ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 19 از 26

اولاً: ہبہ اور میراث دو متضاد باتیں ہیں معاً جمع ہو ہی نہیں سکتیں ہبہ کا معنیٰ یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنی ملکیت سے خارج کر کے سیدہ فاطمہؓ کی ملکیت اور قبضے میں دے دیا اگر واقعی ہبہ تھا تو وراثت کا سوال کیسے؟ یہ تو اس مال میں ہوتا ہے جو موروث عنہ کی تا وفات ملکیت میں ہو اور اگر حضورﷺ کی ملکیت میں کہا اور سوال وراثت درست تھا تو ہبہ کی کہانی خود بخود لغو ہوئی کیونکہ ایک چیز معاً دو ملکیتوں میں متضاد اسباب سے جمع نہیں ہوسکتی۔ خلافا للشركة فانها بسبب واحد بعض شیعہ اسے حصول مقصد کی خاطر عنوان بدلنے سے تعبیر کرتے ہیں۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے ساتھ مناظرہ میں ایک دلیل میرا رب مارتا جلاتا ہے چھوڑ کر دوسری دلیل میرا رب سورج مشرق سے لاتا ہے تو مغرب سے لا پیش کی مگر یہ نری جہالت ہے یہاں دونوں دلیلیں خدا کی صفت ہیں ان میں تضاد نہیں دلیلِ ہبہ اور دلیلِ میراث میں ذاتی تضاد ہے۔ فافترقا۔

ثانیاً: اگر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خاوند بیٹے اور اپنی باندی کی گواہی نصاب نامکمل ہونے کی وجہ سے مسترد کردی تو یہ قرآنی اصول شہادت

وَاسۡتَشۡهِدُوۡا شَهِيۡدَيۡنِ مِنۡ رِّجَالِكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُوۡنَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٌ وَّامۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت 282)

ترجمہ: پس تم مردوں سے دو گواہ بناؤ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہونی چاہیں جن گواہوں کو تم عادل پسند کرو پر عمل کیا سیدہ فاطمہؓ اور اس کے گواہ سچے سہی مگر قاضی ظاہر قانون پر فیصلہ دیا کرتا ہے قاضی کے ذاتی علم پر فیصلہ بعض مخصوص حالات میں ہوتا ہے قاضی شریح نے ایک یہودی سے نزاع میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جیسے سچے کا نہ دعویٰ تسلیم کیا نہ حضراتِ حسنینؓ کی گواہی مانی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بادل نخواستہ نہ صرف فیصلہ تسلیم کیا بلکہ قاضی کو اپنے منصب پر برقرار رکھا۔ (کشف الغمہ)

چنانچہ یہ اصول پسندی دیکھ کر یہودی مسلمان ہوگیا آج مسئلہ فدک کی مثال سے مسلمان اپنے قانون کی عظمت تاریخ سے سربلند کر سکتے ہیں۔

ثالثاً: ہبہ اور عطا کے متعلق روایات ہماری مستند امہات کتب میں نہیں بلکہ بعض کتب تاریخ میں چھان بین کے بعد بلا سند یا منقطع و مردود و سندوں کے ساتھ ان کا پتہ چلتا ہے مگر اس اہم مسئلہ پر ان سے استشہاد نا انصافی ہی ہے اس سلسلہ کی اصل سب سے زیادہ مشہور روایت وہ ہے جو تفسیر در منثور کنز العمال مسند ابو یعلیٰ اور مجمع الزوائد میں سورت اسراء کی آیت وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حقہ کے تحت تفسیر روایت کی گئی ہے۔

عن ابی سعيد الخدریؓ قال لما نزلت ھذہ الآیۃ وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حقه دعا رسول اللهﷺ‎ فاطمةؓ فاعطاھا فدك عن ابن عباسؓ قال لما نزلت وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حقه اقطع رسول اللہ فاطمۃؓ فدکا۔ 

(تفسیر در منثور: جلد، 4 صفحہ، 177)

حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ جب آیت وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى اتری تو حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو بلا کر فدک دیا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری تو سیدہ فاطمہؓ کو حضورﷺ نے جائداد دے دی حالانکہ آیت مکی ہے فدک کا تصور وجود ہی نہ تھا پھر آیت پر عمل کی شکل میں چاہیئے کہ مسکین اور ابن السبیل کو بھی مخصوص جائداد دی جائے جب یہ نہیں ہوا تو پہلا بھی نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ یہ روایت حضرت ابو سعید خدریؓ سے نقل کی جاتی ہے جیسا کہ در منثور کنز العمال اور مجمع الزوائد میں ہے اور سیدنا ابو سعیدؓ سے راوی عطیہ عوفی ہے یہ مشہور مدلس ہے یہ محمد بن سائب کلبی کا شاگرد خاص تھا اور وہ مشہور کذاب تھا یہ اس کی کنیت ابو سعید رکھتا تھا پھر جب کلبی کی صراحت کیے بغیر عن ابی سعید کہتا تو لوگ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہی سمجھتے اور صحابی سے روایت کرتے حالانکہ یہ دجل و تلبیسں عطیہ عوفی کا کرشمہ ہے میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 201 عطیہ عوفی کے ترجمہ میں ہے۔

قال سالم الموادى كان عطية یتشیع ضعیف الحدیث وقال احمد بلغنی ان عطیۃ کان یأتی الکلبی فیاخذ عنه التفسیر وکان یکنیه بابی سعید فیقول قال ابو سعید فیوھم انه الخدری۔

ترجمہ: سالم مرادی کہتے ہیں عطیہ شیعہ تھا امام احمد اسے ضعیف الحدیث کہتے ہیں، نیز کہتے ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ عطیہ کلبی کے پاس آتا تھا اس سے تفسیر لیتا اور اس کی کنیت ابوسعید مشہور کرتا تھا جب کہتا ابو سعید نے فرمایا تو یہ وہم ہوتا کہ ابو سعید خدری صحابی مراد ہیں۔

امام نسائی اور ناقدین اںٔمہ کی جماعت اسے ضعیف کہتی ہے فریقین کے ہاں عطیہ عوفی شیعہ مسلم ہے

شیعہ علامہ مامقانی کی تنقیح المقال فی احوال الرجال: جلد، 2 صفحہ، 253 پر ہے:

عطية عوفی كوفج من اصحاب باقرؒ۔

ترجمہ: عطیہ عوفی کوفی تھا سیدنا باقرؒ کے شاگردوں سے تھا۔

تو متنازعہ فیہ مسئلہ میں ایسے راوی کی روایت بالکل مردود ہے۔ جب یہ سیدنا باقر کا شاگرد ہے تو حضرت ابو سعید خدریؓ کے زمانے میں شاید اس کا والد بھی نہ ہو۔

فتوح البلدان بلاذری بحث فدک میں جو عطاء فدک کے متعلق مذکور ہے اور صواعقِ محرقہ شرح مواقف معجم البلدان کے متاخر مؤلفین تو محض ان کتب قدیمیہ سے بلا سند نقل کردیتے ہیں اس سے روایت کی صحت تو ثابت نہیں ہوتی وہ رواۃ کے اعتبار سے مجروح ہیں قبیح السند نہیں کنز العمال میں جو روایت ہے اس کا ایک راوی محمد بن میمون ہے جس کو حافظ ذہبی نے مندرجہ ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے

ابراهيم من اجلاء الشيعة روی عن علی بن عابس خبرا عجیباً۔

(میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 130)

ابراہیم بڑے شیعوں سے ہے علی بن عابس سے ایک عجیب روایت کی ہے علامہ عینی اس مفہوم کی روایات ذکر کر کے کہتے ہیں۔

قلت هذا الا اصل له ولا یثبت به روایۃ انها ادعت ذلك وانما ھواھر مفتعل لا یثبت۔

(عمدۃ القاری شرح بخاری باب فرض الخمس تحت حدیث دوم)

ترجمہ: میں کہتا ہوں یہ باطل ہے اور ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے ایسا دعویٰ کیا ہو یہ تو ایک من گھڑت بات ہے جو کبھی ثابت نہیں ہو سکتی۔

علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں عطیہ اور ہبہ کی روایات کو ان لفظوں میں رد کیا ہے۔

صفحہ 19 از 26