حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 10
گو اہلِ تشیع اپنی اس تفسیر سے چیں بجیں ہوں مگر اہلِ سنت کے لیے تو بہرحال قابلِ استدلال اور نورِ چشم ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب شانِ نزول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے تو قرآنِ پاک بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے کہ مؤمن اول اور اسبق الاسلام سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ کے بعد سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور اب تو یہ قدیم سنی شیعہ نزاع خود شیعہ نے یوں ختم کر دیا کہ خاص و عام کہتے ہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پہلا مسلمان کیوں کہا جاتا ہے کیا وہ پہلے کافر تھے ہم انکو ازلی پیدائشی مسلمان سمجھتے ہیں تو اب سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بلا نزاع و معارضہ مسلم اول ہیں جس کا معنیٰ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپﷺ کے دعویٰ نبوت کی تصدیق کر کے آپﷺ کی عملی اتباع کی کچھ شیعہ و صدق بہ سے حضرت علی المرتضیٰؓ مراد لیتے ہیں مگر یہ ان کے اصول کے مطابق غلط ہے اولاً اگلے لفظ و أُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ جماعت مصدقین کا تقاضہ کرتے ہیں علم نحو کی رو سے جمع سالم معرف بالام کا عدد کم از کم اسے شروع ہوتا ہے شیعہ کے نزدیک حضرت علیؓ کے ہم خیال اور مؤمن مصدق تازیست نبوی بھی معاً دس عدد نہیں ہوئے چہ جائیکہ آغازِ اسلام میں ان کے ہاں اس وقت صرف حضرت علیؓ حضرت عمار یاسرؓ مؤمن تھے جمع کا مفہوم ان سے پورا نہیں ہوتا اہلِ سنت کے ہاں ان حضرات سمیت اور بھی دسیوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین من مشرف باسلام ہوچکے تھے جن میں حضرت عثمانؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی کوشش سے مسلمان ہوئے اسی طرح سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ سیدنا ابو سلمہؓ سیدنا عثمان بن مظمونؓ، سیدنا عامر بن فہيرهؓ سیدنا سعید بن زیدؓ سیدنا ارقم بن ارقمؓ سیدنا عمار یاسرؓ سیدہ ام الفضلؓ اہلیہ سیدنا عباسؓ، سیدہ اسماء بنتِ ابی بکرؓ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ سیدہ فاطمہ بنتِ خطابؓ خواہر عمرؓ سابقینِ اولین اور درخشندہ ستارے میں کسی گھاٹی میں جا کر نماز پڑھتے تھے۔ 
(کذا فی رحمة للعالمين: جلد، 1 صفحہ، 55)
ثانیاً اگلی متصل آیت لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا الخ۔ (سورۃ الزمر: آیت، 35)
تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی سب سے بڑی غلطی معاف کر دے سے ان مصدقین کے گناہوں کے کفارہ کا بیان ہے جو مذہب اہٹل سنت میں درست ہے لیکن شیعہ کے یہاں سیدنا علیؓ پیداںٔشی معصوم ہیں لہٰذا اس آیت کا مصداق اصول شیعہ کے مطابق ہرگز نہیں بن سکتے۔
4: آپ رضی اللہ عنہ مہاجرین میں اعلیٰ ہیں:
افضلیت صدیقؓ پر چوتھی دلیل یہ آیت ہے:
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت، 74)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے راہ خدا میں ہجرت کی اور جہاد کیے اور جنہوں نے جگہ دی اور نصرت کی برحق مومن وہی ہیں بخشش اور عزت کی روزی انہی کے لیے ہے۔ (ترجمہ مقبول)
اس آیت کی رو سے مہاجرین و انصار قطعی مومن اور جنتی ہیں شیعہ مفسر صاحب مجمع البیان اور تفسیر صافی اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
لانهم حققوا إيمانهم بالهجرة والنصرة والاسلام من الأهل و المال۔
کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان کو ہجرت نصرت دین اور گھر باہر سے علیحدگی اختیار کر کے پیچ کر دکھایا ہے
اور یہ بلاشہ یقینی بات ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تو ہجرت مع الرسولﷺ کر کے وہ اعلیٰ شرف پایا کہ جن و بشر اس پر رشک کرتے ہیں، حضرت عمرؓ کا یہ مقولہ مشہور ہے میں صرف حضرت ابوبکرؓ کی ایک رات اور دن کے بدلے میں سب عمر کے اعمالِ صالحہ دینے کو تیار ہوں ہجرت کی رات اور مرتدین سے جہاد کا دن اور بروایت حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 229 سیدنا عمرؓ نے بھی حضورﷺ کے ساتھ جزوی ہجرت کا شرف پایا سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے براہِ راست تنہا حضورﷺ کی نصرت فرمائی اور اس نصرت کو اللہ نے اپنی نصرت سے تعبیر فرمایا لہٰذا وہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں۔
5: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اتقیٰ ہیں:
پانچویں دلیل سورت والیل کی یہ آیت کریمہ ہے:
 وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى۞ (سورۃ اللیل آیت: 17)
ترجمہ: عنقریب اس سے وہ سب سے بڑا پرہیز گار بچا لیا جائے گا
الَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى‌ ۞ (سورۃ اللیل آیت: 18)
ترجمہ: جو مال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہو جائے۔
 وَمَا لِاَحَدٍ عِنۡدَهٗ مِنۡ نِّعۡمَةٍ تُجۡزٰٓى ۞(سورۃ اللیل آیت: 19)
ترجمہ: اور اس پر کسی کا احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔
 اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى‌ ۞(سورۃ اللیل آیت: 20)
ترجمہ: بلکہ وہ اپنے عالیشان پرور دگار کی رضا چاہتا ہے۔ 
 وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ۞(سورۃ اللیل آیت: 21)
ترجمہ: اور آگے چل کر وہ ضرور اس سے راضی ہو جائے گا۔ (ترجمہ مقبول)
اہلِ سنت کی معتبر تفسیریں مثلاً ابو سعود روح المعانی، تفسیر کبیر بیضاوی ابنِ کثیر مدارک وغیرہ تو اس آیت کو حضرت صدیقِ اکبرؓ کی شان میں عبارت النص کے طور پر بتاہی رہی ہیں لیکن اہلِ تشیع کی معتبر و مہذب تفسیر مجمع طبرسی 58 میں بھی ہے۔
ان الآية نزلت فی ابی بکرؓ لانه اشترى مماليك الذين اسلموا مثل بلالؓ و عامر بن فهيرةؓ و غيرهما واعتقهم (بحواله اہلِ سنت پاکٹ بک: صفحہ، 301)
بلاشبہ یہ آیت سیدنا ابوبکرؓ کی شان میں اتری کیونکہ آپ ہی نے ان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جو مسلمان ہوئے جیسے حضرت بلالؓ، عامر بن فہیرهؓ وغیره
شیعہ کے خاتم المحدثین مجلسی نے بھی لکھا ہے کہ بلالؓ کو سیدنا ابوبکرؓ نے دو غلاموں کے بدلے خریدا۔ (حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 630)
یہاں اہم تفضیل کا صیغہ الاتقیٰ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حق میں استعمال فرمایا ہے اور سب سے بڑا پرہیز گار ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں افضل ہے۔
اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ الخ(سورۃ الحجرات آیت، 13)
ترجمہ: کہ اللہ کے ہاں تم میں سے سب سے زیادہ نشان والا وہ ہے جو سب سے بڑا پرہیز گار ہو گا۔
نیز سورت نور کی آیتِ کریمہ:
صفحہ 6 از 10