فتوحاتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دوران حاصل ہونے والے اہم…

فتوحاتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دوران حاصل ہونے والے اہم ترین دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞   وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا ۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا ۞

(سورۃ النساء آیت نمبر 74 تا 76)

ترجمہ: لہٰذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہوجائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا (اے مسلمانو) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں۔ 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکار مسلمانوں کو فضیلت جہاد سے آگاہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ نے ان کے مشاعر و جذبات کو بھڑکا دیا اور ان سے ان کی طاقتیں ابل پڑیں۔ ان احادیث میں سے چند پیش خدمت ہیں:

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ مومن جو اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتا ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2786)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کے درجات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’بے شک جنت میں سو درجات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ جب تم اللہ سے کچھ مانگو تو اس سے جنت الفردوس مانگو اس لیے کہ وہ بہترین اور بلند ترین جنت ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2790)

 نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کی فضیلت و کرامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو اس کی راہ میں نکلا اور اسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے اس راہ میں نکالا کہ یا تو میں اسے اجر و ثواب کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا یا اسے جنت میں داخل کروں گا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں کسی بھی لشکر کے پیچھے بیٹھا نہ رہتا، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کر دیا جاؤں۔‘‘

(مسلم: جلد 3 صفحہ 1497)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد گرامی ہے: ’’جنت میں داخل ہونے والا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو دنیا میں واپس جانا چاہتا ہو چاہے اسے دنیا کی ساری دولت مل جائے بجز شہید کے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اسے دس بار شہید کیا جائے کیونکہ وہ وہاں شہادت کی عزت دیکھتا ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2817)

پہلے مسلمان اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے ان آیات و احادیث سے متاثر ہوئے، بڑی عمر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب جہاد کے لیے نکلتے اور پھر اس میں عملاً حصہ لیتے تو لوگ ان پر ترس کھاتے اور انہیں جہاد میں حصہ نہ لینے کے بارے میں کہتے اس لیے کہ وہ معذور ہیں مگر وہ جواب دیتے کہ سورہ توبہ انہیں جہاد ترک کر کے گھر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی، اگر وہ جہاد سے پیچھے رہے تو انہیں اپنے بارے نفاق کا ڈر ہو گا۔

(فی سبیل اللہ: قادری: جلد 1 صفحہ 145)

علماء، فقہاء اور زہاد کا ان آیات و احادیث پر مبنی لوگوں کی تربیت کرنے میں بھی بڑا کردار رہا ہے۔ ان علماء میں معمر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے جیسا کہ ابو ایوب انصاری اور ابن عمرو دیگر رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے ابو مسلم خولانیؒ۔ ان کے نزدیک جہاد فی سبیل اللہ امت اسلامیہ کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے، لہٰذا انہوں نے بلاد شام، شمالی افریقہ، خراسان، سجستان اور سندھ کی فتوحات میں یہ فریضہ سرانجام دیا، اور ان کی طرف سے اس فریضہ کی ادائیگی پر بہت سارے ثمرات مرتب ہوئے، مثلاً: امت اسلامیہ میں بشریٰ قیادت کی اہلیت پیدا ہوئی، کفار کا رعب و دبدبہ ختم ہوا اور انہیں کمزور کر دیا گیا۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب پیدا ہوا اور لوگوں پر دعوت اسلامیہ کی سچائی ثابت ہوئی جس کی وجہ سے وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے جس سے مسلمانوں کی عزت میں مزید اضافہ ہوا اور کافر مزید ذلیل ہو گئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی صفوں میں وحدت پیدا ہوئی اور انہوں نے لوگوں کو اسلام کے نور اور اس کے عدل و رحمت کے ساتھ سعادت مند بنایا۔

(الجہاد فی سبیل اللہ: جلد 2 صفحہ 411، 482)


صفحہ 2 از 2