ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 12 از 26

7: حضرت سلیمان علیہ السلام کے وارث حضرت داؤد علیہ السلام اور حضور کے وارث حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے وارث حضرت زکریا علیہ السلام ہونے کی اصولِ کافی کی احادیث عنقریب آجائیں گی جن میں صراحتاً مالی وراثت کی نفی اور علم و نبوت کی میراث کا اثبات ہے۔ محدث شیعہ فرات بن ابراہیم کوفی جو علامہ کلینی کے استاذ الاستاذ ہیں اور علی بن ابراہیم قمی کے استاذ ہیں اپنی تفسیر فرات: صفحہ، 82 مطبوعہ نجف اشرف پر یہ حدیث لکھتے ہیں:

8: قال على ما ارث منك يا رسول الله قال ما ورثت الانبیاء من قبلی قال و ما ورثت الانبياء من قبلك فقال النبي عليه الصلواة والسلام کتاب ربهم وسنة نبيهم (الجوار عبقات: صفحہ، 240 از علامہ خالد محمود و کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 447)

ترجمہ: حضرت علیؓ نے پوچھا میں آپ سے کیا میراث پاؤں گا آپﷺ نے فرمایا جو مجھ سے پہلے پیغمبروں نے میراث دی پوچھا آپ سے پہلے انبیاء نے کیا میراث دی تو حضورﷺ نے فرمایا اپنے رب کی کتاب اور نبی کی سنت میراث میں دی۔

9: فضیلؒ بن عیاض سیدنا باقرؒ سے سماعی حدیث بیان کرتے ہیں:

يقول لا والله ما ورث رسول الله العباسؓ ولا علىؓ ولا ورثته الا فاطمة عليها السلام۔ 

(من لا يحضره الفقيہ: جلد، 2 صفحہ، 217)

ترجمہ: سیدنا باقرؒ فرماتے تھے اللہ کی قسم رسول الله کے وارث نہ حضرت عباسؓ بنے نہ حضرت علیؓ اور نہ دیگر وارث بنے بجز حضرت فاطمہؓ کے۔

اس حدیث سے وراثتِ علمی و خلقی کا ثبوت اور مالی کی نفی معلوم ہوئی کیونکہ مالی وراثت کی رو سے ازواجِ مطہراتؓ بھی وارث تھیں پھر اس حدیث میں ان کی نفی درست نہیں۔

بعض شیعہ کہتے ہیں کہ فقہ جعفری میں عورتوں کو جائیداد کا ترکہ نہیں ملتا تو نفی درست ہے حالانکہ قرآنی ارشاد:

 فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت، 12)

 ترکہ عقار کو بھی شامل ہے تو خلافِ قرآن فقہ جعفری کو کون مانتا ہے اگر کسی اپنی روایت سے تخصیص کرتے ہو تو ہم بجا کہتے ہیں کہ: یُوْصِیْکُمُ اللّٰه الخ۔

(سورۃ النساء: آیت، 11)

حدیثِ میراث سے مخصص اور حضورﷺ کو شامل نہیں ہے یہ تمام احادیث صیغہ حصر و استشار کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کی مالی وراثت کی نفی اور علمِ نبوت کی وراثت پر قطعی دال ہیں لہٰذا صاحبِ تجلیات جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ انبیاء کے وارث دو قسم کے ہیں مالی کے رشتہ دار اور علمی کے علماء یہاں علمی وراثت اور علماء کا ذکر ہے مالی وارثوں کی نفی نہیں صراحتاً جہالت اور سینہ زوری ہے کیونکہ وانما اورثو العلم ولكنهم اورثوا العلم کا معنیٰ ہی علم نحو کے مطابق لم يورثوا شيئا الا العلم والاحاديث خصوصاً جبكہ ماقبل ان الانبياء لم يورثوا دینارا و لا درھما۔

ترجمہ: بےشک انبیاء دینار اور درہم کا وارث نہیں بناتے سے مالی وراثت کی نفی کی گئی ہے۔

پیش کردہ احادیث میں سے بعض شیعہ حدیث 3 پر طعن کرتے ہیں کہ اس کا راوی ابو البختری کذاب ہے تو قابلِ استدلال نہیں مگر یہ بوجوہ باطل ہے۔ 

