ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 16 از 26

5: وَوَرِثَ سُلَيۡمٰنُ دَاوٗدَ‌ وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ وَاُوۡتِيۡنَا مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ الخ۔ (سورۃ النمل: آیت، 16)

ترجمہ: اور حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے تو فرمایا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہر چیز دی گئی ہے یہ تو اللہ کا کھلا انعام ہے۔

شیعہ کا خیال ہے کہ دونوں آیتوں میں اور پہلی آیت میں دونوں جگہ وراثت سے مال مراد ہے کیونکہ حسن بصریؒ نے یہ تفسیر کی ہے اور حضرت ابنِ عباسؓ اور ضحاک کا بھی یہ قول ہے۔

 (تفسیر فخر الدین رازی: جلد، 21 صفحہ، 184)

نیز رضیا پسندیدہ کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ وارث غیر نبی ہو نبی کے لیے اس دعا کی حاجت نہیں خفت الموالی چچا زادوں سے خوف ضیاع نبوت کی وجہ سے نہیں ہوسکتا مال کی وجہ سے ہوتا ہے بعض تفاسیر میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک ہزار گھوڑے باپ سے وراثت میں پائے نیز لفظ ارث کا استعمال مال میں حقیقتًہ ہے اور باقی چیزوں میں مجازاً حب تک حقیقت متعذر نہ ہو مجاز مراد لینا درست نہیں۔

الجواب: شیعہ مذہب کی رو سے آیات بالا کی یہ تفسیر اجتہاد فی مقابل النص ہونے کی وجہ سے مردود ہیں اس لیے کہ جب ان آیات کے مصداق کی تعیین اںٔمہ معصومین سے ہوچکی ہے پھر اِدھر اُدھر کی باتیں نکالنا کیا معنیٰ؟ 

سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے:

ان سلیمان ورث داؤد وان محمد ورث سلیمان وانا ورثنا محمدا وان عندنا علم التورٰۃ والانجیل والزبور وتبیان ما فی الالواح۔

(اصولِ کافی: صفحہ، 225)

ترجمہ: بلاشبہ سلیمان ہی وارثِ داؤد بنے اور حضرت محمدﷺ سلیمان کے وارث بنے اور ہم محمدﷺ کے وارث ہوئے، بیشک ہمارے پاس تورات انجیل زبور اور الواحِ موسیٰ کی تفصیل کا علم ہے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت جعفر صادقؒ نے فرمایا حضرت داؤد انبیاء کے علم کے وارث ہوئے و ان سلیمان ورث داؤد وان محمدﷺ ورث سلیمان و انا ورثنا محمدﷺ وان عندنا صحف ابراھیم و الواح موسیٰ۔

(ایضاً: صفحہ، 225 باب ان الاںٔمۃ ورثوا علم النبی وجمیع الانبیاء)

ترجمہ: حضرت سلیمان داؤد علیہما السلام کے وارث بنے اور حضرت محمدﷺ سلیمان کے وارث ہوئے اور ہم حضورﷺ کے وارث ہوئے بیشک ہمارے پاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تختیاں ہیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی وراثت کے متعلق سیدنا باقرؒ کا ارشاد ہے:

ثم مات زكريا فورث ابنه يحيىٰ الكتاب والحكمة وأتيناه الحكم صبيا۔(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 382)

ترجمہ: پھر زکریا فوت ہوئے تو ان کے صاحبزادے حضرت یحییٰ علیہ السلام کتاب اور حکمت کے وارث بنے اور ہم نے ان کو حکم بچپن میں بھی دے دیا تھا

