حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 10
1: صاحبِ رجال کشی شیعہ نے سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ آئے تو آپؓ سے حاضرین صحابہؓ نے کہا آپؓ صدیق اور ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہیں آپؓ ان تین آدمیوں کے متعلق پوچھیں کہ وہ کون ہیں مگر آپؓ نے نہ پوچھا پھر حضرت عمرؓ آگئے تو ان سے حاضرین نے کہا آپؓ فاروق ہیں فرشتہ آپؓ کی زبان پر بولتا ہے آپؓ ان تین آدمیوں کے متعلق حضورﷺ سے پوچھیں کہ وہ کون ہیں مگر آپؓ نے نہ پوچھا پھر حضرت علیؓ آئے تو حاضرین نے کہا اے ابوالحسن آپؓ پوچھیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا میں پوچھوں گا اگر ان میں ہوا تو بھی خدا کا شکر ادا کروں گا اگر نہ ہوا تو بھی وہ تین شخص سیدنا مقدادؓ، حضرت سلمانؓ اور حضرت ابو ذرؓ تھے اس روایت میں گو شیخینؓ پر افتراء بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس اندیشے سے نہ پوچھا کہ اگر ان تینوں میں ان کا نام نہ ہوا تو ان کی قوم انہیں عار دلائے گی اور یہ افتراء کرنا ہی تھا ورنہ اتنی اہم فضیلت والی روایت کتب شیعہ میں کیسے آسکتی تھی مگر اس سے روز روشن کی طرح یہ تو واضح ہوگیا کہ دربار نبویﷺ میں بھی سیدنا ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ صدیق ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اور فاروق ناطق بالملک کے لقب سے مشہور اور پکارے جاتے تھے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کو صرف ابو الحسن کہا جاتا تھا۔
2: اور یہ لقب آپؓ کو خود حضورﷺ نے دیا تھا شیعہ تفسیر قمی مطبوعہ نجف اشرف صفحہ 290 میں ہے کہ جب حضورﷺ غارِ ثور میں تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بطورِ مکاشفہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی مجھے بھی دکھا دیجیئے آپﷺ نے ان کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو انہوں نے بھی دیکھ لیا پس حضورﷺ نے ان سے فرمایا انت الصدیق ہو تم صدیقؓ ہو۔
3: شیعہ کے پانچویں سیدنا ابوجعفر الباقرؒ نے بھی آپؓ کو صدیقؓ فرمایا ہے آپؓ سے سوال کیا گیا کیا تلوار کا دستہ چاندی کا لگوانا جائز ہے؟ فرمایا ہاں جائز ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تلوار کا قبضہ چاندی کا بنوایا تھا اس پر راوی نے کہا آپؓ اسے صدیقؓ کہتے ہیں آپؓ نے فرمایا ہاں صدیقؓ ہے صدیقؓ ہے صدیقؓ ہے ومن لم يقل له صديق فلا صدق الله قوله، جو شخص آپؓ کو صدیقؓ نہ کہے خدا اس کی بات سچی نہ کرے۔ 
(کشف الغمہ فی معرفتہ الائمه: جلد، 1 صفحہ، 220 بحوالہ اہلِ سنت پاکٹ بک: صفحہ، 305)
گو شیعہ مؤلف نے ابنِ جوزی کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے مگر اس پر تنقید نہیں کی نہ غلط بتایا معلوم ہوا کہ ان کے ہاں بھی صحیح روایت ہے احتجاج طبرسی میں بروایت امیر المؤمنین یہ حدیث ہے کہ ہم حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے ساتھ پہاڑ حرا پر تھے وہ کانپنے لگا تو حضورﷺ نے فرمایا تھم جا تجھ پر نبیﷺ صدیقؓ اور شہیدؓ موجود ہیں۔ 
(بحوالہ آفتابِ ہدایت)
جب ان ناقابلِ تردید دلائل سے آپؓ کا علی الخصوص صدیق ہونا طشت ازبام ہوگیا تو اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد آپ ہی افضل ہیں کیونکہ نبیوں کے بعد صدیقوں ہی کا رتبہ ہے۔
فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞
(سورۃ النساء: آیت، 69)
ترجمہ: جو خدا اور رسول کی تابعداری کریں وہ ان لوگوں کے ساتھ اٹھیں گے جن پر خدا نے انعام فرمایا ہے وہ بالترتیب یہ چار گروہ ہیں انبیاء صدیقین شہداء- صالحین ان کی رفاقت کیا ہی خوب ہے۔
 3: آپ رضی اللہ عنہ مصدقین کے امام ہیں:
افضلیت صدیق پر تیسری دلیل یہ آیتِ کریمہ ہے:
وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞(سورۃ الزمر: آیت، 33)
ترجمہ: وہ پیغمبر جو سچ لے کر آیا اور وہ شخص جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پرہیز گار ہیں۔
شیعہ تفسیر مجمع البیان طبرسی پارہ 24 میں ہے:
قیل والذج جاء بالصدق رسول الله وصدق به ابوبکرؓ
کہا گیا ہے کہ سچائی لانے والے سے مراد حضرت رسول اللہﷺ اور تصدیق کرنے والے سے مراد حضرت ابوبکرؓ ہیں۔
صفحہ 5 از 10