قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 6

 ہجر کے معنیٰ چھوڑنا اور ترکِ کلام لغت کے علاوہ قرآن و حدیث میں مستعمل ہے صحیح حدیث میں ہے۔ لا یحل المسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاثة اخاہ۔

ترجمہ: مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے دینی بھائی سے تین دن سے زیادہ گفتگو ترک کرے۔

 اور حدیث سوالِ فاطمہ رضی اللہ عنہا میں ہے فھجرت ابابکرؓ 

ترجمہ: پس سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے اس مسئلے میں گفتگو چھوڑ دی۔

حدیث عائشہؓ میں ہے ما اهجر الا اسمك۔ (بخاری)

ترجمہ: حضورﷺ صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں دلی محبت بدستور ہے۔

 نیز فرماتی ہیں: ولقد هجر فی القريب والبعید۔

ترجمہ: مجھے قریب و بعید سب نے چھوڑ دیا۔

 کیا یہاں بکواس اور ہذیان کے معنیٰ ہوں گے کہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ گالی بکنا جائز نہیں اور حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو گالیاں دیں یا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضورﷺ کے نام کو گالی دی یا ان کو قریب و بعید نے گالی دی؟ تو حدیث میں زیرِ بحث یہ معنیٰ کیوں درست نہیں؟ کیا حضورﷺ نے زبانی ارشاد فرمانا چھوڑ دیا ہے کہ لکھوانے کا حکم دیتے ہیں یا لغت و استعمال کے لحاظ سے اس میں کیا خرابی ہے؟ چھوڑ نے اور جدائی کے معنوں میں کئی جگہ قرآنِ کریم میں بھی یہ صیغہ استعمال ہوا ہے۔

1: مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ۞(سورۃ المؤمنون: آیت، 67)

 ترجمہ: اور تکبر کر کے اس ہمارے رسول ﷺ کو مثلِ کہانی کہنے والے کے چھوڑ بیٹھا کرتے تھے۔

2: اِنَّ قَوۡمِى اتَّخَذُوۡا هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا ۞ (سورۃ الفرقان: آیت، 30)

ترجمہ: میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔ 3: وَاهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرًا جَمِيۡلًا ۞(سورۃ المزمل آیت، 10)

ترجمہ: اور ان کو خوبی کے ساتھ چھوڑ بیٹھو۔

4: وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ ۞(سورۃ المدثر: آیت، 5)

ترجمہ: اور میل کچیل کو دھو ڈال۔

5: وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ الخ۔(سورۃ النساء: آیت، 34)

ترجمہ: اور ان کے بستروں پر ان کو چھوڑ دو۔

( پارہ 5آیت 36)

وَاهۡجُرۡنِىۡ مَلِيًّا ۞(سورۃ مریم: آیت، 46)

ترجمہ: اور ایک عرصہ کے لیے مجھ سے جدا ہوجا۔(متراجم مقبول) 

تو کیا ہجحر کا معنیٰ ہذیان ہو سکتا ہے حاشا و کلا اسی طرح زیرِ بحث حدیث میں یہ مطلب ہے کہ کیا آپﷺ جدا ہو رہے ہیں یا دنیا کو چھوڑ کر جانے والے ہیں استفهموہ پوچھ تو لو چنانچہ شارحین اس کے معنیٰ میں لکھتے ہیں:

هجر ای یھجر من الدنيا واطلق لفظ الماضى لما را وافيه علامات الهجرة عن دار الفناء۔(كرمانی شرح بخاری)

ترجمہ: یعنی آپ دنیا سے رخصت ہونے لگے ہیں لفظ ماضی کا بولا کیونکہ آپﷺ میں دارالفناء سے کوچ کی علامات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دیکھیں۔

یہ مطلب بالفرض ہمزہ استفہام کے نہ ثابت ہونے پر ہے ورنہ بخاری ہیں یہ چھ مرتبہ حدیث آئی ہے تین جگہ تو ہجر کا لفظ ہی نہیں ہے اور تین جگہ آیا ہے تو ہمزہ استفہام کے ساتھ ہے۔ 

(جلد، 1 صفحہ، 429، جلد، 1 صفحہ، 449 ، جلد، 2 صفحہ، 348) 

استفہام کی صورت میں ہجر کا جتنا ہی نامناسب معنیٰ تراشا جائے بہر حال اس کی نفی ہو رہی ہے