کیا پہلی دو احادیث کی روشنی میں حضرت داؤد علیہ السلام کی وراثت کا حضرت سلیمان علیہ السلام کو انتقال اور پھر حضورﷺ اور اںٔمہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم تک پہنچنا، وراث علمی و پیغمبری یقیناً ثابت نہیں ہوئی ان کے مقابل حسن بصریؒ کا قول کیا حقیقت رکھتا ہے ہزار گھوڑے پانا شاہی ترکہ بطورِ حکومت مراد ہے نہ کہ ذاتی وراثت حضرت داؤد علیہ السلام تو خانگی نفقہ کے لیے زرہ بنا کر بیچتے تھے کیا اس معمولی مزدوری سے وہ ایک ہزار اعلیٰ نسل کے گھوڑے خریدتے یا پال سکتے تھے؟ پھر کل 18 بیٹے تھے تو اٹھارہ ہزار گھوڑے ہوں تب فی بیٹا ایک ہزار گھوڑے تقسیم میں لے۔

قرآنِ پاک میں وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوٗدَ الخ۔ (سورۃ النمل: آیت، 16) داؤد کے بعد فَقَالَ يٰاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ الخ۔(سورۃ النمل: آیت، 16) کیا یہ وراثت علمی پر قطعی دلیل نہیں ہے؟ اگر وراثت مالی ہو تو بقیہ 18 بیٹے بھی بدستور عالم مَنْطِقَ الطَّیْرِ ہوں اور ہر بڑی چیز کے مالک اور تذکرہ قرآنی سے مشرف ہوں یہ کہنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر خاص بلند رتبی کی وجہ سے ہے لغو ہے کیونکہ یہ بلند رتبی نبوت اور سیاست میں والد ماجد کی جانشینی سے ملی ہے تو وراثت نبوت و سیاست ثابت ہوگئی فھو المقصود علامہ رازیؒ نے تفسیر میں پانچ قول لکھے ہیں مفید مطلب ایک قول کو شیعہ لے اڑاتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ نبوت اور شاہی خزانوں اور اموال کے جانشین و وارث حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ہوئے تو ذاتی مال کی وراثت باطل ہوئی اور پھر اس کے شخص واحد میں انحصار نے نبوت و حکومت کے لیے مخصوص کردیا۔

یہ کہنا کہ نبوت تو حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس سے پہلے بھیڑوں کا قضیہ چکاتے وقت ملی ہوئی تھی تو وراثت مالی مراد ہے درست نہیں کیونکہ اس وقت آپ نابالغ بچے تھے احکامِ شریعہ ہی کے مکلف نہ تھے چہ جائیکہ نبوت کے منصبِ عظیم کے بالفعل حامل ہوں ہاں نبوت کے تحمل کے لیے فطری استعداد اور عقل و فرات کا اعلیٰ درجہ حاصل تھا پھر تعظیمِ خداوندی نے سونے پر سہاگہ کر کے وہ بہتر فیصلہ آپ سے کروا دیا اس وقت حکمت اور علم سے یہی مراد ہے علاوہ ازیں منصب نبوت کیلیے نامزد ہونا یا موصوف ہونا اور بات ہے اور بالفعل فرائض نبوت کو تعلیم تبلیغ جہاد سیاست امت وغیرہ میں ادا کرنا اور بات ہے حضرت داؤد علیہ السلام کے جانشین اور وارث بننے میں فرائض نبوت اور ادائیگی سیاست امت مراد ہے جو پہلی بات کے منافی نہیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی وراثت نبوت تو اور واضح تر ہے سیدنا باقرؒ کے الفاظ کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے بھی کتاب و حکمت کے وارث ہوئے اور ہم نے ان کو حکم بچین میں عطا کردیا تھا کا آیتِ کریمہ کے ان الفاظ سے موازنہ تو کریں:

يٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ‌ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا ۞ (سورۃ مریم: آیت، 12)

ترجمہ: اے یحییٰ مضبوطی سے کتاب پکڑ لو اور ہم نے ان کو چین میں ہی حکم دے دیا کیا بارشاد امام وراثت علمی و پیغمبری متعین ہونے میں اب بھی کوئی شک و شبہ باقی ہے؟

صفحہ 16 از 26