ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 26

در حقیقت اسلام بڑے اونچے مقاصد لے کر اس دنیا میں آیا تھا رسول اللہﷺ نے جو طریق حکومتِ رواج دیا تھا اس میں امیرِ ملت یا حاکمِ اعلیٰ کی وراثت کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا البتہ اگر رسول اللہﷺ اپنے باپ یا دادا سے کوئی جائیداد پاتے اور یہ جائیداد نبی کی حیثیت سے نہیں ایک عام فرد کی حیثیت سے انہیں ملتی تو بات شاید الگ ہوتی تو شاید حضرت ابوبکرؓ حضرت فاطمہؓ کے مطالبہ کو رد نہ کرتے بہت ممکن تھا بلکہ یقیناً ایسا ہوتا کہ رسول اللہﷺ یہ جائیداد بیچ کر مستحق مسلمانوں کو کھلا دیتے اور وصال کے وقت اپنے پیچھے کچھ چھوڑ نہ جاتے اور باغِ فدک اور خیبر کی بعض زمین تو رسول اللہﷺ کو مسلمانوں کے حاکم ہونے کی حیثیت سے ملی تھی اور اگر وہ زمینیں اپنی بیٹی یا اپنے نواسوں اور دوسرے عزیزوں کے لیے مخصوص کر جاتے تو ان میں اور دوسرے حکمرانوں میں کیا فرق رہتا۔

سیدہ فاطمہؓ نورِ ملت اور جانِ ملت ہیں سیدہ فاطمہؓ ہم سب کی آنکھوں کا تارا ہیں ان کی محبت جزو ایمان ہے لیکن اسلام کے عظیم مقاصد اس محبت کے باوجود مقدم ہیں اور اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ سے کہا تھا یہ باغِ فدک میرے تسلط میں اس طرح رہے گا جس طرح رسول اللہﷺ کے تسلط میں تھا اور میں اسے اس طرح خرچ کروں گا جس طرح رسول اللہﷺ سے خرچ کرتے تھے۔ 

(ابنِ کثیر جزہ: صفحہ، 289)

اور تاریخ نے جو کسی کے عیوب و محاسن نہیں چھپاتی اور ہر عیب کو ظاہر کر دیتی ہے حضرت ابوبکرؓ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے باغِ فدک یا کسی اور زمین کی پیداوار اپنے اوپر صرف کی ہو گو انہوں نے باغِ فدک اور دوسری زمینیں اپنے قبضے و تولیت میں لے لی تھیں لیکن ان کی پیدوار اپنے اوپر حرام کرلی تھی۔

وہ جس طرح کی زندگی گزارتے تھے اس کی تفصیل آگے آئے گی یہاں صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہﷺ کی وراثت کے باب میں وہی مسلک اختیار کیا جو اسلام کا منشاء تھا انہوں نے وہی راہ اختیار کی جو اسلام کے پہلے حاکمِ اعلیٰ کو منظور و محبوب تھی۔

اور یہ راہ اختیار کرتے وقت انہوں نے رسول اللہﷺ کے ارشاد سے سند بھی لی تھی انہوں نے حضورﷺ کا ارشاد سیدہ فاطمہؓ اور دوسرے لوگوں کو سنا دیا تھا اور ان سے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا: 

فرءیت ان ارده علی المسلمین۔

ترجمہ: میرا خیال ہے کہ میں اسے مسلمانوں کو لوٹا دوں۔

انہوں نے اپنا یہ خیال پورا کیا اور فدک اور خیبر کی مخصوص آمدنی مسلمانوں کے تصرف میں لائے اور یہ باغِ فدک اور دوسرے اموال رسول اللہﷺ کی زندگی میں حضورﷺ کے ذاتی اور قومی تصرف میں آیا کرتے تھے جن میں سے بنی نظیر کے اموال بھی تھے۔

مؤرخ ابو عبید نے اس سلسلہ میں حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے جس کے الفاظ ہیں:

كانت اموال بنی نضير مما افاء الله على رسوله مما لا يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب فكانت الرسول الله خاصة فكان ينفق منها على أهله نفقة سنة وما جعله فی الكراع والسلام عدة فی سبيل الله۔ 