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اہجر ای هو بهمزة الاستفهام الانکاری اے انکروا علی من قال لا تكتبوا اى لا تجعلوا كامرمن هذا فی كلامه۔ (حاشیہ بخاری: صفحہ، 429)

اھجر یہ استفہامِ انکاری ہے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان لوگوں پر گرفت کی جو یہ کہتے تھے کہ نہ لکھواؤ یعنی حضورﷺ کا معاملہ ایسا نہ جانو جیسے مخبوط الکام کا ہوتا ہے۔

نیز محدثین ہجر معنیٰ ہذیان مریض کا مختلط کلام حضورﷺ کے لیے جائز نہیں سمجھتے۔

الھذیان الذی یقع فی کلام المریض الذی لا ینتظم وھذا مستحیل وقوعہ صحة ومرضا۔

ترجمہ: اور بے تکی باتیں جو مریض سے صادر ہوتی ہیں اور بے ربط ہوتی ہیں معصوم علیہ السلام سے ان کا وقوع صحت میں اور مرض میں محال ہے۔

حاصل یہ نکلا: 

اول: تو اھجر کے قائل سیدنا عمرؓ نہیں۔ 

دوم: یہ کہ ہجر کہ معنیٰ ہذیان لینا درست نہیں قرآن و حدیث اس کی تائید نہیں کرتے۔

سوم: یہ کہ ہمزہ استفہامِ انکاری ہے۔

 چہارم: شارحین ہذیان والے معنیٰ کو اس مقولہ میں مراد نہیں لیتے اب خواہ مخواہ لغت کے ایک معنیٰ کو لے کر علامہ شبلی رحمہ اللہ نے الفاروق میں اس معنیٰ کو لکھ کر پھر تردید کی ہے نہ تائید حضرت عمرؓ پر برسنا اور دیگر حقائق سے منہ موڑ لینا کیا یہی دیانت و انصاف ہے اہلِ سنت کی ان تصریحات کی موجودگی میں توجیہ الکلام ما لا یرضی یہ قائلہ پر اصرار شیعہ ہی کا خاصہ ہے لیکن کیا

 وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى‌ ۞(سورۃ طٰہ: آیت، 121)

 ترجمہ:  اور آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرنی کی پس نا کام رہے کی تشریح و تفہیم جو مسلمان کریں وہ معتبر ہوگی یا جو کافر لغت سے معین کریں وہ مراد ہوگی بینوا؟ 

امر سوم: تحریر نہ ہونے سے امت کی گمراہی شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر میں رکاوٹ ڈال کر امت کی گمراہی کا سبب بنے اگر لکھ دی جاتی تو امت گمراہ نہ ہوتی نہ معلوم یہ لوگ اعتراض کرتے وقت عقل وخرد کا دامن کیوں چھوڑ دیتے ہیں اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ایک شخص کے حسبنا کتاب اللہ کہنے سے حضورﷺ نے امت کو گمراہی سے بچانے کا ارادہ ترک کر دیا خدا نے بھی وہ وحی واپس لے لی سیدنا عمرؓ کی بات ایسی غالب آئی کہ حضورﷺ کی 23 سالہ محنت اور قربانی بھی امت کو گمراہی سے نہ نکال سکی اور آپﷺ حسرت سے اپنے مشن میں معاذ اللہ نا کام ہو کر رخصت ہوئے غیر مسلم شیعہ کی اس بے تکی بات پر کیا مذاق اڑائیں گے کہ ایک شخص کے اختلاف کرنے پر خدا اور سول نے اصلاح امت کا فریضہ بھی چھوڑ دیا واضح تر بات ہے کہ آپﷺ کی آخری عمر میں:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت، 3)

 ترجمہ:  آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے سے تکمیل دین کا اعلان ہو چکا۔

فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِىۡۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ‌ الخ۔ (سورۃ الزخرف: آیت، 43)

ترجمہ: جو وحی آپ کو ہو چکی ہے اسے تھام لیں سے وحی الہٰی کا خاتمہ ہوگیا۔

وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞(سورۃ النصر: آیت، 2) 

ترجمہ: اور تو دیکھے گا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج کی داخل ہوں گے کی بشارتیں بھی پوری ہوگئیں۔

صفحہ 3 از 6