ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر امت نے نبی کے جنازے پر خلیفہ کے انتخاب کو فوقیت دی ہو اگر ایسی کوئی مثال ما سلف میں نہ ملے تو امت مصطفیٰ اللہﷺ نے ایسا کرنا کیونکر مناسب سمجھا۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3

(اصول کافی: جلد، 2 صفحہ، 244 رجال کشی: صفحہ، 8 روضہ کافی، حیات القلوب، کی روایات کی روشنی میں جب سوائے تین شخصوں کے حضرت علیؓ کا طرفدار ہی کوئی نہ تھا تو اگر ایک مہینہ بھی بالفرض انتخاب مؤخر ہو جاتا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو تو خلافت نہ ملتی اور جسے بھی ملتی شیعہ تو اس کے دشمن ہی ہوتے ہاں امتِ افتراق کا شکار ہو جاتی منافق سازش کرتے فتنہ ارتداد اور کفارہ کی یلغار کو دفعہ کرنے والا کوئی نہ ہوتا پیغمبرﷺ‎ کی وفات کے ساتھ اسلام کا جنازہ بھی اٹھ جاتا تو آج شیعہ خوشی سے نغمیں بجاتے جیسے آج بھی ان کا قطعی متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ‎ کی وفات کے بعد سوائے چار آدمیوں کے سب مرتد ہو گئے۔(روضہ کافی: صفحہ، 246، 296) 

یہ ہے ان کی سلام اور پیغمبرﷺ‎ محنت و قربانی اور تعلیم و تربیت سے محبت تُف ایسے عقیدہ و مذہب پر اور امامت کے تکفیر باز مسئلہ پر۔

جنازہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شرکت:

جھوٹ اور بہتان تراشی میں یہ ماہر فرقہ کہتا رہتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنازہ نہیں پڑھا اور خلافت کے جھگڑے میں لگے رہے اس لیے اس مسئلہ پر بھی کچھ روشنی ڈالتا چلوں۔

انتخابِ امام میں چنداں دیر نہیں ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ بحکمِ نبویﷺ‎ و صدیقی ابھی غسل سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بیعتِ خلافت تام ہو گئی۔ (مراة العقول: صفحہ، 371 احتجاج طبرسی: صفحہ، 52 اور کتاب الروضہ: صفحہ، 159 پر ہے)

قال سلمانؓ فاتیت علیها علیه السلام و ھو یغسل رسول اللهﷺ‎ فاخبرته بما صنع الناس وقلت ان ابا بکرؓ الساعة على منبر رسول اللهﷺ‎۔

ترجمہ: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حضرت علیؓ کے پاس آیا ابھی وہ غسلِ نبویﷺ‎ دے رہے تھے تو میں نے ان کو سب لوگوں کی کارروائی بیعتِ حضرت ابو بکرؓ بتلائی اور کہا کہ ابھی سیدنا ابو بکرؓ منبر رسولﷺ‎ پر بیٹھے ہیں۔

پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ سب مسلمانوں کے ساتھ جنازے پر جمع ہوئے آگے سیدنا جعفرؒ کی حدیث ملاحظہ ہو:

حضرت عباسؓ حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور کہا تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ حضرت رسولﷺ‎ کو بقیع میں دفن کریں اور حضرت ابوبکرؓ آگے بڑھ کر حضورﷺ‎ پر جنازہ پڑھائے پھر حضرت علیؓ پہنچ گئے تو فرمایا لوگو حضورﷺ‎ کی زندگی میں آپ کا امام کوئی نہ تھا اب بھی کوئی امامت نہ کرے فرداً فرداً لوگ دعا پڑھیں۔ 

(حیات القلوب: صفحہ، 664 جلاء العیون: صفحہ، 70)

گو اس روایت میں غلط بیانی کر کے حضرت صدیق اکبرؓ پر طعن مقصود ہے کیونکہ تاریخی حقائق کے پیشِ نظر امام نہ بنانے کی رائے حضرت ابوبکرؓ نے ہی دی تاہم جنازہ الرسولﷺ‎ پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجتماع اور صدیق پر سب کا اتفاق شیعہ کے گھر سے معلوم ہو چکا وللہ الحمد مزید سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شرکت کی احادیث ملاحظہ ہو'

