ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 26

اس کی امام بخاری رحمہ اللہ نے جلد، 1 صفحہ، 437 پر اور جلد، 2 صفحہ، 90 پر تخریج کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضرت عثمانؓ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ حضرت سعد ابی وقاصؓ حضرت زبیر بن عوامؓ حضرت عباسؓ بن عبد المطلب نے روایت کیا ہے تفسیر معارف القرآن: جلد، 6 صفحہ، 14 پر ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ثابت ہے اس میں ہے۔

ان العلماء ورثة الأنبياء وان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما وانما اورثوا العلم فمن اخذها اخذ بحظ وافر۔ (رواه ابوداؤد واحمد و ابنِ ماجۃ والترمذی)

ترجمہ: بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں بلاشبہ انبیاء نہ دینار کا وارث بناتے ہیں نہ دراہم کا وہ تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں جو اسے لے لیتا ہے وہ بڑا حصہ کما لیتا ہے۔

سیدنا عمر رضی الله عنہ تولیت صدقات میں سیدنا علیؓ و سیدنا عباسؓ کا نزاع ختم کرتے وقت سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرماتے ہیں:

انشدكم بالله الذی باذنه تقوم السماء والأرض هل تعلمون ان رسول اللهﷺ قال لا نورث ما تركنا صدقة يريد بذلك نفسه قالوا قد قال ذلك فاقبل عمرؓ الی علی و عباسؓ فقال انشدکم بالله ھل تعلمان ان رسول اللهﷺ‎ قد قال ذلك قالا نعم۔ 

(بخاری: جلد، 2 صفحہ، 575، 996)

ترجمہ: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا ہم وارث کسی کو نہیں بناتے جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اس سے حضورﷺ کی اپنی ذات مراد تھی پھر سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ و سیدنا عباسؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تم کو قسم دے کر پوچھتا ہوں تم جانتے ہو کہ رسول اللہ نے ایسا فرمایا ہے وہ کہنے لگے ہاں۔

ان ہی صفحات میں دوسری سند سے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے بھی مروی ہے مذکورہ بالا مصدقین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور حضرت عمرو بن حارث خزاعی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے:

حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی موافقت حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ حضرت عباسؓ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ حضرت طلحہٰؓ بن عبید الله زبیرؓ بن العوام سعد بن ابی وقاصؓ حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عائشہؓ یعنی دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی ہے اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ تنہا بھی ہوتے تو سب اہلِ زمین پر آپؓ کی روایت کو ماننا لازم تھا۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 5 صفحہ، 287)

کتب شیعہ سے ثبوت:

حدیث نفی میراث انبیاء کتب شیعہ میں بھی موجود ہے۔

1: محمد بن یحییٰ سلمہ بن خطاب سے وہ عبداللہ بن القاسم سے وہ زرعہ بن محمد سے اور وہ مفضل بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے اور محمدﷺ حضرت سلمان علیہ السلام کے وارث بنے اور ہم محمد مصطفیٰﷺ کے وارث ہیں ہمارے پاس علم تورات، انجیل اور زبور کا ہے اور الواحِ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا علم بھی ہے۔

2: احمد بن ادریس محمد بن عبد الجبار سے وہ صفوان بن یحییٰ سے وہ شعیب بن الحداد سے وہ فریس الکنانی سے روایت کرتے ہیں کہ میں ابو عبد اللہ صادقؒ کے پاس تھا اور ابو بصیر بھی بیٹھا تھا کہ سیدنا جعفرؒ نے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام تمام انبیاء کے وارث ہوئے حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث بنے اور محمدﷺ حضرت سلیمان کے وارث بنے اور ہم محمدﷺ‎ کے وارث ہیں ہمارے پاس صحفِ ابراہیم علیہ السلام اور الواحِ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ 

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 225 ایران باب ان الائمة ورثوا علم النبی وجميع الانبیاء) 

خود سرکار دو عالمﷺ کا ارشاد ہے:

3: ان العلماء ورثة الانبياء وان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه اخذ بحظ وافر۔

(اصول5 کافی: صفحہ، 34)

ترجمہ: بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام درہم و دینار کی میراث نہیں چھوڑتے لیکن وہ علم کا وارث بناتے ہیں جو وہ لیتا ہے وہ بڑی دولت حاصل کر لیتا ہے۔

باب ثواب العالم و المتعلم میں ایک لمبی حدیث کے آخر میں روایت بخاری کی طرح نفی میراث کی حدیث موجود ہے۔

4: عن ابی عبد الله عليه السلام قال ان العلماء ورثة الأنبياء وذالك ان الانبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا وانما اورثوا احاديث من أحاديثھم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافر أفانظر واعلمكم عمن تأخذون۔

(باب صفۃ العلم: صفحہ، 32)

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا بے شک انبیاء کے وارث علماء ہیں اس لیے کہ انبیاء درہم و دنانیر کا کسی کو وارث نہیں بناتے بلاشبہ وہ احادیث ہی وراثت میں چھوڑتے ہیں جو ان میں سے کچھ لے لیتا ہے وہ بڑا حصہ لے لیتا ہے تم اپنے علم میں غور کرو کن لوگوں سے لے رہے ہو۔

5: سیدنا علیؓ نے اپنے صاحبزادے محمد بن حنفیہ کو وصیت فرمائی:

و تفقہ فی الدین فان الفقهاء ورثۃ الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينار او لا درهما ولكنهم أورثوا العلم فمن اخذ منه أخذ بحظ وافر۔ (من لا يحضره الفقيه: جلد، 2 صفحہ، 346)

ترجمہ: اور دین میں سمجھ حاصل کر اس لیے کہ فقہاء ہی انبیاء کے وارث ہیں انبیاء درہم و دینار کی وراثت نہیں چھوڑتے لیکن صرف علم کی وراثت چھوڑتے ہیں جو اس سے حاصل کرتا ہے وہ بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔

6: خصال ابنِ بابویہ: صفحہ، 39 وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں خود سیدہ فاطمہؓ نے حضورﷺ سے حضرت حسنینؓ کے لیے میراث کا مالی مطالبہ کیا تو آپﷺ نے فرمایا حضرت حسنؓ کے لیے میرا رعب اور حضرت حسینؓ کیلئے میری شجاعت میراث ہے۔

صفحہ 11 از 26