ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 22 از 26

4 قولہ: اس فیصلے سے اہلِ بیتؓ کو اذیت پہنچی عمِ رسول حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس فیصلہ کو کاذب آثم غادر اور خائن منصف کا فیصلہ قرار دیا دامادِ رسول حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے ہرگز قبول نہ کیا۔ 

جواب: اتفاقاً کسی بزرگ کے قول و فعل سے کسی بزرگ کو صدمہ پہنچنا قابلِ طعن نہیں ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے اور حضرت ہارون علیہ السلام کے فہمائش کے سوا کوئی سخت اقدام نہ کرنے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صدمہ ہوا اور بھائی پر گرفت فرمائی۔ (القرآن) 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو شادی کے بعد بروایتِ جلاء العیون شکایات پیدا ہوئی حضرت حسین قیس بن شہد اور دیگر شیعانِ حسنؓ کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے فیصلہ صلح بیعت سے ناگواری اور اذیت ہوئی مگر کسی پر کوئی طعن نہیں کیا جاتا یہاں پہ طعن کا موقع نہیں بقول مجلسی بزرگوں اور مقربان الہی کے معاملات میں دخل نہ دینا چاہیئے۔ (جلاء العیون) 

دوسری بات بالکل بہتان محض ہے مسلم کی روایت کے مطابق یہ الفاظ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمائے جب کہ دونوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے صدقاتِ فدک تقسیم کرنے میں متولی تھے مگر مزاج کے اختلاف سے نزاع اور مخالفت کی نوبت آجاتی تو حضرت عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے مطالبہ کیا کہ مجھے اس شخص سے چھٹکارا دلائیے یعنی میرا حصہ تولیت الگ کر دیجئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے منظور نہ کیا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ مستعفیٰ ہوگئے سیدنا علی المرتضیٰؓ تنہا صدقات کے متولی اور قاسم قرار پائے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چچا بھتیجے کی جب یہ تلخی دیکھی اس مطالبہ کو شخصی میراث اور تملیک کے مشابہ سمجھا اور مطالبہ رد کر کے استفہامیہ انداز میں کہا کہ کیا تم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایسا ایسا سمجھتے تھے کیا اس نے بطورِ وارث و ملک تقسیم نہ کیا تھا حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ بار راشد تابع الحق تھے کیا تم مجھ کو ایسا جانتے ہو حالانکہ میں بھی رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ولی اور تابع ہوں خدا کی قسم میں تا قیامت ان کے فیصلے کو ہرگز نہیں بدل سکتا اگر تم مشترکہ متولی نہیں رہ سکتے تو یہ مجھے واپس کر دو میں کسی اور کو متولی بنا دوں گا ابو داؤد و مسلم یہاں معناً حرف استفہام مقدر ہے جیسے سورۃ انعام: پارہ، 7 میں قوم کے ساتھ گفتگو میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ کلام میں حرف استفہام مقدر مانا جاتا ہے یہ سورج میرا رب ہے یہ چاند میرا رب ہے یہ ستارے میرے رب ہیں یعنی کیا یہ چیزیں میرے خدا ہیں ہرگز نہیں تو اسی طرح مقولہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مطلب ہے کیا تم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یا مجھ کو ایسا ایسا سمجھتے ہو کہ اس فیصلہ کے خلاف کروانا چاہتے ہو ہرگز ایسا نہ ہوگا زوجِ بتول سیدنا علیؓ نے یہ فیصلہ یقیناً قبول کیا تبھی تو حضرت فاروقِ اعظمؓ کے نائب ہو کر صدقاتِ فدک کے متولی اور قاسم بنے اگر نہ مانتے تو یہ عہدہ کیوں قبول کرتے منکر و مستعفیٰ ہو جاتے۔ 

قولہ 5: مسلمانوں کے مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو یہ چاہیئے تھا کہ کہ وہ دیگر مقدمات کی طرح اس مقدمہ کو بھی دیگر صحابہؓ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورہ سے کسی فرد عادل صحابی کو غازی مقرر کر دیتے جو اس تنازعہ پر اپنا فیصلہ صادر کرتا۔ 

جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورہ اور اتفاق سے یہ کام کیا جیسے ابھی گزرا تو اس بے فائدہ نفاظی کا کوئی فائدہ نہیں ہاں یہ دعویٰ اور مطالبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل اور حقانیت پر مہر فاطمی ثبت کر رہا ہے کیونکہ جب وہ مدعا علیہ تھے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دعویٰ حضرت علیؓ حق کی عدالت میں یا مسلمانوں کے کسی عدالتی پنج میں کرنا چاہیئے تھا مدعی مقدمہ کا فیصلہ مدعیٰ علیہ کے دربار سے کرائے عقل و دانش کے خلاف ہے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ عمل کیا حالانکہ ظالموں سے فیصلہ کرانے کی کتب شیعہ میں ممانعت ہے اور حضرت فاطمہؓ ان کے ہاں معصوم ہیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خلیفہ راشد عادل برحق ہونا ثابت ہوا۔

قولہ 6: ہم کہتے ہیں نصابِ شہادت کی ضرورت وہاں ہوتی ہے دعویٰ کی تردید کرنے والا کوئی دوسرا موجود ہو اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بالفرض محال مدعا علیہ نہ تھے بلکہ میں قاضی تھے تو اب شہادت کے نصاب کی قطعاً ضرورت باقی نہیں رہی صرف عادل منصف کو اپنی تسلی درکار ہے۔ 

جواب: دراصل مدعا علیہ سب سے فقراء مساکین اور مسافر مسلمان تھے ان کا حق اس دعویٰ سے متاثر ہوتا تھا بحیثیتِ ولی و سربراہ حضرت ابوبکرؓ ان کے نمائندے و فریق تھے اب نصابِ شہادت کی باقاعدہ ضرورت تھی اور وہ پوری نہ ہوئی اور عادل منصف کو درکار تسلی حاصل نہ ہوئی طبقات ابنِ سعد: جلد، 2 صفحہ، 415 اردو تبع نفیس اکیڈمی کراچی سے ملاحظہ ہو: 

صفحہ 22 از 26