1: اصولِ کافی باب مدفنہ و صلاتہ میں ہے:

عن ابى جعفرؒ قال الما قبض رسول اللهﷺ‎ صلت عليه الملائكة والمهاجردن و الانصار فوجاً فوجاً۔ 

(تفسیر صافی: صفحہ، 426) 

ترجمہ: سیدنا باقرؒ نے فرمایا جب رسول اللہﷺ‎ کی وفات ہو گئی تو آپ پر سب فرشتوں نے سب مہاجرین نے سب انصار نے گروہ گروہ ہو کر نماز پڑھی۔

حتىٰ لم يبق احد من المهاجرین والأنصار إلا صلى علیہ۔

ترجمہ: حتیٰ کہ مہاجرین و انصار میں سے ایک بھی نہ بچا جس نے نماز نہ پڑھی ہو۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 664 حق الیقین: صفحہ، 13) 

پر ان احادیث کا فارسی ترجمہ موجود ہے اور یہ تصریح بھی ہے:

تا آنکه خورد و بزرگ مرد و زن اہل مدینہ و اطراف مدینہ همہ بر آن حضرت چنیں نماز کردند۔

ترجمہ: حتیٰ کہ چھوٹے بڑے، مرد و عورتیں مدینہ والے اور آس پاس کی بستیوں والے سب نے حضرت پر اس طرح نماز جنازہ پڑھی۔

(ضمیمہ جات مقبول ترجمہ: صفحہ، 145 اور احتاج طبرسی: صفحہ، 56) پر بھی جملہ مہاجرین و انصار کی شرکت اور جنازہ مرقوم ہے۔

ان صریح احادیث کے باوجود یہ کہنا کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنازہ نہیں پڑھا کتنا بڑا جھوٹ ہے کیا مدینہ و اطراف مدینہ مہاجرین و انصار مرد و زن خورد و کلاں کے عموم سے یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خارج ہیں پھر سیدنا جعفر صادقؒ کیوں بیان کرتے ہیں حضراتِ شیخینؓ کی استثناء کیوں نہیں کرتے آخر آپ کو ان سے کیا ڈر تھا؟

جب اپنے گھر سے لاجواب ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کتبِ اہلِ سنت میں ان کی شرکت جنازہ کی صراحت نہیں ملتی حالانکہ کتاب کسی بھی مذہب کی ہو ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شرکت بتانے کے لیے سب مہاجرین و انصار کل مرد و زن اور مدینہ و اہلِ مدینہ خورد و وکلاں جیسے عمومی الفاظ بیان کیے جاتے ہیں نہ کہ شخصی نام کیا دس دس آدمیوں کے جنازہ خواں گروہوں میں کسی میں حضرت علیؓ اور دیگر چار مؤمن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی شرکت کی صراحت ملے گی؟ اگر نہیں تو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے لیے یہ مطالبہ کیسے کیا جاتا ہے عموم سے استثناء کے لیے خصوصی اور قوی ترین دلیل درکارہ ہوتی ہے یہ ایک اصولی بات عرض کی ہے کہ شیعہ حضرات دو طرفہ بےانصافی کرتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمومی مناقب سے حضراتِ خلفائے کرام و اکابرینؒ امت کو بلا دلیل خصوص نکالتے اور دلیل خاص کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اپنا مذہب کشیدہ کرنے کے لیے عموم سے خصوص پر استدلال کرتے ہیں اور دلیل خاص کی ضرورت نہیں سمجھتے لیکن حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ اساطین امت ہیں ان کا تذکرہ خصوصیت سے بھی یقیناً ملتا ہے البدایہ والنہایہ میں ہے۔

لما كفن رسول اللهﷺ‎ ووضع على سریرہ دخل أبو بكرؓ و عمرؓ فقالا السلام عليك أيها النبی ورحمة الله وبركاته ومعهما نفر من المهاجرين و الانصار قدر ما يسع البيت فسلموا كما سلم ابو بکرؓ و عمرؓ ما فی الصف الاول قال رسول اللہﷺ اللهم انا نشهد الله قد بلغ ما انزل اليه ثم یخرجون و يدخل آخرون حتىٰ صلوا علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبيان۔  (البدایہ: جلد، 5 صفحہ، 625)

صفحہ 2 از 3