب سہمِ ذو القربیٰ (خمس الخمس) کو حضورﷺ کے اقرباء اور بنی ہاشم میں تقسیم کرتے تھے اور تقسیمِ خمس کے متولی سیدنا علی المرتضیٰؓ ہوتے تھے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے حضورﷺ سے درخواست کی آپ ہمارے حق خمس پر مجھے والی بنا دے تو میں آپ کی زندگی میں تقسیم کروں تاکہ آپ کے بعد ہم سے کوئی جھگڑا نہ کرے تو حضورﷺ نے مجھے والی بنا دیا تو میں نے آپ کی زندگی میں سے تقسیم کیا ہے۔ 

صفحہ 23 از 26