ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 26

مالِ فے ایک ایسی ملک تھی جس کا حکم دوسری املاک سے مختلف تھا اموال کی یہی وہ قسم ہے جس بعد وفاتِ نبوی نزاع پڑا اور آج تک ختم نہ ہوا اور اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر یہی اشتباه بوتا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے ترکہ سے میراث نہ مانگتیں اور یہ گمان نہ کرتیں کہ دوسرے مالکوں کی طرح یہ بھی ملکیتِ پیغمبرﷺ ہے جس میں وراثت چلے گی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر اس ملکیت کی یہ حقیقت مخفی رہ گئی کہ اس قسم کی ملکیت میں وراثت نہیں چلتی جیسے اصول کافی کی ایسی حدیث گزر چکی ہے یہاں یہی سوال ہوتا ہے اور شیعہ بڑے طمطراق سے اچھالتے بھی ہیں کیا سیدہ فاطمہؓ جیسی عالمہ فاصلہ کو غلط فہمی ہوگئی تھی یا ان کو وراثت انبیاء کا مسںٔلہ معلوم نہ تھا تو جواب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق مذہبِ حنفیہ اہلِ سنت والجماعت میں جملہ کلیات و جزئیات کے ظاہر و باطن سے واقف اور عالم الغیب و الشہادۃ صرف اللہ کی ذات ہے شریعت کے اصول و ارکان کا علم تو ضروری ہے مگر غیر محدد فروع اور ضمنی جملہ مسائل کا ہر وقت نہ کاملین کے لیے علم شرط ہے نہ اس کا استحضار ضروری ہے 23 سال بتدریج نزولِ قرآنی اسی پر دال ہے حسبِ منشاءِ خداوندی ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جیسے:

سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓى ۞ (سورۃ الاعلیٰ: آیت، 6)

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ الخ۔ (سورۃ الاعلیٰ: آیت، 7)

شاہد ہے اور بسا اوقات کاملین سے اصابت فہم میں چوک ہو جاتی ہے حضرت آدم نبینا الصلاة والسلام شجر و السلام سے شجر منہی عنہ کی تعیین میں چوک ہوئی جو کچھ ہوا آل کے مفہوم میں حضرت نوح علیہ السلام نے صلبی بیٹے کو سمجھا مگر قرآنِ پاک نے اس کی نفی فرما دی حضرت ہارون علیہ السلام کو خلافتِ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حق ادا کرنے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاطی سمجھا اور سختی کی مگر حضرت ہارون علیہ السلام بے قصور تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے زعم میں تادیب کی خاطر قبطی کو مکا مارا مگر فی نفسہ قتل جیسا فعل سرزد ہوگیا پھر آپ نے معافی مانگی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمال حلم اور ایفائے عہد کے لیے والد کے لیے دعائے مغفرت کی مگر بعد میں بیزاری اختیار کرنی پڑی خود سرکار دو عالمﷺ و فداہ امی نے اپنے خیال کی رو سے غزوہ تبوک کے موقعہ پر بہانہ ساز منافقین کو شرکت نہ کرنے کی چھٹی دے دی نابینا صحابی کے اچانک آنے پر ناگواری ظاہر فرمائی اساریٰ بدر کو اپنے خیال میں فدیہ لے کر چھوڑ دیا ان تمام واقعات میں قرآنِ حکیم نے اس کے خلاف فیصلا دے کر آپ کی رائے کی تصویب کی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے حق مشورہ دینے سے نہ رکو کیونکہ میں اپنے نفس میں غلطی کرنے سے بالا نہیں ہوں۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 357 نہج البلاغہ: صفحہ، 436 جلد، 1 خطبہ صنفین) 

خود حضرت فاطمہؓ نے کئی مرتبہ غلط فہمی کی بناء پر دربار رسالت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت کی مگر آپؓ نے یکطرفہ وکالت کرنے اور معاملہ کو طول دینے کے بجائے صلح صفائی ہی کرائی کی ان تمام واقعات و شواہد کے پیش نظر ہم اس مسںٔلہ میں سیدنا علیؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے موقف کی تائید کریں او نیک نیتی کے باوجود حضرت فاطمہؓ کے خیال کو درست قرار نہ دیں جس سے بصورتِ خاموشی آپ نے رجوع کرلیا تو کیا کفر کی بات ہو جائے گی سنتِ نبویﷺ کے دلدادہ اہلِ اسلام کے لیے درد رکھنے والے تو ان بزرگوں کے اجتہادی اختلاف میں طرفین کے کمالِ ادب کے باوجود مصلحت اور قطع نزاع پر ہی صرف ہمت کریں گے مگر روزِ اول سے تاہنوز مسلمانوں میں جنگ و جدال اور اصولی اختلافات کو ہوا دیکر ملتِ اسلامیہ میں انتشار پھیلانے والے آج بھی ان مسائل میں تمام تر قوتیں صرف کر دیں گے۔

3: میراث کا سوال اٹھانے کی تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کی حکمت نفی میراثِ انبیاء کے مسںٔلہ کو واقعہ کے ضمن میں مشہور کرنا چاہتی تھی کیونکہ اخبار کی بہ نسبت واقعات دیر پانقوش چھوڑتے ہیں ممکن ہے حضرت فاطمہؓ کا باطن یہی مقصود ہو جیسے حدیبیہ کی بظاہر عاجزانہ مصالحت سے اسلام کو دراصل غالب اور شائع کرنا مقصود ایزدی تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت خضر علیہ السلام کی شاگردی اختیار کرنا پھر نباہ نہ ہوسکنا اس سے امورِ تکوینیہ کے اسرار کو کھولنا مقصود تھا۔ دنیائے امن کے محسن حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت اور بیعت در دست حضرت امیرِ معاویہؓ شیعہ کے علی الرغم بہت بڑی خدمت اسلام اور مسلمانوں کے خون کا تحفظ مقصود تھا جیسے علی العکس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بچوں تک کو قربان کرا دینا شیعہ کے خیال میں ہزار برس بعد میں پھیلنے والے ملنے والے یہ اسلام کے لیے تخم کاری کا سبب تھا کیونکہ منافقینِ کوفہ کے ہاتھوں سانحہ کربلا سے اہلِ بیتؓ اور محمدی اسلام کی عزت و عظمت کی بنیادیں حسبِ اعتراف حضرت سجاد اور ملا مجلسی صاحب پیوند خاک ہوگئی تھیں۔ 

حدیث لا نورث متفق علیہ ہے:

شیعہ حضرات بلا دلیل اس حدیث کو قول حضرت صدیقؓ کہتے ہیں حالانکہ یہ فرمانِ نبویﷺ ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا گویا اس پر اجماع ہے کتبِ شیعہ میں بھی یہ قطعاً ثابت ہے حافظ محب الدین طبری ریاض النضرہ میں لکھتے ہیں کہ نفی میراث کی حدیث کو جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں جن کے مرفوع الفاظ یہ ہیں:

لا يقسم ورثتی دینارا ولا درهما ما تركت بعد نفقة نسائی و مؤنتہ عاملی فهو صدقة۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 59)

ترجمہ: میرا ورثہ نہ دینار تقسیم ہوں گے نہ دراہم میری بیویوں کے خرچ اور خادموں کے نفقہ سے جو بچے وہ صدقہ ہوگا۔

صفحہ 10 از 26