اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف…

اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرت افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگ جمل و جنگ صفین میں بنفس نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اترے کیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ شجاع تھے؟ یا حکومت وقت کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب حضرت خالد بن ولیدؓ کو مل گیا نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالمے مولانا شبلیؒ نے کتاب الفاروق صفحہ 285 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہیں انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین ہیں پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

ان چاروں رواۃ کے تراجم کتب رجال تقریب، تہذیب، میزان الاعتدال میں نہیں ملے جیسے عمر اور علی کا ولدیت و نسبت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی پتہ نہیں لگتا اسی طرح اولادِ طلحہٰ کا ایک آدمی "ایں ہمہ خانہ مجاہیل است" کا مصداق ہے۔

دوسرے مکالمہ کی سند میں ابنِ حمید، سلمہ، محمد بن اسحاق، ایک آدمی از عکرمہ از ابنِ عباس ہیں۔(طبری: جلد، 4 صفحہ، 223) 

ایک آدمی از عکرمہ بالکل مجہول ہے محمد بن اسحاق صاحب المغازی پر کڑی جرح موجود ہے لیکن اس کا راوی سلمہ بن الفضل الابرش تو شیعہ مذہب رکھتا تھا، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی احادیث میں کچھ مناکیر ہیں نسائی رحمہ اللہ ضعیف کہتے ہیں ابو حاتم رحمہ اللہ اسے نا قابلِ احتجاج کہتے ہیں ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے شہر کے باشندے اس کی بدعقیدگی اور ظلم کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہیں صرف ابنِ معین کہتے ہیں ہم نے اس کی باتیں لکھی ہیں مغازی میں اس کی کتاب خوب جامع ہے۔

(میزان الاعتدال: جلد، 2 صفحہ، 192) ابنِ محمد کا ترجمہ ملا ہی نہیں بھلا ایسی لچر سند والی روایتوں سے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرنا شیعہ ہی کو زیب دیتا ہے۔ 

ثانیاً: شیعہ کو یہ مکالمے چنداں مفید بھی نہیں کیونکہ جب ان مکالموں کی رو سے سیدنا علیؓ کی طرفدار ان کی قوم بنو ہاشم بھی نہیں ہوئی اور ان کو نبوت و خلافت کا ایک خاندان میں جمع ہونا گوارا نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرات حربِ تقیہ رکھنے کے باوجود ایک ہاشمی کی بھی اپنی کتب سے نشاندہی نہیں کر سکتے جس نے بقولِ شیعہ سیدنا علیؓ کے حقِ خلافت کی تائید کی ہو حوالہ جات سوال 2 کے جواب میں گزر چکے ہیں پھر آپ کیسے دعویٰ خلافت کر کے لوگوں کی نظروں میں مطعون ہوتے اور خلفاء سے کشیدہ و بیزار رہتے کیا۔

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ الخ۔(سورۃ آلِ عمران: آیت، 26)

ترجمہ: کہیے اے اللہ تو ہی بادشاہی کا مالک ہے جسے چاہتا ہے بادشاہی دیتا ہے کی شان اور وعدے خداوندی

لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ الخ۔ (سورۃ النور: آیت، 55)

ترجمہ: الله ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یقیناً زمین میں خلیفہ بنائے گا وغیرہ جیسی آیات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و سیدنا ابنِ عباسؓ کے پیشِ نظر نہ تھیں جب اللہ نے حسبِ وعدہ ایک حق حق دار کو پہنچا دیا اور آیتِ استخلاف کو سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ہی منطبق کیا۔

(شرح نہج البلاغہ فیض الاسلام نقی: جلد، 1 صفحہ، 432) 

تو اس حقیقت کے باوجود تمنائے خلافت یا خلفاء پر حسد کیسا؟ افسوس کہ شیعہ حضرات اپنا باطل نظریہ ثابت کرنے کے لیے ان بزرگوں پر حسد اور طلبِ جاہ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

مکالمہ میں حضرت ابنِ عباسؓ کی زبانی بنی ہاشم کا مثل آدم محسود ہونا بتایا گیا ہے حالانکہ یہ حقیقت کے بر خلاف ہے حسد ہمیشہ کم خوبیوں والا اعلیٰ خوبیوں والے پر کرتا ہے بنو ہاشم میں سے نبوت تو صرف سرورِ کائناتﷺ کا خاصہ تھی قرابتِ نبویﷺ گو ظاہری فضیلت اور ضرور قابلِ احترام ہے لیکن قرآنی تعلیم کے مطابق افضلیت کا معیار قرابتِ پیغمبر کے بجائے، ایمان تقویٰ اور اعمالِ صالحہ میں سبقت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ سوائے حضرت علیؓ کے صغر سنی میں اور حضرت ابو عبیدہ بن الحارثؓ، حضرت جعفر طیارؓ پھر حضرت حمزہؓ کے کسی ہاشمی نے سبقت الی الاسلام والہجرت نہیں کی غیر بنو باشم سابقون میں ہیں تو نبوت سے فیض یافتہ ہونے میں غیر ہاشمی یا بنو ہاشم کے ساتھ شریک ہیں یا ان سے افضل ہیں پھر شیعہ کے اعتقاد کے مطابق عام مسلمانوں کے دلوں میں بنو ہاشم کا وقار و اکرام ہی نہ تھا کہ سب ہی حضرت علیؓ کو چھوڑ کر خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر متفق ہوگئے پھر کس بات میں ان حضرات پر کوئی حسد کرتا بالفرض اگر کوئی محسود تھا اور آج تک ہے تو وہ خلفائے راشدینؓ ہی ہیں کہ سب امت کے دلوں میں بس کر نیابتِ پیغمبر کا حق ادا کیا خدا نے فتوحات کے دروازے ان پر کھول دیئے قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں تلے روندے گئے نصف سطح ارضی پر توحیدِ خداوندی اور رسالتِ محمدیﷺ کے پرچم لہرائے اور آج بھی 90 کروڑ مسلمان خطبات و دعاؤں میں ان کو ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں روافض کی طرح اپنے ان بزرگوں کے نام پر گدا گری کر کے کشکولِ خیرات نہیں بھرتے۔ 

(رضی اللہ عن جميع الصحابہؓ)


صفحہ 4 از 4