حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 10
وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ الخ۔ (سورۃ النور: آیت، 22)
ترجمہ: كہ تم میں سے جو شان والے اور مالدار ہیں وہ ایک صدمہ کی وجہ سے اپنے قریبی رشتہ داروں کو مالی امداد نہ دینے کی قسم نہ کھائیں بھی بالاتفاق حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حق اتری ہے تفسیر مجمع البیان: جلد، 3 میں اس کا شانِ نزول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو بتایا ہے تو ان آیاتِ کریمہ کی رو سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نسب سے افضل اور بڑی شان والے ٹہرے۔ 
6: آپ رضی اللہ عنہ بحکم نبوی امام نماز ہیں:
افضلیت کی چھٹی دلیل آپؓ کا امام نماز بر مصلیٰ نبوی ہونا کہ آنحضرتﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سب امت سے افضل تسلیم کر کے اپنے مصلیٰ پر نماز کے لیے کھڑا کیا اگر حضرت علیؓ یا کوئی اور صحابی افضل ہوتے تو ان کو امام بنایا جاتا اور حضرت ابوبکرؓ کو امام بنا کر آپ سب امت کو بقول شیعہ اشتباہ و گمراہی میں نہ ڈالتے کیونکہ منجملہ اور دلائل جلی و خفی نصوص کے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسی سنت کی اقتداء میں امامتِ کبریٰ خلافت کے لیے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی تھی اور سب امت نے آپؓ کو افضل تسلیم کیا ثبوت امامت پر دلائل ملاحظہ ہوں۔
1: سنی و شیعہ کی مشترک و قدیم تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 196 پر حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا نماز کا وقت ہوچکا ہے حضرت ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہؓ نے مشورہ دیا کہ حضرت ابوبکرؓ نرم دل ہیں سیدنا عمرؓ سے آپ کہیں حضورﷺ نے فرمایا نہیں حضرت ابوبکرؓ سے کہو حضرت عمرؓ نے بھی کہا کہ حضرت ابوبکرؓ کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا، پھر حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے حضورﷺ نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو مسجد میں چلے گئے جب حضرت ابوبکرؓ نے آپﷺ کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹے مگر حضورﷺ نے ان کو کھینچ کر پہلی جگہ کھڑا کر دیا پھر آپﷺ ایک طرف بیٹھ گئے اور وہاں سے قرآت شروع کردی جہاں حضرت ابوبکرؓ نے چھوڑی تھی۔ دوسری روایت میں حضرت ابوبکرؓ کو حکمِ نبوی دینے کے علاوہ یہ صریح بھی ہے کہ انہوں نے حیات رسولﷺ میں، نمازیں لوگوں کو پڑھائیں۔
(طبری: جلد، 3 صفحہ، 197)
شیعہ کی متعمد مخصوص تاریخ ناسخ التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 545 کتاب دوم پر ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا سیدنا ابوبکرؓ سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائے اسی طرح نہج البلاغہ کی معتبر شرح در نجفیہ: صفحہ، 225 پر ہے:
كان عند خفة مرضه يصلى بالناس بنفسه فلما اشتديه المرض امر ابابکرؓ ان يصلى بالناس وان ابابکرؓ صلى بالناس بعد ذلك يومین ثم مات۔
ترجمہ: معمولی بیماری میں تو آپﷺ خود نماز پڑھاتے تھے جب مرض میں اضافہ ہوگیا تو حضرت ابوبکرؓ نے اس کے بعد دو دن تک نمازیں پڑھائیں پھر حضورﷺ نے رحلت فرمائی۔
اور یہ مسئلہ تو سنی و شیعہ میں مسلم ہے کہ افضل کو امام بنایا جاتا ہے من لا یحضرہ الفقيه باب الامامتہ میں ایسی کئی احادیث ہیں مثلاً
1: حضورﷺ نے فرمایا قوم کا امام ان میں سے افضل ہوتا ہے تو تم اپنے افضل کو امام بناؤ صفحہ، 103۔ 