(مسلمان حکمران: صفحہ، 32، 33، 34 مؤلفہ رشید اختر ندوی مطبوعہ احسن برادرز لاہور)

ترجمہ: کہ بنو نضیر کے اموال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی گھڑ دوڑ اور لشکر کشی کے بغیر حضورﷺ کو بطورِ فے دیے تھے تو یہ حضورﷺ کے خاص تصرف میں تھے آپ سال کا خرچہ اپنے گھر والوں پر اس سے کرتے اور بقیہ کو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری میں ہتھیار وغیرہ سامان پر خرچ کرتے تھے۔

شیعہ حضرات حضرت فاطمہؓ کی مفروضہ ناراضگی کو بہت اچھالتے ہیں تو گزارش یہ ہے سیدہ فاطمہؓ کی اپنی زبانی واقعہ کی تفصیل یا ناراضی کا اظہار اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب میں نہیں ملتا چونکہ خوشی یا ناراضی دل کا فعل ہے عام راوی اسے بطورِ ظن ہی بیان کرسکتا ہے چنانچہ بعض رواۃ اہلِ سنت نے خاموشی کو ناراضی پر محمول کیا اور اسی بناء پر ناراضی بعض روایات میں منقول ہے۔

2: دس تمہیدات:

اس سے قطعِ نظر کہ غضبت جیسے ثبت ناراضی الفاظ راوی کے مدرج الفاظ میں جیسے عنقریب بیان ہوگا قابلِ توجہ بات اس قدر ہے: 

اولاً:  کہ قرنِ اول کے دو بڑے بزرگوں پیغمبرﷺ کے خاص رشتہ داروں میں اتنا سا فکری یا نظریاتی اختلاف کیا اس بات کا جواز مہیا کرسکتا ہے کہ اس پر اصولی اختلاف کی طرح ڈال کر امتِ مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے خود حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم نے تو حدیثِ میراث اور عملِ صدیقی کی تغلیط نہیں کی قصہ فدک میں بدستور وہی طریقہ جاری رکھا جو پیغمبر اعظمﷺ اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے قائم کیا تھا پھر بعد میں آنے والے لوگوں کو انتشار و اختلاف برپا کرنے کا کیا حق ہے؟

ثانیاً: سیدہ فاطمہؓ جیسی عابدہ زاہدہ بتول سے عقلاً کیا ممکن ہے کہ وہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے حدیث پیغمبرﷺ سن کر ناراض ہو جائیں یہ ادنیٰ مسلمان کی بھی شان نہیں ہوسکتی بالفرض اگر وہ حدیث آپ کے خیال میں درست نہیں تو برملا اس کا انکار کر کے اس کے برعکس قرآن و سنت سے ان کو قائل کریں اور اس کا ثبوت کتبِ معتبرہ فریقین سے ہونا چاہیئے خاموشی تو علامت رضا ہی ہے۔ 

ثالثاً: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے افضل صحابی ہی نہیں بلکہ حضرت فاطمہؓ کے رشتہ میں نانا بھی ہیں حضورﷺ کے یارِ قدیم اور صاحبُ الغار بھی ہیں عمر بھر جان و مال سے حضورﷺ کی خدمت و نصرت کی سیدہ فاطمہؓ کے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے رشتہ کے محرکِ اول حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ ہی ہیں آپ کا جہیز خرید کر لانے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں نکاح کے اہم شاہد بھی ہی حضراتِ ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں بلکہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے گھریلو تنازعات کو نمٹاتے وقت بھی حضورﷺ حضراتِ شیخینؓ کو شاہد بناتے تھے سب امور کے لیے قصہ تزویج ملاحظہ ہو: 

(کشف الغمہ و جلاء العیون)

کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا متعلق عقل سلیم کسی بھی درجے میں یہ باور کرسکتی ہے کہ آپ اپنے بڑے محسن رشتہ دار پر صرف تولیت فدک نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہوگئی ہوں اور تازیست کلام نہ کی ہو۔

صفحہ 2 از 26