اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف…

اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرت افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگ جمل و جنگ صفین میں بنفس نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اترے کیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ شجاع تھے؟ یا حکومت وقت کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب حضرت خالد بن ولیدؓ کو مل گیا نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالمے مولانا شبلیؒ نے کتاب الفاروق صفحہ 285 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہیں انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین ہیں پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

رہا یہ شبہ کہ عہدِ راشدہ کے جنگ و جہاد میں شریک کیوں نہ ہوئے تو یہ مثبت اختلاف نہیں جب آپ وزارتِ افتاء مشاورت جیسے اہم عہدوں کی ذمہ داری لے کر خلافتِ راشدہ کی خدمت کر رہے تھے تو عام سپاہی کی حیثیت سے تلوار لے کر لڑنا کون سی فضیلت کی بات ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اہم مصروفیات کی وجہ سے خود کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تو حقانیتِ خلافتِ راشدہ پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے خلافتِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ میں فتح افریقہ میں شریک ہو کر باقاعدہ جہاد کیا اور حصہ غنیمت پایا اسی طرح حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فتح قسطنطنیہ میں یہ دو حضرات حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہم کے ہمراہ شریک ہوئے۔

(طبری البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 32 وغیرہ) 

شیعہ کے معتمد بزرگ سیدنا حسن بصریؒ عہدِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں شریک جہاد ہوتے تھے۔ 

(ملاحظہ ہو جلاء العیون: صفحہ، 270) 

اسی طرح حضرت سلمان فارسیؓ جیسے زاہد و متقی اور مؤمن عندالشیعہ شخصیت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں مدائن کی گورنر رہے۔ ملا باقر علی مجلسی حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 651 پر لکھتے ہیں:

زیرا که عمرؓ اور اوالی مدائن گردانید تا ابتداۓ خلافت امیر المؤمنین والی بود

 کیونکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو مدائن کا حاکم بنا دیا تھا آپ حضرت امیر المؤمنین کی خلافت تک والی رہے۔ 

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے رفیقِ خاص سیدنا عمار بن یاسرؓ کو ان کی درخواست پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا حاکم بنایا تھا مگر کوفہ کے لوگ آپ کے قابو میں نہ آئے تو معزول ہوکر واپس آگئے۔ (کتب تاریخ) 

جمل و صفین کی جنگیں جہاد نہ تھیں بلکہ بلوایانِ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی سازش سے آپ کو لڑنا پڑا جس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی ہم یہاں مولانا محمد صدیق صاحب کا کشف الاسرار سے اسی بات کے جواب کا اقتباس نقل کرتے ہیں۔

 لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ذوالفقار کے نیام سے نکلنے کے باوجود ان میں سے کوئی چیز وقوع پذیر نہ ہوئی داخلی محاذ پر اگرچہ باہمی جنگیں ہوتی ہیں لیکن حضرت علیؓ کے حامیوں کی تعداد کم اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے حامیوں کی تعداد بڑھتی رہی سیدنا علیؓ کے زیرِ اقتدار رقبہ کم ہوتا رہا اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے مقبوضات میں اضافہ ہوتا رہا اس پورے چھ سالہ دور میں حضرت علیؓ کے ہاتھوں ایک انچ رقبہ بھی کفار کے ہاتھوں سے نکل کر اسلامی مملکت میں شامل نہیں ہوا اور وہ مسلمان جو قیصر و کسریٰ کے تخت روند رہے تھے ایک بار پھر قیصر کی دھمکیوں کا نشانہ بن گئے مذہبی طور پر مسلمانوں میں جس قدر انتشار اس دور میں ہوا اس سے قبل موجود نہ تھا پہلے مسلمانوں کی جمعیت اور کلمہ واحد تھا ایک ہی فرقہ تھا جسے مسلمان کہتے ہیں لیکن اب شیعہ کا وجود منظرِ عام پر آیا خوارج معرضِ وجود میں آئے سیدنا علیؓ کی الوہیت کے قائلین دکھائی دیئے حضرت علیؓ کو نعوذ باللہ کافر قرار دینے والے ببانگ دہل اپنے عقائد و افکار کا پرچار کرنے لگے۔ آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ ذوالفقار کا نیام کے اندر رکھنا امتِ مسلمہ کے لیے بہتر تھا جیسا کہ خلفاء ثلاثہؓ کے دور میں ہوا یا اس کا نیام سے باہر نکلنا جب کہ ہم حضرت علیؓ کی وفات کے بعد دیکھتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے ذوالفقار نیام میں ڈالی تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی قیادت میں مسلمان ایک بار پھر متحد ہو کر کفار کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے جہاد کا آغاز کیا نئے علاقے فتح ہونے لگے مسلمان علمی تہذیبی اور ثقافتی طور پر پھر عروج کی طرف گامزن ہو گئے اور اس پورے دور 20 سال میں کہیں کوئی شورش یا فتنہ نظر نہیں آتا بلکہ 41ھ کو مسلمانوں نے عام الجماعہ کا نام دیا۔

