ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 18 از 26

رہا یہ شبہ کہ مجاز میں استعمال کے لیے داعیہ چاہیے تو داعیہ یہ ہے کہ معصوم کے قول کو جھوٹ اور نامناسب بات سے بچانا ہے۔ اگر حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا منشاء یہ ہو کہ میرے مال کے وارث چچا زاد بھائی ہیں ان سے مجھے مال ضائع کرنے کا اندیشہ ہے مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرے مال کا وارث بنے تو ایک پیغمبر کی طرف اس کی نسبت بھی معیوب ہے انبیاء کا ذہن دنیا کے لیے حریص یا متفکر نہیں ہوتا بالفرض اگر وہ موالی برے ہوں اور برائی میں مال خرچ کرنے کا اندیشہ ہو تو یہ بھی مفید نہیں کیونکہ جب ان تک وراثت پہنچے گی وہ خود مالک ہوں گے اور بھلائی برائی کے ذمہ دار ہوں گے حضرت زکریا علیہ السلام کی ملکیت میں مال نہ رہے گا پھر تفکر کا کیا فائدہ؟ ہاں نبوت و تبلیغ کے متعلق اندیشہ درست ہے ممکن ہے وہ نا اہلِ ثابت ہوں اور پیغمبری کے لائق نہ ہوں تو یہ میری اور آلِ یعقوب علیہ السلام کی نعمت نبوت ضائع ہو جائے گی تو الہیٰ مجھے وارث عطا فرما آج گئے گزرے دور میں بھی جو اولو العزم قسم کے خاندانی شریف ہوں اور مخصوص فن یا کمالات میں شہرت رکھتے ہوں وہ اولاد اس لیے نہیں مانگتے کہ ہم اسے کماںٔے ہوئے مال و جائیداد یا مکانات کے مالک نہیں بلکہ وہ اپنے ہنر اور فن کے بقاء خاندان کی عظمت و شہرت اور باپ دادے کی اقدار کو زندہ رکھنے کے لیے اولاد مانگتے ہیں عالم کی اولاد عالم ہو مرشد روحانی کی اولاد متقی پرہیزگار ہو معلم پروفیسر کی اولاد علم دوست اور استاد بنے تاجر کی اولا تاجر بنے زمیندار کی اولاد زمیندار اور کھیتی باڑی میں دلچسپی لینے والی بنے، ہر ایک کو یہی تمنا اور آرزو ہوتی ہے اور اسی فن و ہنر میں جانشینی کے لیے اولاد مانگتا یا اس کی تربیت کرتا ہے اگر کسی کی اولاد اس کے ہنر و کمال میں وارث نہ بنے خواہ مال و دولت یا دیگر امور میں بڑھ ہی کیوں نہ جائے باپ کی نظر میں وہ ناخلف ہی ہوتے ہیں اس حقیقت کے پیش نظر حضرت زکریا علیہ السلام جیسے بڑھئی پیشہ غریب پیغمبر نبوت کا وارث بننے کے لیے دعا مانگیں تو زیادہ بہتر ہے یا تیشہ آری جیسے آلات نجاری کو سنبھالنے کے لیے بیٹا مانگیں تو وہ ان کی شان کے لائق ہے اور وہ بھی محض اس خدشہ سے کہ چچا زاد اولاد یہ ہتھیار نہ لے لیں شیعہ کو اللہ تعالیٰ عقل و فہم نصیب کرے ان کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دشمنی میں اگر انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے کتنی گھٹیا سوچ کرنی پڑی ہے آخر ایک مزدور پیشہ پیغمبر کے پاس ضروریات زندگی سے زائد بچت آ کہاں سے گئی اور زائد ان ضرورت کمانے سے ان کو فرصت کیسے ملتی تھی پھر وہ سیرتِ انبیاء کے برعکس پس انداز کر کر کے اتنا خزانہ جمع کیسے کر چکے تھے جس کے ضیاع کا بنی اعمام کے ہاتھوں اندیشہ پیدا ہوگیا تھا رہا یہ شبہ کہ انبیاء کرام علیہم السلام تو خدائی پسندیدہ ہوتے ہیں:

 وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت، 6)

کی دعا تحصیل حاصل ہوئی تو وضاحت یہ ہے کہ صفتِ کشف حال اور وضاحت مقصد کے لیے ہے صفتِ احترازی نہیں ہے اسی سورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق ہے:

وَكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت، 19) 

ترجمہ: کہ وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے سورۃ ص میں انبیاء علیہم السلام کی ایک جماعت کے متعلق ارشاد ہے کو:

وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ الۡاَخۡيَارِؕ‏ ۞(سورۃ ص: آیت، 47) 

ترجمہ: بے شک وہ ہمارے ہاں بہترین چنے ہوئے بندوں سے ہیں۔ ِ

وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت، 6) کی دعا ایسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے:

رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ الخ(سورۃ البقرہ: آیت، 129) 

ترجمہ: اے اللہ ان میں سے ایک رسول بنا کے بعد 

يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَ يُزَكِّيۡهِمۡ‌ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 129)

ترجمہ: جو تیری آیتیں ان پر پڑھے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے سے وضاحت فرمائی کیا لفظ رسول کافی نہیں تھا؟ کوئی ایسا رسول بھی ہوتا ہے جس کا فریضہ تلاوتِ آیات اور کتاب و حکمت کی تعلیم و تزکیہ نہ ہو؟ یا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے: 

وَاجۡعَلْ لِّىۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِىْ ۞ (سورۃ طٰہ: آیت، 29)

هٰرُوۡنَ اَخِى ۞ (سورۃ طٰہ: آیت، 30)

اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۞(سورۃ طٰہ: آیت، 31)

ترجمہ: ہارون میرے بھائی کو میرا وزیر بنا اور میری کمر اس سے مضبوط کر کے بعد:

وَاَشۡرِكۡهُ فِىۡۤ اَمۡرِىْ۞  (سورۃ طٰہ: آیت، 32)

ترجمہ: اور اس کو میرے کام میں شریک کر سے اپنے مدعا کی وضاحت فرمائی جیسے یہاں تحصیل حاصل لازم نہیں آتی اسی طرح رب رضیا سے بھی نہیں آتی یہ بھی ممکن ہے کہ ان الفاظ سے مقبول و معزز عند الناس ہونے کی دعا کی ہو چنانچہ وہ مقبول بھی ہوئی جیسے آلِ عمران میں ارشاد ہے:

 مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞

(سورۃ آلِ عمران: آیت، 39)

ترجمہ: آپ کو یحییٰ کی بشارت ہو جو خدا کے کلمہ عیسیٰ کے مصدق لوگوں میں سردار، پاکدامن اور نیک پیغمبروں سے ہوں گے۔

راقم کے علم میں ان آیات سے متعلق شیعہ کی جوکٹ حجتیاں تھیں ان کا جواب ہوچکا۔ واللہ الحمد 

اور اظہر من الشمس ہوگا کہ انبیاء علیہ السلام کی وراثت مالی نہیں ہوتی کہ علمی اور منصب پیغمبری اور اسکے متعلقات کی ہوتی ہے اور یہاں یہی مراد ہے۔

 روایات ہبہ کی حقیقیت:

شیعہ جب دعویٰ وراثت میں ناکام ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے آپ کو زندگی میں ہبہ کردیا تھا پھر سیدہ فاطمہؓ نے یہ ہبہ کا دعویٰ فرمایا اس پر گواہ بھی پیش کیے مگر خلیفہ نے رد کر دیئے اس کا بطلان کئی وجوہ سے ہے۔

صفحہ 18 از 26