عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اسی طرح انہوں نے اپنے راستے میں روڑے اٹکانے والے سرکش لوگوں کو دباتے ہوئے انہیں اسلام کی اطاعت گزاری پر آمادہ کر لیا۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 6 صفحہ 108) 

عقبہ قبائل کی سرکشی کو روکنے کے لیے ان میں سے کچھ لوگوں کو اپنے پاس گروی رکھ لیتے اور ان میں سے ہی ایک آدمی کو ان کی نگرانی پر مامور کر دیتے، جیسا کہ انہوں نے مصمودہ کے ساتھ کیا، ان پر انہوں نے ابو مدرک زرعہ بن ابو مدرک کو مقرر کیا تھا جو کہ انہی کا ہی ایک رئیس تھا اور جو بعد ازاں فتح اندلس میں بھی شریک ہوا۔

(فتوح مصر: صفحہ 207 ۔ الاسلام و التعریب: جلد 1 صفحہ 134)

معلوم ہوتا ہے کہ مغرب اقصیٰ کے بربر بت پرست تھے اس سے قیدیوں کی کثرت اور مال غنیمت کی بہتات کی وجہ سمجھ میں آ سکتی ہے۔ ان کی قید میں ایسی عورتیں بھی آئیں کہ ان جیسا حسن و جمال کسی نے دیکھا نہ ہو گا، بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک لونڈی مشرق میں ایک ہزار مثقال یا اس سے بھی زیادہ رقم کے برابر تھی۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 24)

یہ قیدی بربر قبائل میں اشاعت اسلام کے اہم عامل تھے، اس طرح انہیں عربی اسلامی ماحول کے ساتھ میل جول کا موقع ملا۔ نیز عرب جنگجوؤں اور بربروں کے مابین مسلسل اختلاط نے ان میں تعلقات اور روابط استوار کر دئیے جو کہ ان کے درمیان حلف اور ولاء سے عیاں ہوتے ہیں۔

(الاسلام و التعریب فی الشمال الافریقی: جلد ض صفحہ 134)

سلاوی ذکر کرتے ہیں کہ عقبہ جب درن کے مقام پر پہنچے تو ان کے دفاع اور استقبال کے لیے زنانہ آگے بڑھے یہ لوگ مغراوہ کے اطاعت قبول کرنے کے وقت سے ہی مسلمانوں کے لیے مخلص تھے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 135)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زناتہ اور مغراوہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کے حلیف تھے جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ (البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 24)


صفحہ 4 از 4