ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 17 از 26

تفسیر فخر الدین رازیؒ میں سیدنا ابنِ عباسؓ حسن بصریؒ اور ضحاک کا یہ قول بھی مروی ہے کہ یرثنی سے مال اور: يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ الخ۔ (سورۃ مریم: آیت، 6)  سے نبوت کی وراثت مراد ہے سدی، مجاہد اور شعبی کا بھی یہی قول ہے تو وراثتِ مالی کی تخصیص باطل ہوگئی دونوں کے معاً وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبی امت کے لیے ایک قسم کا حاکم و منتظم بھی ہوتا ہے امت کے نظم و نسق کے سلسلے میں خرچ ہونے والا جو مال بطورِ فنڈ آپ کے پاس تھا وہ بھی نبوت کے ساتھ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو منتقل ہوا بعینہ جیسے حسب تفصیل سابق حضورﷺ کے بعد امام ان چیزوں کا وارث و متولی ہوگا امام رازیؒ نے باقی اقوال میں وراثت یحییٰ سے مراد سرداری علم نبوت اور اخلاق حسنہ مراد لیے ہیں یہ چاروں چیزیں غیر مالی ہیں اور یہاں مراد ہوسکتی ہیں لفظ ارث ہر ایک میں بطورِ حقیقہ مستعمل ہے جیسے مال کے لیے: 

وَاَوۡرَثَكُمۡ اَرۡضَهُمۡ وَدِيَارَهُمۡ وَ اَمۡوَالَهُمۡ الخ۔ (سورۃ الاحزاب: آیت، 27)  

ترجمہ: اور تم کو وارث بنا دیا ان کی زمینوں مکانوں اور مالوں کا علم کے لیے:

وَاَوۡرَثۡنَا بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ ۞ (سورۃ غافر: آیت ،53)

ترجمہ: ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔

العلماء ورثة الانبیاء۔

ترجمہ: علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔ 

وان الانبیاء لم یورثوا درهما ولا دینارا۔

ترجمہ: انبیاء دراهم و دنانیر کی وراثت نہیں چھوڑتے۔ حکومت اور نبوت کے لیے:

وَلَقَدْ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيۡمٰنَ عِلۡمًا‌ الخ۔ (سورۃ النمل: آیت، 27)

ترجمہ: اور بلا شبہ ہم نے داؤد و سلیمان کو علم عطا کیا معنوی خصائل کے لیے جیسے کہا جاتا ہے اورثنی ھذا غماد حزنا اس چیز نے میرے اندر غم اور فکر چھوڑ دیا ہے پھر امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ پختہ بات یہ ہے کہ یہ لفظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور سب سے بہتر یہ ہے کہ اس وراثت سے مراد ہر وہ چیز ہو جس میں دین کی بہتری اور نفع ہو اور یہ نبوت علم سیرتِ حسنہ حکومت براںٔے نفع دینی اور دین کے لیے کام آنے والا مال سب کو شامل ہے

 (تفسیر رازی: پارہ، 16 صفحہ، 184) پھر اس سے زیادہ وضاحت اور مالی وراثت کا ابطال: وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ الخ۔(سورۃ النمل: آیت، 16) کے تحت پارہ، 19 صفحہ، 186 پر علامہ رازیؒ نے کر دیا ہے۔

قارئین کرام! اس تفصیل سے شیعہ کی خیانت اور منہ زوری کا پتہ چل گیا کہ صرف ایک قول کو لے کر اپنا الو سیدھا کرتے اور مفسر علیہ الرحمہ کا اپنا فیصلہ چھوڑ دیتے ہیں یہاں سے یہ بھی واضح ہو چکا کہ ان تمام معانی میں یہ لفظ بطورِ حقیقت شائع ہے تو وراثت غیر مالی کو مجازی کہنا باطل ثابت ہوا ہاں فقہاء کی اصطلاح میں زیادہ تر اس کا استعمال منقولات عرفیہ کی طرح وراثت مالی میں پایا جاتا ہے بالفرض اسے مجاز تسلیم کیا جائے تو عموم مجاز ہے جو حقیقت کی مانند شائع و ذائع ہوتا ہے مثلاً:

 ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الخ۔  (سورۃ فاطر: آیت، 32)

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْکِتٰبَ الخ (سورۃ الاعراف: آیت، 169)

اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ الخ۔ (سورۃ الشوریٰ: آیت، 14)

اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ﳜ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ الخ۔ (سورۃ الاعراف: آیت، 128) 

وَلِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الخ۔  (سورۃ الحدید: آیت، 10)

صفحہ 17 از 26