عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

ج: تیسری وصیت: حصول علم کی جستجو میں لگے رہنا اور اس کے لیے پرہیز گار اور متقی علماء کا انتخاب کرنا اور دنیا دار اور جاہ پرست مغرور علماء سے دور رہنا، اس لیے کہ دنیا پرست علماء متعلم کو مزید جہالت سے دوچار کرتے ہیں بایں طور کہ وہ اسے علم کی حقیقت اور اس کے ثمر سے دور لے جاتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے عبارت ہے۔

(صفحات من تاریخ لیبیا الاسلامی و الشمال الافریقی: صفحہ 259)

جب حضرت عقبہؓ اپنی اولاد کو پند و نصائح اور وصیت کرنے سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں الوداعی انداز میں سلام کہتے ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے خواہش مند تھے اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ میرے اللہ! میری جان کو اپنی رضا کی راہ میں قبول فرما۔ جہاد کو میرے لیے باعث رحمت بنا اور اپنے پاس میری عزت کا گھر تیار فرما۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23)

جہاد فی سبیل اللہ کو اس قدر اہمیت دینے اور اسے اس زندگی میں سب سے بڑا فریضہ قرار دینے کی وجہ سے ہی وہ فتوحات میں مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے چلے گئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 258)

عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ باغی شہر کی طرف روانہ ہوئے۔

(مصر فی العصر الاموی: صفحہ 123، الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 589)

جہاں انہیں ان بیزنطیوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو شہر میں داخل ہو کر اس میں قلعہ بند ہو گئے تھے انہوں نے کچھ عرصہ تک ان کا محاصرہ کیے رکھا اور پھر تلمسان کی طرف روانہ ہو گئے جس کا شمار ان کے بڑے بڑے شہروں میں ہوتا تھا، رومی اور بربر قبائل کے لوگ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے نکلے اور پھر گھمسان کی جنگ چھڑ گئی، فریقین جم کر لڑے یہاں تک کہ مسلمانوں کو خیال ہوا کہ اس جنگ میں ان کی تباہی یقینی ہے مگر انہوں نے بڑے صبر اور حوصلہ کا مظاہر کرتے ہوئے رومیوں پر اس قدر زور دار حملہ کیا کہ وہ اپنے قلعوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے مگر مسلمان سپاہ نے ان کے دروازوں تک ان کا تعاقب کیا اور ان سے بہت سارا مال غنیمت حاصل کیا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 261)

پھر انہوں نے بلاد زاب جانے کے لیے مغرب کا رخ کیا، جب انہوں نے اس علاقے کے سب سے بڑے شہر کے بارے میں دریافت کیا، تو انہیں بتایا گیا کہ اس کا نام ’’ اَرَبَہ‘‘ ہے جو کہ ان کا دار الحکومت ہے۔ اس شہر کے اردگرد تین سو ساٹھ بستیاں تھیں اور وہ ساری کی ساری آباد تھیں۔ اہل مدینہ اور اس میں موجود رومی شہر میں محفوظ ہو کر بیٹھ گئے جبکہ کچھ لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے شہر کے باسیوں سے جنگ کی اور پھر انہیں شکست سے دوچار کر دیا اور ان کے بہت سارے شہسوار مارے گئے۔ پھر عقبہ نے ’’تاہرت‘‘ کی طرف پیش قدمی کی، رومی بربر سے مدد کے خواستگار ہوئے تو وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

عقبہ بن نافعؓ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: لوگو! تمہارے اشراف اور بہترین لوگ وہ تھے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور ان میں اپنی کتاب اتاری انہوں نے روزِ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ہر شخص کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت رضوان کی، وہ تمہارے اشراف تھے جنہوں نے تم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ کی جنت کے عوض اس کے ہاتھوں بیچ دیا اور یہ بیع بڑی نفع بخش تھی۔ مگر آج تم اجنبیت کے گھر میں ہو اور تم رب کائنات سے بیعت کر چکے ہو۔ تمہاری اس جگہ موجودگی اس کی نظروں میں ہے اور تم اس علاقہ میں صرف اس کی رضامندی کے حصول اور اس کے دین کو تقویت دینے کے لیے آئے ہو، لہٰذا خوش ہو جاؤ۔ دشمن کی تعداد جس قدر بھی زیادہ ہو گی ان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہو گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار تمہیں تمہارے دشمن کے حوالے نہیں کرے گا، تم سچے دلوں کے ساتھ ان کا سامنا کرو، اللہ نے تمہیں اپنا وہ عذاب بنایا ہے جو مجرم لوگوں سے ٹل نہیں سکتا۔

تم اللہ تعالیٰ کی برکت اور اس کی مدد سے اپنے دشمنوں سے لڑو، اللہ اپنا عذاب مجرم قوم سے ٹالا نہیں کرتا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ قادۃ الفتح المغرب العربی: جلد 1 صفحہ 108، 120)

عقبہ بن نافعؓ کا یہ عظیم خطبہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی جنگوں میں اس عظیم ترین ہتھیار پر اعتماد کیا جس میں مسلمانوں کی کامیابیوں کا راز ہے، اور وہ ہتھیار ہے: اللہ رب کائنات پر توکل اور اعتماد، اس کی عظمت و جلال کا استحضار اور اس کی نصرت و تائید کے ساتھ اپنے مومن دوستوں کی معیت، دشمن کے لشکر جتنے بھی بڑے ہوں اسے ان کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اہمیت صرف اس بات کی ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ کارگر معنوی ہتھیار بدرجہ اتم لشکر میں موجود رہے۔ جب اس کی ضمانت حاصل کر لی جائے تو پھر دشمن کے لشکروں کے اجتماع کو خوش آمدید کہے گا تاکہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء صالحین کے ہاتھوں انہیں جلد از جلد ہلاک کر دیا جائے اور ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔

عقبہؓ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بڑی گہری مشابہت رکھتے تھے، ان کی یہ حالت تھی کہ دشمن کا لشکر جس قدر بڑا ہوتا اور اس کے عناصر جس قدر زیادہ ہوتے وہ اتنے ہی زیادہ خوش ہوتے اور ان میں قوت اور عظمت کا شعور اتنا ہی گہرا ہوتا۔ عقبہؓ نے اس حوالے سے ان کی اقتداء کی اور انہیں قیادت و اقدام میں اپنے لیے نمونے کے طور پر اختیار کیا، ایسا اقدام جو تردد اور اکتاہٹ سے آشنا نہیں ہوتا، انہیں ایسا کرتے وقت اس امر کا بخوبی ادراک ہوتا تھا کہ اسلام کا سچا اور مخلص لشکر اللہ کا عذاب ہے جسے اس کے کافر دشمنوں پر مسلط کر دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹلا نہیں کرتا۔

حضرت عقبہؓ کا یہ دائمی شعور کہ مسلمان مجاہدین اللہ تعالیٰ کی تلوار اور اس کے دشمنوں پر مسلط کردہ اس کا عذاب ہیں، انہیں اس مقام پر سے آیا تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بڑا اعتماد اور اس کے بارے میں حسن ظن حاصل ہو گیا تھا۔

صفحہ 2 از 4