حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 10
1: سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ یہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نامور قبیلوں اور ان کے اشراف و بزرگوں کی تھی اور اس جماعت میں سے کوئی ایک نہ تھا مگر بہت بڑی خلقت اس حضرت ابوبکرؓ کے تابع تھی اور اس کی فرمانبرداری کرتی تھی اور ان کے (العیاذ باللہ) خبیث دلوں کی گہرائیوں میں ان کی حضرت عمرؓ کی محبت جمی ہوئی تھی جیسے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑے اور سامری کی محبت رچی ہوئی تھی۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 561)
2: حضورﷺ نے غائبانہ ایک شخص کے امیر بنانے کا تذکرہ فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک نے کہا وہ حضرت ابوبکرؓ ہیں فرمایا نہ اس نے کہا کیا سیدنا عمرؓ ہیں؟ فرمایا نہ عرض کیا کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا وہ جو جوتا مرمت کر رہا ہے وہ حضرت علیؓ تھے۔ 
(حیات القلوب: صفحہ، 434 کشف الغمہ: صفحہ،281 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذہن میں حضرت ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی سبقت واضح ہے۔
3: سیدنا مقدادؓ کی طرف منسوب ہے مجھے اس پر غم ہے کہ قریش نے اہلبیت کی وجہ سے سب لوگوں پر عزت پائی پھر سب نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ خلافت اس کے ہاتھ سے لے لیں۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 676)
4: اور وہ دو شخص حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ جو قریش کے بت تھے اور وہ ان کو امیر المومنین اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر افضلیت دیتے تھے اور ان کا نام براںٔی سے لینے میں تقیہ کرتے تھے۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 378)
5: شیعہ پر اس اعتراض کے جواب میں کہ اگر شیعہ مذہب حق تھا تو امام اول حضرت علیؓ اپنے عہدِ خلافت میں اس کو کیوں ظاہر نہ کیا شیعہ کے علامہ نور اللہ شوستری مجالس المؤمنین صفحہ 53 پر لکھتے ہیں۔
دیگر بات یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں دیکھا کہ رعایا کی اکثریت بلکہ تمام سیدنا ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی حسنث سیرت کے معتقد میں اور ان کو برحق جانتے ہیں تو اس پر قدرت نہ پائی کہ ایسا کام کریں جس سے ان کی خلافت میں خرابی لازم آئے اور قدرت کیسے رکھتے جبکہ اس زمانہ کی اکثریت بلکہ سب کا اعتقاد یہ تھا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی امامت خلفائے ثلاثہؓ کی امامت پر مبنی ہے اور ان کی امامت کے فساد سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت فاسد ہوگی اور مشہور ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نمازِ تراویح سے جو بدعت عمری ہے (معاذ اللہ) منع کیا سب لوگ چیخ اٹھے اور آوازیں بلند کیں کہ واہ عمرؓ واہ حتیٰ کہ حضرت نے مصلحت وقت کے لیے ان کو اسی حال پر چھوڑ دیا خلاصہ یہ کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت برائے نام سے زیادہ نہ تھی انتہیٰ بلفظہٖ
شیر خدا کے شیعہ مذہب ظاہر نہ کرنے کا یہی جواب۔ دلدارِ علی نے اساس میں مولوی حامد حسین نے استقصاء میں حتیٰ کہ زمانہ حال کے مؤلف تجلیات صداقت محمد حسین ڈھکو وغیرہ نے دیا ہے اور دیتے آئے ہیں جس کی سخافت ظاہر ہے۔
