ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 15 از 26

بلکہ اس سے زیادہ واضح سیدہ فاطمہؓ کی رضامندی بلکہ ترکِ دعویٰ پر دلیل وہ حدیث ہے جو تمام ثقات راویوں اس حدیث کے رواۃ کی توثیق یہ ہے۔ 

1: عبداللہ بن احمد بن حنبل الشيبانی ولد الامام ثقہ متوفی 290ھ۔ 

2: عبد الله بن محمد بن ابى شيبة الكوفی ثقہ صاحب التصانيف المتوفى 235ھ۔ 

3: محمد بن فضيل بن غزوان الكوفى صدوق رمى بالتشيع المتوفى 1951ھ۔ 

4: ولید بن جميع الزهری المکی نزیل کوفه صدوق يهم من الخامسة۔

 5: ابو الطفيل عامر بن واثلةؓ فی أخر من مات من الصحابة 110ھ۔ (تقریب التہذیب)

مسند احمد بن حنبل: جلد، 1 صفحہ، 4 پر مروی ہے مقصودی جملہ خود سیدہ فاطمہؓ سے مروی ہے تو یہ روایت معین کی روایت پر بھی راجح ہوگی جس میں راوی نے اپنے گمان سے حضرت فاطمہؓ کی طرف ناراضی کی نسبت کی ہے۔

عن ابج الطفيل قال لما قبض اللهﷺ ارسلت فاطمةؓ الى ابى بكرؓ انت ورثت رسول اللهﷺ ام اهله فقال لا بل اهله قال فاین سهم رسول اللهﷺ قال فقال ابوبکرؓ انی سمعت رسول اللہﷺ يقول ان الله عزوجل اذا اطعم نبيا طعمة ثم قبضه جعله الذی يقوم من بعده فرءيت ان اردہ على المسلمين فقالت فانت و ما سمعت من رسول اللهﷺ اعلم۔ (مسانيد ابى بكرؓ)

ترجمہ: حضرت ابو الطفيل عامر بن واثلہؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ وفات پاگئے تو سیدہ فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عدالت میں قاصد بھیجا کہ آپ حضورﷺ کے وارث ہیں یا حضورﷺ کے گھر والے فرمایا گھر والے ہوتے ہیں فرمانے لگیں پھر حضورﷺ کا حصہ کہاں ہے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا میں نے حضورﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ اللہ پاک کسی نبی کو جب کچھ رزق دیتے ہیں پھر اسے وفات دے دیں تو وہ مال اس شخص کے تصرف میں آتا ہے جو آپ کا قائم مقام ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ میں اسے مسلمانوں پر وقف کردوں تو سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا آپ جانیں اور حضورﷺ سے شنیده فرمان کیونکہ آپ اسے خوب جانتے ہیں۔

 شیعہ کے دلاںٔل وراثت:

سنی نقطہ نظر سے مسئلہ فدک مثبت و منفی پہلوؤں سے مبرہن ہوچکا اب شیعہ کے ذرا ان دلائل پر بھی غور کریں جن سے شیعہ حضرت صدیقِ اکبرؓ پر طعن کرنے کے لے اپنی احادیث کے بھی خلاف توریثِ انبیاء کے قاںٔل ہیں:

1: يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ الخ

(سورۃ النساء: آیت، 11)

 يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْ أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ

ترجمہ: اللہ تم کو تاکید کرتا ہے اولاد کے متعلق کر لڑکے کو لڑکی کا دوہرا حصہ ملے۔

2: وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت، 17)

ترجمہ: عورتوں کا بھی حصہ ہے جو والدین اور قریبی چھوڑ کر مریں۔

3: وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت، 33)

ترجمہ: ہر ایک مسلمان کے لیے ہم نے وارث بنائے اس ترکہ کے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔

کہتے ہیں کہ یہ آیتیں توریث اولاد میں عام ہیں اور انبیاء کو بھی شامل ہیں جسے دیگر احکام۔

