حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 10
ترجمہ: یہی سیدھی راہ پر ہیں کے منجانب اللہ تمغے حاصل کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بالاتفاق آپؓ کو خلیفہ تسلیم کیا اور بیعتِ برضا اور رغبت کی۔
1: حضرت اسامہؓ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کیا آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے فرمایا ہاں اور یہ بیعتِ خلافت تھی۔ 
(احتجاج طبرسی: صفحہ، 56)
2: نیز احتجاج طبرسی: صفحہ، 52 پر بھی ہے۔
ثم قام فتناول يد ابی بکرؓ فبایبعہ۔
ترجمہ: پھر حضرت علیؓ اٹھا اور ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑ کر اس پر بیعت کی۔
3: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیغت کر لی اور لوگوں کو بیعت سے نہ روکا تاکہ لوگ مرتد نہ ہوجائیں (کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 139)
4: یہی وہ تین حضرات ہیں حضرت مقدادؓ حضرت ابو ذرؓ سیدنا سلمان فارسیؓ جو حضرت ابوبکرؓ کی بیعت سے انکاری رہے حتیٰ کہ سیدنا امیر المؤمنین سیدنا علیؓ آگئے تو انہوں نے بیعت کی پھر ان تینوں نے بیعت کرلی۔
(کافی روضہ: صفحہ، 246)
5: سیدنا علیؓ نے سیدنا سلمان فارسیؓ کو حکم دیا کہ بیعتِ سیدنا ابوبکرؓ کریں۔
وبیعت کن با ابوبکرؓ پس سلمانؓ بیعت کرد۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 676)
ترجمہ: آپ سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت کریں پس سیدنا سلمان فارسیؓ نے بیعت کی۔
6: شیعہ کا دعویٰ ہے کہ سب امت نے تو برضا و رغبت حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی مگر حضرت علیؓ اور ان تین چار حضرات نے تقیہ کر کے بادل نخواستہ بیعت کی جیسے طبرسی کہتے ہیں:
ما من الامة احد بايع مكرها غير على وار بعتنا خانه بايع مكرها حيث لم يجد أعوانا۔ 
(احتجاج طبرسی: صفحہ، 49)
ترجمہ: کہ امتِ محمدیہ کا کوئی فرد ایسا نہیں جس نے مجبوراً حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی ہو بجز سیدنا علیؓ اور ہمارے چار ساتھیوں کے آپؓ نے مجبوراً اس لیے کی کہ اپنے مدد گار کوئی نہ پائے۔
ان چار حضرات پر تقیہ کا بہتان غلط ہے کیونکہ انہوں نے صرف حضرت علیؓ کے حکم و عمل تک توقف کیا۔ جب آپؓ نے کر لی تو انہوں نے برضا اتباع مرتضوی میں کر لی۔ 
(روضہ کافی: صفحہ، 246) 
سیدنا سلمانؓ نے بامرِ مرتضوی کی رہا سیدنا علیؓ کا تقیہ تو شیرِ خدا پر اس سے بڑا بہتان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ ظاہر میں کچھ ہوں اور باطن میں کچھ اور کیونکہ یہی منافقت ہے کیا شیعہ نے حضرت علیؓ کا سینہ چیر کر دیکھا تھا یا کسی بعد کی آسمانی وحی نے ان کو بتایا؟ الغرض بیعتِ علوی اور تمام مسلمانوں کا اتفاق بر صدیقؓ ثابت ہوگیا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مرتبہ کا موازنہ بھی معلوم ہوگیا کہ ایک طرف سب امت اور تمام مہاجرین و انصار ہیں دوسری طرف بقول شیعہ صرف چار حضرات ہیں۔
7: نور اللہ شوستری نے مجالس المومنین: جلد، 2 صفحہ، 566 میں روضۃ الصفاء کے حوالے سے تمام مہاجرین و انصار کے اتفاق کا ذکر ہے۔
