ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 14 از 26

در نجفیہ: صفحہ، 331 مولفہ ابراهیم بن حاجی حسین بن علی بن الغفار الدنبلی: 1291ھ طبع ایران کی عبارت یہ ہے:

ذالك ان لك ما لا بيك كان رسول اللهﷺ يأخذ من فدك قوتكم ويقسم الباقی ويحمل منه فی سبيل الله ولك على الله ان اصنع بها كما كان يصنع فرضیت بذالك أخذت العهد به۔

یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ سے کہا آپکے والد محترم کے لیے جو حق تھا وہی حق آپ کے لیے ثابت ہے حضور اکرمﷺ فدک کی آمد سے تمہارے اخراجات لے لیتے تھے اور باقی کو ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر مجھ پر آپ کا حق ہے کہ فدک کے متعلق ہمیں وہی طریق کار جاری رکھوں جس طرح نبی کریمﷺ جاری رکھتے تھے ہیں اس معاملہ فدک کے متعلق حضرت فاطمہؓ راضی اور خوش ہوگئیں اور اس چیز پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پختہ وعدہ اور عہد لے لیا۔ (بحوالہ رحماء بینہم: جلد، 1 صفحہ، 154)

یہ خالص شیعوں کی روایت ہے اگر سنیوں کی ہوتی ضرور شیعہ اس کی نسبت ان کی طرف کر دیتے نیز اس روایت کے ذکر کرنے کے بعد سابق مصفین اور مجتہدین نے کوئی تنقید و تردید نہیں کی معلوم ہوا کہ یہ بڑی سچی اور مقبول عام روایت ہے جو شیعہ پر حجت ہے۔

سنی کتب سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضا مندی:

کتب اہلِ سنت میں بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا راضی ہونا ثابت ہے۔

1: عامر شعبیؒ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شدتِ مرض میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور اجازت مانگی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دروازے پر اجازت چاہتے ہیں آپ چاہیں تو اجازت دے دیں، فرمایا کیا آپ کو بھی یہ پسند ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا ہاں پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ داخل ہوئے اور عذر خواہی کی اور گفتگو کی فرضیت عنه، پس حضرت فاطمہؓ راضی ہوگئیں۔ (ریاض النضره: صفحہ، 156) 

2: طبقات ابنّ سعد: جلد، 8 صفحہ، 45 (اردو) میں اسی قسم کی روایت میں ہے چنانچہ حضرت ابوبکرؓ حضرت فاطمہؓ کے پاس آئے اور ان کے آگے عذر پیش کیا اور ان سے باتیں کیں اور حضرت فاطمہؓ آپ سے راضی ہوگئیں۔

3: امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ حضرت ابوبکرؓ پر خوش بوگںٔیں تو حضرت ابوبکرؓ گھر سے نکل پڑے اور سخت گرمی کے دن آپ کے دروازے کڑھے ہوگںٔے اور فرمایا اب میں اپنی اس جگہ سے نہ ہٹوں گا جب تک کہ اے دختر رسولﷺ آپؓ راضی نہ جائیں پھر سیدنا علیؓ نے اندر جا کر سیدہ فاطمہؓ کو قسمیہ کہا کہ آپؓ راضی ہو جائیں چنانچہ سیدہ فاطمہؓ راضی ہوگئیں۔

(اخرجه ابنِ اسحاق فی الموافقة رياض النضرة: صفحہ، 156)

4: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مطالبہ کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

ولك على أن أفعل فيها ماكان ابوك يفعل قالت والله لتفعلن ذالك قال والله لافعلن ذالك قالت اللهم اشهد قال فكان ابوبكرؓ يعطيهم منها قوتهم ویقسم الباقی فی الفقراء والمساكين و ابن السبيل ثم ولى ذالك عمرؓ ففعل مثل ذالك ثم فعل ذلك علیؓ بن ابی طالب فقيل له فی ذلك فقال انى لاستحی من الله ان انقض شيئا فعله ابوبكرؓ و عمرؓ۔ 

(ریاض النضرہ: صفحہ، 170)

ترجمہ: تیرے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں اموالِ فدک میں وہی کروں جو تیرے والد کرتے تھے فرمانے لگیں خدا کی قسم آپ ایسا ہی کریں گے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فریایا بخدا میں ایسا ہی کروں گا فرمانے لگیں اے اللہ تو گواہ رہنا ہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کو ان کا راشن دیتے اور باقی فقراء مساکین اور مسافروں میں بانٹ دیتے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا کسی نے اس میں ترمیم کا مشورہ دیا تو فرمایا مجھے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس طریقہ کو توڑوں جو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے رائج فرمایا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ مکالمہ اول ہی کامیاب ثابت ہوا ناراضی کا سوال پیدا ہی نہیں ہوا اسی طرح

5: سنن الکبریٰ بیہقی: جلد، 6 صفحہ، 301 شروح بخاری: شروح مشكوٰۃ: نبراس شرح شرح عقائد: صفحہ، 550 البدايہ والنہایہ اور طبقات ابنِ سعد وغیرہ میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضا مندی ثابت ہے۔ حضورﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آئے اور فرمایا: والله ما تركت الدار والمال والاھل والعشيرة الا ابتغاء مرضاة الله و مرضاۃ رسوله ومرضاتكم اهل البيت ثم ترضاها حتى رضيت وهذا اسناد جید قوی۔ (البدايہ والنہایہ: جلد، 5 صفحہ، 289) 

ترجمہ: اللہ کی قسم میں نے اپنا گھر مال بال سے اور خاندان صرف اللہ کی رضا اللہ کے رسولﷺ کی مرضی اور تم اہلِ بیتؓ کی رضا مندی کی خاطر ہی چھوڑا ہے پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رضا چاہی اور وہ راضی ہوگئیں اس حدیث کی سند جید اور قوی ہے۔

6: علامہ ابنِ کثیر اس بحث میں فرماتے ہیں:

واحسن ما فيه قولها انت وما سمعت من رسول اللهﷺ وهذا هو الصواب والمظنون بها والائق باهرها و سيادتها وعلمها و دينها۔

ترجمہ: اس باب میں سب سے بہتر حضرت فاطمہؓ کا یہ ارشاد ہے اے حضرت ابوبکرؓ آپ ارشادِ رسول پر عمل کریں جو حضورﷺ سے سنا ہے میں راضی ہوں یہی درست ہے آپ سے اسی کا گمان ہے اور یہی سیدہ فاطمہؓ کے مرتبہ مقام اور علم دین کے شایانِ شان ہے۔

پھر مذکورہ بالا معذرتِ صدیقی نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ عامر شعبی نے یہ حضرت علیؓ سے یا ان لوگوں سے جنہوں نے حضرت علیؓ سے سنا ہے اور بلا شبہ علمائے اھلبیتؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے فیصلہ کو صحیح قرار دیا ہے جسے حافظ بیہقی نے اپنی سند سے حضرت زید بن علی بن حسینؓ سے نقل فرمایا ہے:

اما انا فلو كنت مكان ابى بكر لحكمت بما حكم به ابوبكر فی فدك۔ 

(البدایہ والنہایہ: جلد، 5 صفحہ، 290)

ترجمہ: حضرت زیدؓ فرماتے ہیں اگر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جگہ ہوتا تو فدک کا وہی فیصلہ کرتا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا۔

صفحہ 14 از 26