ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 21 از 26

2: قولہ: یہ فیصلہ فطرت کے فیصلوں کے بھی خلاف ہوا اور عقل و دانش کی کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتا۔

جواب: یہ ہوائی گپ ہے اور پورا رسالہ اسی ہوا سے بھرا ہوا غبارہ ہے جو احمقوں کی نگاہ میں اُڑ تو سکتا ہے مگر کتاب اللہ سنت نبویﷺ عمل اہلبیتؓ اور عقل سلیم کے سامنے پرِ کاہ کا وزن نہیں رکھتا فطرۃ اللہ کا فیصلہ مال فے کی ذوی القربیٰ غرباء، مساکین اور مسافروں میں تقسیم کا بے عقل و دانش کی کسوٹی انبیاء اور اہلبیت رضی اللہ عنہم کو زاہد بتاتی ہے جاگیردار ہو تاکہ اگر وہ نہ ملے فقراء و مساکین کا حق بنا دیا جائے تو پوری امت سے دشمنی رکھ لی جائے۔

3: قولہ: اس فیصلہ کو نہ ہی کتاب خدا سے کوئی تائید حاصل ہے نہ ہی سنتِ رسول سے توثیق میسر آتی ہے یہ وہ فیصلہ ہے جس کے خلاف خود منصف نے عمل کیا اس فیصلہ کو اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسترد کر دیا۔

جواب: تینوں دعوے بالکل جھوٹ اور بہتان ہیں (سورۃ الحشر: پارہ، 28) کی آیات پھر دیکھ لیں کہ مالِ فے فدک وغیرہ 8 قسم کے لوگوں کا حق ہے کسی فرد واحد کی میراث و ملکیت نہیں:

كَىۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ‌ الخ۔ (سورۃ الحشر: آیت، 7)

ترجمہ: تاکہ وہ اموال و جاگیریں تمہارے غنیوں کے درمیان نہ پھرتی رہیں۔

وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَالۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ الخ۔ (سورۃ الاسراء: آیت، 26)

ترجمہ: آپ رشتہ داروں کو حق الخدمت دیں اور مساکین و مسافروں کو بھی دیں بھی یہی بتاتی ہے کہ مال فے صرف ذوی القربیٰ کا حق نہیں کہ ان کو ہی ہبہ کردو کہ وہ مسکینوں مسافروں کا بھی حق ہے جب وہ لاتعداد اور غیر معین ہیں تو یہ ذوی القربیٰ کو ہبہ کے بجائے تینوں اقسام پر وقف عام قرار پائے گا اور یہی فیصلہ خود حضورﷺ نے اور حضراتث شیخینؓ نے کیا اب مؤلف اپنی ہی تحریر اور روایت سے یہ فیصلہ پڑھیں جسے سچا کہتے ہیں اے فاطمہؓ تم نہ اپنے حق سے روکی جاؤ گی اور نہ سچ بولنے سے باز رکھی جاؤ گی خدا کی قسم میں نے نہ تو رسولِ خداﷺ کی رائے سے تجاوز کیا اور نہ ان کے حکم کے بغیر کوئی کام کیا آبِ ودانہ کی تلاش میں آگے جانے والا اپنے اہلُ و عیال سے جھوٹ نہیں بولتا میں خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں اور وہ گواہی کے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول خداﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم گروہِ انبیاء نہ تو سونے چاندی کو میراث میں چھوڑتے ہیں اور نہ مکان جائیداد، ہم نبی لوگ تو کتاب حکمت علم نبوت کو وارثت میں چھوڑ جاتے ہیں اور جو کچھ ہمارا مال ہوتا ہے وہ ہمارے بعد ولی امر حاکم کا ہوتا ہے جیسے کافی کی حدیث بھی گزر چکی ہے اسے اختیار ہے کہ وہ اس میں اپنا حکم جاری کرے اور جو تم مانگ رہی ہو یعنی فدک اس کو ہم نے جنگی گھوڑوں اور سامان جنگ کے لیے مخصوص کر دیا جس کے ذریعے سے مسلمان کافروں سے جہاد کریں گے اور سرکش فاسقوں کا مقابلہ کریں گے اور یہ چیز میں نے تنہا اپنی رائے سے نہیں کی بلکہ مسلمانوں کی اجماع کی مدد سے کی ہے اور میرا مال آپ کا مال ہے اور آپ کے سامنے حاضر ہے آپ کی فضیلت کا انکار نہیں ہوسکتا آپ کے فرع و اصل کو پست نہیں سمجھا جاسکتا آپ کا حکم اس مال میں نافذ ہے جو میری ملکیت ہے پس کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں نے ان باتوں میں آپ کے والد محترم کی مخالفت کی ہے یہ شیعہ روایت صدیق کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آپ نے مجمع عام میں واضح کیا کہ میں نے حضورﷺ کے قول و فعل کے ذرہ بھر بھی خلاف نہیں کیا اور سب مسلمان اسی کی تائید کر رہے تھے تبھی تو روایت شیعہ حضرت فاطمہؓ نے (معاذ الله) فرمایا کیا تم لوگوں نے اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ باندھ کر اس کے ذریعہ دغا بازی کا اجماع کر لیا ہے پھر جب اس کے جواب میں سراپہ رأفت و رحمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا بھی سچا اللہ کا رسول بھی سچا اور رسول کی بیٹی بھی سچی تم حکمت کا معدن ہدایت و رحمت کا مسکن دین کا رکن ہو تمہارے درست باتوں کو حق سے دور نہیں سمجھتا اور تمہارے کلام کا انکار نہیں ہے لیکن میرے اور تمہارے درمیان یہ مسلمان ہیں جنہوں نے مجھے حاکم بنایا اور میں نے جو کچھ اپنے قبضے میں لیا ہے وہ انہی مسلمانوں کے اتفاق سے ہوا ہے اس میں نہ میں نے ہٹ دھرمی کی ہے اور نہ اپنی رائے سے کام لیا ہے اور یہ لوگ اس کے گواہ ہیں۔

