ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 20 از 26

قلت هذا باطل ولو كان وقعہ ذالك لما جاءت فاطمة تطلب شيئا وهو فی حوزها و ملكها۔

(جلد: 2 صفحہ، 283 تحت علی بن عباس)

ترجمہ: میں کہتا ہوں یہ باطل ہے اگر یہ ہوچکا ہوتا تو سیدہ فاطمہؓ کچھ مانگنے نہ آتیں جب کہ وہ آپ کی تحویل و ملکیت نہیں تھا۔

کتبِ اہلِ سنت کی طرف نسبت کر کے ہبہ فدک کے بارے میں جو روایات شیعہ علماء نے اپنی کتب مناظرہ میں نقل کی ہیں ان کی تفصیل علامہ نواب مہدی علی خان سابق شیعہ مجتہد نے آیاتِ بینات میں بحثِ فدک میں پیش کی ہے واللہ درہ وہ پوری سند اور رواۃ کی تفصیل والی 4 روایات بتاتے ہیں اور بعض سند کے ساتھ یا صرف منقول عنہ کا ذکر کرنے والی 5 روایات بناتے ہیں، پھر ہر راوی کا کتب رجال سے شیعہ کمزور یا کذاب ہونا بتاتے ہیں ان سب کا سرا اور ماخذ عطیہ از ابو سعید ہے وہ ابوسعید سے حضرت ابو سعید خدریؓ کا وہم دلاتا ہے اور بعض راویوں نے غلطی سے اسے خدری سمجھ لیا حالانکہ یہ کلبی کذاب شیعہ ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال میں ہے محمد بن السائب کلبی ابوالنصر اخباری حساب مفسر مشہور ہے ثوری کہتے ہیں کلبی سے بچو بخاری کہتے ہی اسے یحییٰ اور ابنِ مہدی نے چھوڑ دیا ہے یزید بن زریع کہتے ہیں کلبی سبائی تھا جو حضرت علیؓ کی وفات کے قائل نہیں دوبارہ رجعت کے قائل ہیں ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں ہشام بن کلبی کے ذکر میں اس کے باپ کو رافضی لکھا ہے یاقوت حموی نے معجم الادبار میں محمد بن جریر طبری کی کتابوں کے حال میں لکھا ہے طبری نے غیر معتبر تفسیروں سے تعرض نہیں کیا کہ اس نے محمد بن سائب کلبی مقاتل بن سلیمان اور محمد بن عمر واقدی کی کتابوں سے تفسیر نہیں لی کیونکہ یہ لوگ اس کے نزدیک مشکوکین سے ہی محمد طاہر گجراتی نے تذکرہ الموضوعات میں کلبی کی نسبت لکھا ہے کہ امام احمد نے کہا کلبی کی تفسیر از اول تا آخر جھوٹی ہے دیکھنا بھی جائز نہیں ایک روایت حضرت ابنِ عباسؓ سے نقل کی جاتی ہے مگر وہ بھی بلاسند ہے اور در منثور تو طبقہ چہارم کی کتاب ہے جس میں صحیح ضعیف موضوع ہر قسم کی روایات ہیں بہرحال ایسی ہر روایت معیار صحت پر جانچے بغیر حجت نہیں ہے۔

اس کے بر عکس سب کی نفی پر اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی یہ مشہور روایت شاہد ہے۔

کہ درک رسول اللہﷺ کے قبضے میں آیا تھا آپ اس میں سے خرچ کرتے بنی ہاشم کے چھوٹے ناداروں پر لوٹاتے اور ان کے بیواؤں کی شادیاں کراتے تھے سیدہ فاطمہؓ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کو دے دیں تو آپ نے انکار کیا تو رسول اللہﷺ کی زندگی میں اس دستور پر بنو ہاشم اور فقراء و مساکین میں تقسیم ہوتا رہا یہاں تک کہ آپﷺ مسافر آخرت ہوگئے پھر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اپنی زندگی میں وہی عمل جاری رکھا جو رسول اللہﷺ نے کیا تھا یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئے پھر جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی وہی عمل جاری رکھا جو حضورﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کیا تھا یہاں تک کہ وہ بھی چلے گئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی یہی دستور جاری رکھا، پھر مروان نے اپنے دور میں اسے اپنا قطعہ بنایا پھر یہ عمر عبد العزیزؒ کے قبضے میں آگیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ جو چیز رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہؓ سے روکی تھی میرا بھی اس پر کوئی حق نہیں ہیں میں تم کو گواہ بناکر اسے اسی طرز پر لوٹاتا ہوں جس پر رسول اللہﷺ کے زمانے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھا۔ 

(ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 59 مشکوٰۃ: صفحہ، 356)

یہ روایت گو مرسل ہے اور مرسل حدیث جمہور علماء کے نزدیک حجت ہوتی ہے چونکہ یہ مجمع عام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے فاضل خلیفہ راشد نے بیان کی کسی نے اختلاف بھی نہیں کیا تو یہ حکماً متصل اور مرفوع کے قائم مقام ہے اس سے واضح ہوا کہ: 

1: فدک حضورﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ نہیں کیا تھا بلکہ طلب کے باوجود نہ دیا جیسے خصال بن بابویہ: صفحہ، 39 کی شیعہ حدیث بھی گزری۔

حضراتِ شیخینؓ وغیره خلفاءث اسلام نے طریقہ نبی کریمﷺ نہیں بدلایا نہ اہلِ بیتؓ و بنو ہاشم کے مالی حقوق بند کیے بلکہ بدستور ان کو دیتے رہے۔

 ایک لغو رسالہ کا جاںٔزہ:

بحمد اللہ وعونہ ہم نے مسئلہ فدک پر سیر حاصل بحث کر کے ہر پہلو کو روشن کردیا شیعہ مؤلفین کے اعتراضات کا منبع بند کر دیا ایک صاحب نے مقدمہ باغِ فدک پر افسانوی رنگ میں قلم کاری کی ہے بقول اس کے اس کتاب میں انتہائی رواداری و شائستگی کے ساتھ حضراتِ شیخینؓ پر تنقیدی قلم کاری کی گئی ہے یہی نہیں بلکہ بے اصولی ثقلین کی خلاف ورزی بد تہذیبی دروغ گولی اور بے فائدہ لایعنی باتوں کے تکرار میں اپنی مثال آپ ہے کہ وہی مجرم وہی مصنف کا آئینہ ہے اس کی اکثر باتوں کا جواب آگیا کچھ ہفوات لائق توجہ ہی نہیں آخر میں بطورِ خلاصہ کتاب جو دعا دی اس نے بزعمِ خویش ثابت کیے ان سے اور چند اہم باتوں سے ہم آپ کو متعارف کرا دیتے ہیں۔

1: قولہ: الغرض ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکرؓ کا مقدمہ فدک میں صادر کردہ فیصلہ نہ ہی اخلاقی لحاظ سے درست تھا نہ ہی قانونی مراتب سے۔

جواب: سبحان اللہ گالیوں اور لعن طعن کو مذہب بنانے والے اور کتاب و سنت چھوڑ کر اپنے دین کے منبع ائمہ سے ان طعن کی ہی تعلیم پانے والے لوگ اہلِ سنت اور ان کے اکابر کو اخلاقی لحاظ سے نادرست بناتے ہیں درج ذیل مکالمہ سے آپ خود فیصلہ کر لیں کہ کس کا اخلاق درست ہے۔

حضرت فاطمہؓ نے فرمایا قسم بخدا میں ہرگز تجھ سے کلام نہ کروں گی حضرت ابوبکرؓ نے کہا واللہ میں ہرگز تجھ سے دوری اختیار نہ کروں گا سیدہ فاطمہؓ نے کہا واللہ میں خدا کے حضور تجھ پر نضرین کروں گی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ میں تمہارے لیے دعا کروں گا۔ 

(حق الیقین از شیعہ علامہ مجلسی: جلد، 2 صفحہ، 56) 

بغض و قطع رحمی کا کتنا بڑا بہتان سیدہ فاطمہؓ پر شیعہ نے لگایا مگر سیدنا ابوبکرؓ کا تو مقرب سیدہ فاطمہؓ اور دعاگو ہونا خود روایت کیا قانون کتاب و سنت کا نام ہے اسی کے مطابق آپ نے فیصلہ کیا۔

صفحہ 20 از 26