الغرض حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی محبت کو لوگوں کے دلوں سے کیا بلکہ اپنے دل سے بھی شیرِ خدا جیسی طاقت نہ مٹا سکی کیونکہ آپؓ سے خود علی الاعلان ان کی تعریفیں نہج البلاغہ میں مسطور میں، بلکہ ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ میں ہے کہ حضرت علیؓ سے 80 سندوں کے ساتھ برسرِ منبر یہ مقولہ مروی ہے۔
خير هذه الأمة بعد نبيها ابوبکرؓ ثم عمرؓ ثم عثمانؓ۔
ترجمہ: پیغمبرﷺ کے بعد اس امت کے سب سے افضل حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ ہیں۔ 
شرم و حیاء جیسے انسانی جوہر سے محروم باقر علی مجلسی جیسے متعصب اس حقیقت کو بے شک قریش کے بتوں یا بنی اسرائیل کے بچھڑے اور سامری سے تعبیر کریں مگر یہ تو بتائیں بت شکن سروت کائنات نے ان بتوں کو کیوں گلے لگایا عمر بھر دربار میں اور پھر روضہ اقدس و برزخ میں کیونکر رفاقت بخشی اور خسر کا اعزاز کس لیے بخشا کیوں ان کی خلافت کی بشارت سنائی۔
ان ابابکرؓ يلي الخلافة بعد ثم بعده ابوك فقالت من انباك هذا قال نباتی العليم الخبير۔
ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ میرے بعد متصل خلیفہ ہوں گے اس كے بعد تیرے والد حضرت عمرؓ ہوں گے حضرت آپ کو کس نے بتایا فرمایا مجھے علیم و خبیر نے خبر دی ہے۔ 
(تفسیر قمی: صفحہ، 354 مجمع البيان: جلد، 5 صفحہ، 314- تفسیر صافی: صفحہ، 523 حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 610 باضافہ لفظ جودر)
مجلسی جلیوں کے جور کے اضافے ہم پر حجت نہیں اگر وہ یہ پیوند نہ لگائیں تو کتبِ شیعہ میں یہ بشارت کیسے راہ پائے؟
سوال: یہ ہے کہ حضورﷺ نے ان بتوں کو توڑا کیوں نہیں۔ اس سامری اور بچھڑے کو ریزہ ریزہ کیوں نہ کیا کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد کا سامری اور بچھڑہ ان کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کا خلیفہ بنا رہا؟ اور کیا حضورﷺ نے سنتِ موسوی کو ترک کر کے اپنے مشن کو نقصان نہیں پہنچایا؟ شرم شرم
حالانکہ آپ کے امام پنجم سیدنا باقرؒ نے فیصلہ فرما دیا ہے۔
است بمنكر فضل ابی بکرؓ و لست بمنكر فضل عمرؓ ولكن ابابکرؓ افضل۔ 
(احتجاج طبرسی: صفحہ، 24 بحوالہ آفتابِ ہدایت)
ترجمہ: میں نہ سیدنا ابوبکرؓ کی شان کا منکر ہوں نہ سیدنا عمرؓ کی شان کا لیکن اعتقادیہ ہے کیا سیدنا ابوبکرؓ سب سے افضل ہیں۔
ازالۃ الخفاء کے حوالے سے حضرت علیؓ سے تفضیل شیخینؓ کا جو مشہور جملہ ہم نے نقل کیا ہے کئی سندیں راقم کی نظر سے مسند احمد مرویات علیؓ میں سے گزریں مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 106 پر چھ سندوں میں سے ایک کا نمونہ یہ ہے۔
آپؓ نے اپنے ساتھی ابو جحیفہ سے فرمایا کیا میں تم کو اس امت کے سب سے افضل بعد از پیغمبرﷺ حضرات نہ بتاؤں؟ اس نے کہا بتائیے آپؓ نے فرمایا: میرے اعتقاد میں ان سے افضل اور کوئی نہیں ہے نبی کے بعد اس امت میں سے سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ ہیں سیدنا ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ ان کے بعد ایک اور تیسرے حضرت عثمانؓ ہیں جن کا نام نہ لیا نیز نہج البلاغہ کی مصدق وہ کئی روایات بھی ہیں جن میں شیخینؓ کی خلافت کی تصدیق ہے مثلاً دو ملاحظہ ہوں۔
صفحہ 9 از 10