الجواب: الفاظ تو عام ہیں مگر عام مخصوص عنہ البعض ہیں اور بالاتفاق سنی شیعہ علماء اصول چار قسم کے لوگوں کو وراثت نہیں ملے گی کافر و مرتد اولاد کو قاتل اولاد کو غلام اولاد کو ولد لعان کو اہلِ سنت کی سراجی اور شیعہ کی شرائع الاسلام میں ہے: المانع من الارث اربعة الرق والقتل والارتداد واللعان۔ فقہ شیعہ کی کتاب جامع المسائل: صفحہ، 365 میں ہے:

موانعِ ارث قتل کفر اور غلامی اور لعان ہیں یہ موانع قرآنِ پاک میں صراحتاً نہیں بلکہ اخبار آحاد احادیث سے ماخوذ ہیں جب ان احادیث سے تخصیص ہوگئی تو علمائے اصولِ فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ عام میں پھر وہ قطعیت باقی نہیں رہتی کیونکہ احتمال ہے کہ کسی خاص خبر واحد سے اور افراد بھی خارج ہوجائیں۔

(اصول الشاشی و نور الانوار) 

نیز تیسری آیت میں کل اضافی مراد ہے جیسے ملکہ بلقیس کے محدود شاہی ساز و سامان کے متعلق آیا ہے:

وَاُوۡتِيَتۡ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ الخ۔ (سورۃ النمل: آیت، 23)

بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ حدیث نفی میراث حسب تصریح سابق سنی و شیعہ کی متفقہ اور اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع سے مروی ہے اسے خبر واحد نہیں بلکہ خبر مشہور اور تواتر معنیٰ و طبقہ کا درجہ حاصل ہے لہٰذا اس سے تخصیص درست ہے اور پیغمبر علیہ الصلاة والسلام اس حکم سے خارج ہیں جیسے:

فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت، 3)

 ترجمہ: پس نکاح کرو جو عورتیں تم کو پسند ہوں چار تک کے تحت آپ 4 عورتوں کی پابندی سے خارج ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چار سے زیادہ کی اجازت کی تخصیص ایک دوسری آیت: يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ الخ۔ (سورۃ الاحزاب: آیت، 50)سے ماخوذ ہے تو آیت کی تخصیص آیت سے ہوئی مگر یہ قلت تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ سورۃ النساء مدنی زندگی کے اوائل میں نازل ہوئی اور سورت الاحزاب غزوہِ خندق 5ھ کے بھی بعد نازل ہوئی اور اس وقت آپ ہم سے زائد متعدد شادیاں کر چکے تھے: آیت

اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ الخ (سورۃ الاحزاب: آیت، 50)

 ترجمہ: بے شک ہم نے حلال کی ہیں آپ کے لیے وہ عورتیں جن کے مہر آپ دے چکے نے تو ان سابقہ نکاحوں کی صحت اور لوگوں کے شبہات کا ازالہ فرمایا بلکہ مزید نکاحوں پر پابندی لگادی:

لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ الخ (سورۃ الاحزاب: آیت، 52)

ترجمہ: اس کے بعد آپ کو اور عورتیں حلال نہیں اور نہ ان ازواج میں آپ ردو بدل کر سکتے ہیں اگرچہ آپ کو اوروں کا حسن پسند ہو بجز باندیوں کے الحاصل جیسے فَانْكِحُوۡا کے حکم سے آپ مستثنیٰ ہیں اسی طرح آیتِ میراث سے بھی آپ مستثنیٰ ہیں۔

4: رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ۙالخ۔(سورۃ مریم: آیت، 6)

ترجمہ: اے اللہ میرے اپنی جانب سے بخش دے ایسا ولی جو میرا وارث بنے اور آلِ یعقوب کا بھی اور اللہ اس کو پسندیدہ بنا۔

صفحہ 15 از 26