الف: دیگر صحیح اسناد والی احادیث جب کتب شیعہ و سنی میں موجود ہیں تو ایک سند کے کذاب راوی سے اس حدیث پر فرق نہیں پڑتا یہ ان کی مؤید سمجھی جائے گی۔

ب: اصولِ کافی کو مصدقہ امام مہدی بھی کہا جاتا ہے پھر موافِق مذہبِ حقہ اہلِ سنت احادیث کو غلط بھی یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے یا امام کی تصدیق پر اعتماد کر دیا پھر کافی میرے موضوع احادیث کا وجود تسلیم کر کے اہلِ سنت کی تصدیق اور امام کی تغلیط کرو۔

ج: اصول تجرح و تعدیل اور کتب رجال شیعہ کی رو سے بھی اصول کافی کا شاذ و نادر راوی تنقید سے محفوظ ہو ورنہ ابو بصیر زرارہ ہشام جیسے ہزاروں احادیث شیعہ کے مرکزی رواۃ بھی نہایت مطعون بلکہ ائمہ کی زبانی کذاب طعون اور بد عقیدہ بنائے گئے ہیں تو ان کو اپنی سب احادیث سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور یہ سودا شیعہ کو مہنگا پڑے گا۔

10: حضورﷺ کی نفی میراث کے متعلق آخر میں ایک اور اہم حدیث بھی ملاحظہ کرلیں شیعہ کتاب قرب الاسناد حمیری: صفحہ، 44 پر ہے سیدنا باقرؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے وراثت میں نہ درہم چھوڑا نہ دینار نہ باندی نہ غلام نہ بکری نہ اونٹ آپﷺ کی روح اس حالت میں قبض ہوئی کہ آپکی ذرہ مدینہ کے یہودی کے پاس 20 صاع جو کے بدلے میں گروی تھی جو آپﷺ نے اہل و عیال کے خرچ کیلئے ادہار لیے تھے۔ تلك عشر كاملة۔

ایک شبہ کا ازالہ:

جب ناقابلِ انکار دلائل سے یہ واضح ہوچکا کہ حدیث النورث لفظاً یا معناً قطعی اور متفقہ الفریقین ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شیعہ اسے اٹھاتا ہے کہ کیا مائی صاحبہ کو اس حدیث کا علم نہ تھا حالانکہ وہ قریب ترین رشتہ دار اور اس حدیث سے متعلقہ تھیں ان کو تو ضرور معلوم ہونا چاہیئے تھا اس کا ایک جواب تو تقریباً گزر چکا ہے کہ کسی غیر اصولی مسںٔلے کا علم یا اس کے متعلق حدیث کا علم ہونا کمال علم کے منافی نہیں ہزاروں باتیں ایک شخص کے علم میں ہوتی ہیں مگر دوسرا ان میں سے بعض نہیں جانتا علی العکس دوسرے کی معلومات میں سے پہلے کو کئی باتیں معلوم نہیں ہوتیں مگر کسی کو ناقص العلم نہیں کہا جاتا اغلب یہ ہے کہ مردوں کے مجمع میں حضرت رسولِ خداﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہوگا حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت صدیقِ اکبرؓ جیسے حضرت کو معلوم ہوگا مگر حضرت فاطمہؓ کو اطلاع نہ ہوئی اور نہ حضرت علیؓ نے بتلایا حضور اکرمﷺ قرآن و سنت کے مطابق عالم الغیب نہ تھے کہ آپﷺ کو بعد از وفات مطالبہ حضرت فاطمہؓ کا علم ہو تو ضرور ان کو بھی حدیث لا نورث سنا دیں، اور وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ۞ (سورۃ الشعراء آیت 214) سے نفی ميراث کی حدیث سنانی لازم نہ تھی تاکہ منصبِ نبوت پر حرف آئے کیونکہ آیت کا مقصد فکرِ آخرت پیدا کر کے اعمال بجا لانا ہے اور رشتہ داری پر بھروسہ نہ کرنا ہے اور یہ چیز اور سینکڑوں احادیث و آیات سنانے سے حاصل ہوچکی تھی۔

صفحہ 12 از 26