ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر امت نے نبی کے جنازے پر خلیفہ کے انتخاب کو فوقیت دی ہو اگر ایسی کوئی مثال ما سلف میں نہ ملے تو امت مصطفیٰ اللہﷺ نے ایسا کرنا کیونکر مناسب سمجھا۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: جب حضورﷺ کو کفن دیا جا چکا اور چارپائی پر آپ کو رکھا جا چکا تھے تو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ داخل ہوئے اور فرمایا سلامتی ہو آپ پر اللہ کی اور رحمتیں او برکتیں اے اللہ کے نبیﷺ اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت بھی داخل ہوئی جتنے حجرے میں آسکتے تھے انہوں نے سلام کیا جیسا حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے سلام دیا تھا حضرت ابوبکرؓ صفِ اول میں حضورﷺ کے سامنے تھے اور یوں کہتے جاتے تھے کہ اے اللہ آپ نے وہ پیغام پوری پہنچا دی جو آپ نے ان کی طرف وحی کی تھی پھر یہ نکلتے تھے اور دوسر سے داخل ہوتے تھے یہاں تک کہ سب مردوں اور عورتوں بچوں نے نماز و سلام کا فریضہ ادا کیا۔

جنازہ مبارک پڑھنے کی یہی کیفیت طبقات ابنِ سعد: جلد، 5 صفحہ، 201 اور سیرت حلبیہ: جلد، 3 صفحہ، 364) پر موجود ہے۔

 اور بخاری شریف میں حضرت ابوبکرؓ کا گھر سے آتے ہیں حضورﷺ کا چہرہ کھولنا اور جھک کے بوسہ دینا اور رونا بھی پھر مشہور خطبہ دینا مذکور ہے۔ 

سنی و شیعہ ان تصریحات کے باوجود کیا اب بھی کسی شخص کو یہ جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے کہ حضراتِ شیخین شریکِ جنازہ نہ تھے ان صحیح و معتبر روایات کی روشنی میں اس قسم کی ضعیف و شاذ کوئی روایت کیسے قبول ہو سکتی ہے۔

جس میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ جنازہ و دفن میں موجود نہ تھے جیسے کہ کنز الاعمال کی روایت ہشام بن عروہ سے نقل کی جاتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ حضورﷺ کے دفن کے بعد لوٹے حالانکہ ہشام تو عروہ کا بیٹا ہے خود عروہ کی ولادت حضرت عمرؓ کی خلافت کے اخیر میں یا حضرت عثمانؓ کی خلافت کی ابتداء میں ہوئی۔ (تذكرة الحفاظ: جلد، 1 ١صفحہ، 59 تہذيب التہذيب: جلد، 7 صفحہ، 183) 

لہٰذا اس واقعہ میں خود عروہ کی موجودگی محال ہے چہ جائیکہ اس کا بیٹا ہشام موجود ہو بہر حال یہ روایت منقطع اور غیر معتبر ہے متناً شاذ ہے تو روایات مسند صحیحہ کے مقابلے میں مردود ہے۔ 

(بحوالہ جنازہ الرسول از علامہ تونسوی صاحب)



صفحہ 3 از 3