8: جمیع مسلمانان با ابوبکرؓ بیت کردند و اظہار رضا و خوشنودی باو وسکون و اطمینان لسوء النمودند گفتند کہ مخالف او بدعت کننده است و خارج است از اسلام۔
(بحار الاسلام مترجمہ شریف مرتضیٰ بحوالہ اہلِ سنت پاکٹ بک: صفحہ، 313)
ترجمہ: تمام مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور آپؓ سے رضا و خوشنودی کا برملا اظہار کیا اور آپؓ کے سکون و اطمینان سے تابعدار ہوئے اور فیصلہ کیا کہ آپؓ کا مخالف بدعتی ہے اور اسلام سے خارج ہے۔
نوٹ: جن لوگوں نے یہ افسانہ تراشا ہے کہ آپؓ سے جبراً بیعت لی گئی اگر آپؓ کے ساتھی ہوتے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ ہونے دیتے ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ شیعہ خود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سفیانؓ والد سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا خلافت قریش کے کمزور خاندان میں کیسے چلی گئی اگر چاہو تو میں تمہارے لیے سیدنا ابوبکرؓ کے خلاف سوار اور پیادوں کا لشکر بھر دوں آپؓ نے اسے فرمایا تم کب سے اسلام کے دوست بنے ہو کہ افتراق کی ترغیب دیتے ہو ہم اگر حضرت ابوبکرؓ کو اس کام کا اہل نہ دیکھتے تو اسے کبھی خلیفہ نہ بناتے بلکہ اہلِ بیت کے سرخیل زید بن علی بن حسینؓ اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے منبر پہ کھڑے ہو کر فرمایا آیا کوئی اس بیعت کو مکروہ سمجھنے والا ہو تو میں اسے واپس کردوں تین مرتبہ اسی طرح کہا اور ہر مرتبہ حضرت علیؓ کھڑے ہو کر یہ کہتے خدا کی قسم نہ ہم اس بیعت کو واپس کریں گے نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپؓ اس بیعت کو واپس کریں وہ کون ہے جو آپؓ کو ہٹا سکے جبکہ رسول اللہﷺ نے آپؓ کو مقدم کیا ہے۔ 
(کنز العمال: جلد، 3 صفحہ، 140 ابونیم و غیره)
9: عہدِ نبویﷺ ہی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سب سے افضل سمجھے جاتے تھے:
گو سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں حضرت ابوبکرؓ کا معزز ترین ہونا معلوم ہوچکا ہے مگر اتمامِ حجت کے طور پر یہ بتلانا مقصود ہے کہ عہدِ نبوی ہی میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو یہ مقام حاصل تھا اہلِ سنت والجماعت کی صحاح کی یہ حدیث مشہور ہی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے زمانے میں حضرت ابوبکرؓ کے برابر پھر حضرت عمرؓ کے پھر حضرت عثمانؓ کے برابر کسی صحابی کو نہ جانتے تھے۔ 
(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 523)
ابو داؤد شریف کے الفاظ یہ ہیں کہ حضورﷺ کی زندگی میں اور روایات طبرانی آپ کے سامنے ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد اس امت کے سب سے افضل فرد حضرت ابوبکرؓ ہیں پھر حضرت عمرؓ ہیں اور پھر حضرت عثمانؓ ہیں اور حضورﷺ سن کر رد نہیں فرماتے تھے۔
(فتح الباری) 
خود حضورﷺ بھی اسی ترتیب سے ان کا مرتبہ جانتے اور بلاتے تھے چنانچہ حضرت علیؓ و حضرت فاطمہؓ کی شادی کے موقعہ پر حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا طلحہٰؓ سیدنا زبیرؓ کو اسی ترتیب سے بلایا۔ 
(کشف الغمہ وجلاء العیون کتب شیعه قصه ترویج)
شیعہ حضرات نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یوں مسخ کر کے پیش کیا ہے۔
صفحہ 8 از 10