ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 26

دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو علم تو تھا مگر نفی کے عموم سے اپنے کو کمال تقرب کی بناء پر مستثنیٰ جانتی تھیں گویا حدیث بھی عام مخصوص عنہ البعض کے درجے میں تھی مگر حضرت صدیقِ اکبرؓ اور جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو عام ہی سمجھا تو یہ اختلاف حدیث کے ثبوت و صحت کے متعلق نہ تھا بلکہ مفہوم کی تعین میں اختلاف تھا۔

حافظ ابنِ حجرؒ فتح الباری شرح بخاری میں فرماتے ہیں:

حضرت ابوبکرؓ کے حدیث سے استدلال کے باوجود حضرت فاطمہؓ کی ناگواری کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا خیال حضرت ابوبکرؓ کے استدلال کے برعکس تھا۔ گویا آپ نے حدیث لا نورث کے عموم سے تخصیص جائز سمجھی اور یہ خیال کیا کہ حضورﷺ کے زمینی متروکہ میں وارث بننے کی نفی اس حدیث میں نہیں حضرت ابوبکرؓ نے عموم سے استدلال کیا اور اسی بات میں اختلاف ہوا جس میں تاویل کی طرفین کو گنجائش تھی جب حضرت ابوبکرؓ اپنے موقف پر جمے رہے تو سیدہ فاطمہؓ نے اس وجہ سے میل ملاپ بند کردیا اگر امام شعبی کی حدیث بروایت بہیقی ثابت ہو احادیث رضا ثابت ہیں کما سیاتی تو اشکال دور ہو جاتا ہے حضرت فاطمہؓ کے اخلاق کے مناسب یہی ہے کہ آپؓ راضی ہوگئی ہوں کیونکہ آپؓ کی عقل کی زیادتی اور دینداری ہر کسی کو معلوم ہے آپؓ پر سلامتی ہو۔ (بحوالہ حاشیہ صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 435)

لفظ اغضبت راوی کا مدرج ہے:

سیدہ فاطمہؓ کے مطالبہ فدک کی روایت تقریباً 15 عدد باسند کتب حدیث و تاریخ میں پائی جاتی ہے بخاری شریف میں پانچ عدد اور مسلم شریف میں دو عدد ترمذی شریف میں دو عدد ابو داؤد میں چار عدد نسائی میں ایک عدد وغیرہ ان تمام مقامات میں یہ روایت تقریباً 36 عدد مروی ہے اور یہ 25 عدد صرف سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے اور 11 عدد سیدہ عائشہؓ کے ما سوا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے چھ عدد حضرت ابو ہریرہؓ سے حضرت ام ہانیؓ سے دو عدد اور حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہؓ سے تین عدد مروی ہے حضرت عائشہؓ کے علاوہ باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت میں لفظ غضبت مذکور نہیں ہے پھر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایات بھی دو قسم ہیں بعض روایات میں ناراضی کا ذکر پایا جاتا ہے اور بعض میں نہیں جن میں یایا جاتا ہے ان سب اسانید میں ابنِ شہاب زہری موجود ہے کوئی ایک روایت بھی تاحال دستیاب نہ ہوسکی کہ ناراضی کا ذکر ہوا اور اس میں ابنِ شہاب زہری نہ پایا جاتا ہو دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں تدبر کرنے سے معلوم ہوا کہ اس میں غضبت کے الفاظ کا ابنِ شہاب سے ادراج پایا جاتا ہے اس میں قرینہ بعض روایات سے دستیاب ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب ختم ہوا لا نورث ما تركناہ صدقة اس کے بعد رواۃ کی طرف سے قال کا لفظ روایات میں مذکور ہے اور قال کے بعد غضب فاطمہؓ ہجران اور عدم کلام ذکر کیا گیا ہے یہ تین چیزیں اسی قال کا مقولہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کلام سے یہ تین چیزیں خارج ہیں خلاصہ یہ کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب سن کر مطمئن ہو کر خاموش ہوگئیں روایت کرنے والے نے اپنے گمان سے اس خاموشی کو ناراضی پر محمول کیا اور اپنے ظن کو اس طرح روایت کے ساتھ ملا کر ذکر کردیا جو قال کے بعد مذکور ہے محدثین کی اصطلاح میں اس کو ظن راوی یا وہم راوی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کا اصل روایت اور اس سے مستنبط مسںٔلے سے کچھ تعلق نہیں ہوتا دوسرے الفاظ میں ہی یہ روایت مدرج ہے اور ادرارج کننده ابنِ شہاب زہری ہے علمائے اصول حدیث کا اتفاق ہے کہ عمداً ادراج حرام سے بجز اس کے کہ اس کے کسی لفظ کی لغوی تشریح کر دی جائے یا مرجع حدیث اور مسئلہ مستنبطہ کا ذکر کیا جائے اور مدرج الفاظ کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ بعض اوقات عمداً ادراج کرنے والا ساقط العدالة ہوتا ہے دیکھیئے تدریب الراوی یہاں عمداً ادراج نہ سہی مگر اپنے فن کی بناء پر خطاً خاموشی کو ان الفاظ مدرجہ سے ادا کردیا ہے۔

