عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 260)

’’تاہرت‘‘ شہر میں مسلمانوں کی اپنے دشمنوں کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہوئی تو انہوں نے ان کے ساتھ شدید جنگ کی، لیکن چونکہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی، لہٰذا انہیں بڑی کٹھن صورت حال کا سامنا کرنا پڑا مگر آخرکار وہ جیت گئے اور ان کے رومی اور بربر دشمن شکست فاش سے دوچار ہوئے اور اسلحہ سمیت بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

اس کے بعد وہ مغرب اقصیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور پیش قدمی کرتے ہوئے طنجہ جا پہنچے وہاں ان کا سامنا ’’جومیان‘‘ نامی ایک رومی کمانڈر سے ہوا، اس نے آپ کو خوبصورت تحائف پیش کیے اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 590)

جب عقبہؓ نے اس سے بحر اندلس کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا: وہ محفوظ ہے اس کا قصد نہیں کیا جا سکتا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

پھر انہوں نے اس سے بربروں اور رومیوں کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: تم روم کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، جبکہ تمہارے آگے صرف بربر ہی ہیں۔ عقبہ نے پوچھا کہ ان کا ٹھکانا کدھر ہے؟ اس نے بتایا: سوس ادنیٰ میں، اور وہ بے دین لوگ ہیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

عقبہ نے ان معلومات سے استفادہ کیا اور پھر سوس ادنی کے علاقہ میں جانے کے لیے جنوب مغرب کی طرف چل نکلا۔ جہاں ان کا ایک بربری گروہ سے ٹکراؤ ہوا تو اسے شکست سے دوچار کر کے وادی درعا کے صحراء کی طرف بھگا دیا، ورعا شہر میں مسجد تعمیر کی پھر مراکش کے صحراؤں کو شمال مغرب کی طرف چھوڑتے ہوئے منطقہ ’’تافلت‘‘ کی راہ لی جس کا مقصد بلاد طنجہ میں داخل ہونا تھا، ان لوگوں نے لڑائی کیے بغیر ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ ’’اغمات‘‘ نامی شہر کے صنہاجہ قبائل نے بھی ان لوگوں کی طرح ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ حضرت عقبہؓ اس کے بعد مغرب کی سمت شہر تفیس

(مصر فی العصر الاموی: صفحہ 126۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 26، 27)

کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے بیزنطیوں اور بربروں کے کئی گروہوں کا محاصرہ کر لیا مگر ان کے قلعہ بند ہونے نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور آپ فاتح بن کر شہر میں داخل ہو گئے، اس طرح انہوں نے سوس اقصیٰ کے علاقوں کو آزاد کرا لیا، اس کے دار الحکومت ’’ایجلی‘‘ میں داخل ہو گئے اور اس میں ایک مسجد تعمیر کی، پھر انہوں نے وہاں موجود مختلف قبائل کو اسلام کی دعوت دی جسے جزولہ کے قبائل نے تسلیم کر لیا، پھر ’’ماسہ‘‘ نامی شہر اور وہاں سے بحر محیط پر واقع ’’ایفران‘‘

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

کی طرف روانہ ہوئے۔ اس طرح عقبہ بن نافعؓ نے محیط اطلس کے ساحل پر پہنچنے کے ساتھ بلاد مغرب کے زیادہ تر حصوں کو آزاد کروا لیا، ہمارے تاریخی مصادر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عقبہ بن نافع جب محیط اطلس تک پہنچے تو کہنے لگے: میرے پروردگار! اگر یہ سمندر میرے سامنے نہ آتا تو میں تیرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اس علاقے میں آگے بڑھتا جاتا اور ہر کافر سے جنگ کرتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کی جاتی، پھر وہ تھوڑی دیر رکنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے: اپنے ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو فرمانے لگے: میرے اللہ! میں گھر سے فخر و غرور اور تکبر کی وجہ سے نہیں نکلا ہوں، تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم اس سبب کے طالب ہیں جس کا مطالبہ تیرے بندے ذوالقرنین نے کیا تھا اور وہ یہ کہ تیری بندگی کی جائے اور کسی چیز کو تیرا شریک نہ ٹھہرایا جائے، یااللہ! ہم دین کفر سے عناد رکھنے والے اور دین اسلام کا دفاع کرنے والے ہیں۔ یا ذالجلال و الاکرام! تو ہمارا ہو جا، ہمارے خلاف کسی کا نہ ہونا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ قادۃ الفتح المغرب العربی: جلد 1 صفحہ 108، 120)

پھر وہ واپس پلٹ آئے۔

ہم ان کے مذکورہ بالا قول سے ان کے شوق جہاد اور اس بڑی ذمہ داری کے شعور کا ادراک کر سکتے ہیں جو انہوں نے تبلیغ اسلام، دولت اسلام کی تقویت اور ان کافر حکومتوں کے خاتمہ کے حوالے سے اپنے سر لے رکھی تھی۔ جنہوں نے لوگوں تک نورِ اسلام کی رسائی کو روک رکھا تھا، وہ بحر محیط کے کنارے پر کھڑے ہیں اور (اس وقت) جانتے تھے کہ یہ مغرب کی طرف سے آباد زمین کی انتہاء ہے، ایسے میں ہم انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس بات پر گواہ بناتے ہیں کہ انہوں نے اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے مقدور بھر کوششیں کر ڈالیں، اس شہادت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عقبہ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کس قدر گہرا تعلق قائم کر رکھا تھا، اور یہ کہ وہ قدم قدم پر اللہ عزوجل سے اس کی توفیق کے طلب گار ہوتے اور اس کی خوشنودی کے حصول کے خواستگار ہوتے تھے۔ ان کی یہ گفتگو ان کے نزدیک جہاد کے اصل مقصود پر بھی دلالت کرتی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک جہاد اس وقت ہی موقوف ہو گا جب زمین سے شرک کا خاتمہ ہو جائے گا اور صرف اللہ عزوجل ہی کی عبادت کی جانے لگے گی اور یہ کہ جب تک شرک باقی رہے گا جہاد بھی موجود رہے گا۔ اس صورت میں جہاد دعوت الی اللہ کا جہاد ہے اور اس کی صورت یہ ہے انسانی سرکشی کا خاتمہ ہو اور دنیا کے تمام ممالک حکم اسلام کے تابع ہو جائیں تاکہ سب لوگوں کو فہم اسلام اور قبول اسلام کا موقع میسر آئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 262)

عقبہ کا عمل جہاد پر ہی نہیں رک گیا تھا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعمیر بھی کروایا کرتے تھے، مثلاً درعہ کی مسجد اور سوس اقصیٰ میں ماسہ کی مسجد۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 26۔ الاسلام و التعریب: جلد 1 صفحہ 133)

پھر وہ مساجد کی تعمیر کے بعد ان میں اپنے بعض ساتھیوں کو چھوڑ جاتے تاکہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں اور انہیں شرائع اسلام سے آگاہ کریں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مغرب اقصیٰ کے زیادہ تر بربری لوگوں نے ان کے ہاتھ پر خوشی سے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسا کہ صنہاجہ، ہسکورہ اور جزولہ کے لوگوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

(الاسلام و التعریب فی الشمال الافریقی: جلد 1۔صفحہ 133)

صفحہ 3 از 4