مزید غور کیجیئے کہ سیدنا حسینؓ نے جب ذوالفقار کو ایک بار پھر نیام سے نکالا تو عالمِ اسلام کو دوبارہ خونی حوادث سے دو چار ہونا پڑا کربلا کا سانحہ پیش آیا مدینہ میں قتل و غارت ہوئی اور جب سیدنا زین العابدینؒ نے ذوالفقار کو نیام میں ڈال دیا تو عبد الملک بن مروان، ولید بن عبدالملک وغیرہ خلفاء کی زیرِ قیادت مسلمان پھر متحد ہو کہ کفار پر عذاب لے آئے ان حقائق کی روشنی میں شیعہ حضرات سے ہی ہم فیصلہ چاہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کا ذوالفقار کو میان سے باہر نکالنا بہتر تھا یا اسے میان کے اندر رکھنا بہتر تھا۔ (کشف الاسرار: صفحہ، 86، 85)

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کا لقب خلفاء نے نہیں خود حضورﷺ نے عطا فرمایا تھا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 531، جلد، 2 صفحہ، 611) جب کہ آپ نے غزوہِ مؤتہ میں کمان سنبھال کر 8 تلواریں توڑیں اور تین ہزار کے معمولی لشکر کو ایک لاکھ مسلح رومیوں سے مقابلہ کرا کر اور حکمتِ عملی سے بخیر و عافیت واپس لے کر آئے۔

حضرت خالدؓ گو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے شجاع نہ ہوں مگر کفار ان کے ہاتھ سے زیادہ قتل ہوئے عہدِ صدیقی میں مرتدین مسیلمہ کے پیروکار اور فتوحاتِ شام کے معرکوں میں حضرت خالدؓ کا بہت بڑا نمایاں حصہ ہے۔ (ملاحظہ ہو ابنِ سعد: جلد، 2 صفحہ، 130) 

شیعہ دوستو! یہی تو ہماری دلیل ہے کہ مدارِ فضیلت اخلاص کے ساتھ جہاد میں شرکت اور ثابت قدمی ہے بالفعل تکثیر قتل تو اتفاقی بخت ہے افضلیت کی دلیل نہیں ورنہ خود اشجع الناس آنحضرتﷺ کے اور حضرت سلمانؓ حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوالدرداءؓ عند الشیعہ مسلمان کے مقتولین کی تعداد بتائی جائے جیسے حضرت خالدؓ کثرت قتل کے باوجود ان بزرگوں سے افضل نہیں اسی طرح سیدنا علیؓ یہ جنگ میں شیرِ خدا ہونے کے باوجود حضراتِ خلفاء ثلاثہؓ سے افضل نہیں فافہم۔

طبری کے مکالموں کی حقیقت:

رہے بحوالہ الفاروق طبری کے دو مکالمے تو وہ اس لائق نہیں کہ ان پر بنیاد رکھ کر حضراتِ اہلِ بیتؓ اور خلفائے اسلام پر اقتدارِ طلبی اور حسد کا الزام مکروہ لگایا جائے۔

 اولاً: اس لیے کہ ان کی سند مجاہیل سے ہے پہلے مکالمہ کی سندیں عمر، علی، ابوالولید مکی، ولد طلحہٰ کا ایک آدمی از ابنِ عباس ہے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 222)

صفحہ 3 از 4