2: نیز فرمایا اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ اپنی نمازیں ستھری پڑھو تو اپنے بہترین لوگوں کو پیشِ امام بناؤ۔ نیز حضورﷺ نے فرمایا جس نے کسی قوم کو نماز پڑھائی اور ان میں اس سے زیادہ عالم بھی تھا تو ان کا معاملہ قیامت تک نقصان میں رہے گا صفحہ، 103۔
7: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقتدی تھے:
حضرت علیؓ نے بھی بحکمِ نبوی امامت حضرت ابوبکرؓ کو بسر و چشم قبول کر کے آپ کی اقتداء میں نمازیں پڑھتے رہے۔ شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر قمی اور احتجاج طبرسی صفحہ، 60 پر ہے۔
ثم قام وتهيأ للصلواة وحضر المسجد وصلی خلف ابی بکرؓ۔
ترجمہ: پھر آپ اٹھے نماز کی تیاری کی اور مسجد میں آکر حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔
شیعہ مجتہد محمد باقر اصفہانی نے مشہور کتاب مرأة العقول: صفحہ، 388 پر بعینہٖ یہ عبارت نقل کر کے حضرت علیؓ کے حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھنے کا اعتراف کیا ہے۔
شیعہ مترجم مولوی مقبول نے بھی ضمیمہ: صفحہ، 415 پر لکھا ہے پھر وہ حضرت علی المرتضیٰؓ اٹھے اور نماز کے قصد سے وضو فرما کر مسجد میں تشریف لائے اور حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوگئے۔
شیعہ کی اردو کتاب غزواتِ حیدری: صفحہ، 627 پر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے متعلق لکھا ہے پس بے اختیار اٹھے اور گزرے وقت سے بہت گھبرائے ناچار آ کر اقامت کہی اور جماعت اہلِ دین نے معقب ان کے صف باندھی چنانچہ اس صف میں شاہ لافتیٰ بھی تھے۔ 
(بحوالہ رسالہ شان صدیقِ اکبرؓ: صفحہ، 113 از علامہ تونسوی)
حضرت ابوبکرؓ کی امامت نماز ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ غالی سے غالی کینہ و شعیہ ملا باقر علی مجلسی بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہو گئے۔
 ودراں وقت ابوبکرؓ در جائے آنحضرت ایستاده بود۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 560) 
ترجمہ: کہ نماز کے وقت حضرت ابوبکرؓ حضورﷺ کی جگہ نماز پڑھا رہے تھے مگر یہ کہہ کر بھی دروغ گوئی کی حد کردی کہ حضرت ابوبکرؓ از خود مصلیٰ پر چڑھ گئے تھے اور کئی لوگوں نے اقتداء نہیں کی تھی بلا بغیر اجازت حضرت ابوبکرؓ مصلیٰ نبوی پر کھڑے ہونے کی جرات کیسے کر سکتے تھے جبکہ آج بھی معمولی سے امام و خطیب کے مصلیٰ و منبر پر کوئی نہیں چڑھ سکتا اور نہ نمازی مانع ہوتے ہیں اگر بالفرض ایسا ہوتا تو لوگوں کی مخالفت سے مسجدِ نبوی میں کہرام مچ جاتا حضرت ابوبکرؓ موردِ عتاب ہوتے اور یہ تواتر منقول ہوتا مگر شیعہ کی اتنی کذب بیانی سے ہیں ذرا تعجب نہیں کیونکہ تقیہ کی آڑ میں 9، 10 حصے حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا ہی ان کا عین مذہب و ایمان ہے اور بقائے شیعہ کا راز اسی میں مضمر ہے۔
8: افضلیتِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر تمام امت کا اتفاق:
ساتویں وجہ افضلیت یہ ہے کہ آپؓ پر تمام امت کا اجماع ہے یہی وجہ ہے کہ: 
رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ الخ۔  (سورۃ التوبہ: آیت، 100)
ترجمہ: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا الخ۔ (سورۃ الانفال: آیت، 174)
ترجمہ: یہی برحق مومن ہیں 
هُمُ الصَّادِقُوْنَ ۞ (سورۃ الحشر: آیت، 8)
ترجمہ: یہی سچے ہیں 
هُم الرَّاشِدُوْنَ ۞ (سورۃ الحجرات: آیت، 7)
صفحہ 7 از 10