مندرجہ ذیل مقامات پہ قال کا لفظ پایا جاتا ہے: 

1: بخاری شریف: جلد، 2 صفحہ، 995 باب قول النَّبِیﷺ لا نورث ما تركناه صدقة۔

2: مسلم شریف: جلد، 2 صفحہ، 91 باب حكم الفی۔

3: تاریخ ابنِ جریر طبری: حدیث سقیفہ جلد، 3 صفحہ، 202۔ 

4: سننِ کبریٰ بیہقی: جلد، 6 صفحہ، 300۔

5: مسندِ لابی عوانہ: جلد، 4 صفحہ، 145، 146۔

6: مصنف عبد الرزاق: جلد، 5 صفحہ، 472، 473۔

7: البدایہ والنہایہ: جلد، 5 صفحہ، 285 پھر یہ الفاظ مدرج ہیں: قال فهجرته فاطمةؓ ولم تكلمه فی ذلك حتىٰ ماتت فدفنها على ليلا ولم يؤذن بها ابابكرؓ الخ۔

7: اہلِ تشیع کی کتاب شرح نہج البلاغہ لابنِ ابى الحديد: جلد، 4 صفحہ، 112 تحت الخطبة فی كلامه عليه السلام إلى عثمان بن حنيف الانصاری۔ 

اس کتاب کا مصنف معتزلی شیعہ ہے مسئلہ فدک پر تین فصلیں لکھی ہیں پہلی فصل میں قال ابوبکر الجوہری کے بعد مذکورہ بالا الفاظ درج ہیں مدرج ہیں: (از افادات علامہ عبد الستار صاحب تونسوی مدظلہ العالی)

بالفرض حدیث کا جملہ ہی مانا جائے تو راوی اول حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہے کے اپنے گمان پر مبنی ہے گمان میں خطاً غلطی ممکن ہے اس پر اتنے بڑے قضیے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی غضبت کا معنیٰ طبعاً ناگواری بھی ممکن ہے جیسے قصد مواقعات میں حضورﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اغضبت علی حين أخيت۔ (اكشف الغمہ: صفحہ، 92) 

من ولم تكلمه کا معنیٰ یہ ہے کہ پھر فدک مانگنے کے متعلق بات نہیں کی۔ 

(فتح الباری: جلد، 12 صفحہ، 140 شرح مسلم نوی: جلد، 2 صفحہ، 90) 

اور ہجران سے ملاقات عمومی کا ترک مراد ہے نہ کہ احیاناً سلام و کلام کا چھوڑنا کیونکہ یہ شرعاً تین دن سے زیادہ بہر صورت درست نہیں۔ 

چھٹی تنقیح کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر خوش ہو کر رخصت ہوگئیں۔

علامہ مثیم بحرانی کی شرح نہج البلاغہ اور شرح درہ نجفیہ وغیرہ کے حوالہ جات سے گزر چکا ہے کہ سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکرؓ پر راضی ہوگئیں معین راشن پر معاہدہ بھی ہوگیا۔

صفحہ 13 از 26