(ایضاً صفحہ، 38 و حق الیقین: جلد، 2 صفحہ، 53) اس کے جواب میں جو جلی کٹی اور سخت سست صلاتیں سیدہ فاطمہؓ نے معاذ اللہ بروایت شیعہ مسلمانوں کو سنائیں ہمارے قلم میں ان کے نقل کرنے کے تاب نہیں پھر ان مسلمانوں میں آپ کے بزرگوار خاوند اسد اللہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے وہ خیر سے آج تو باعتقادِ شیعہ ہر فاسق و فاجر شیعہ کے مددگار و مشکل کشا ہیں جو ان کو اپنے گناہوں کی پاداش میں پھنس کر بھی مصیبت میں پکارے مگر انہوں نے مخدرہ مظلومہ لختِ جگر رسولﷺ کی زوجہ ہونے کے باوجود مدد و اعانت نہ کی تھی حتیٰ کہ تنہا ان مجمعوں سے خطاب کر کے جب سیدہ گھر پہنچی تو گرجتی ہوئی شیرنی کی طرح سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جو کچھ برا بھلا کہا وہ بھی شیعہ روایات و حق الیقین: جلد، 2 صفحہ، 54 سے ہم نقل کرنے کی جرأت نہیں رکھتے ہمارا مقصد یہ شیعہ اقتباسات نقل کرنے سے صرف یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کہ دعویٰ کی تائید کسی مسلمان نے نہیں کی اور شیعہ کے تینوں دعوے غلط ثابت ہوئے کیونکہ کتاب و سنت کے بعد سب کا اکابر وساغر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تائید و حمایت کی یہ تو سب کچھ شیعہ روایات نے بتایا جبکہ ہمارا موقثف یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمان۔ رسولﷺ سن کر فیصلہ پر مطمئن اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے راضی مسلمانوں سے خوش اور فدک معین حصہ کے ملنے پر راضی و شاکر تھیں یہ خطبہ بالا اور غیر اخلاقی نہ شایانِ شان گفتگو آپ پر بہتان محض ہے جو دشمن اسلام و اھلبیت شیعوں نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دینے سیدہ فاطمہؓ کو بے وقار اور طالبِ دنیا بتانے کے لیے خود بنا کر اپنی کتب میں مشہور کیا۔ (معاذ اللہ)

صفحہ 21 از 26