حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 10
قصہ ہجرت اور واقعہ غار میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی معیت اور رفاقت مقبول پر تمام امت کا اتفاق و اجماع ہے کوئی متعصب بھی انکار نہیں کر سکتا۔ مندرجہ ذیل شیعہ علماء نے انتہائی دشمنی اور تعصب کے باوجود حضرت صدیق اکبرؓ کے یار غار ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
  1. ملا کاشی در تفسیر صافی: صفحہ، 193 
  2. ملا باقر علی مجلسی حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 221 
  3. کشف الغمه: جلد، 1 صفحہ، 109، 237، 402
  4.  تفسیر حسن عسکری: صفحہ، 213
  5.  مرزا باذل ایرانی غزوات حیدری: صفحہ، 65 
  6. تفسیر منہج الصادقین: صفحہ، 211، 271
  7. مقبول دہلوی ضمیمہ مقبول: صفحہ، 290
  8.  تفسیر قمی: صفحہ، 276 اور 290 
  9. جہاں حضورﷺ نے آپؓ کو انت الصدیق بھی فرمایا ہے۔ قاضی نور اللہ شوستری مجالس المومنین: جلد، 1 صفحہ، 210
  10. حملہ حیدری: صفحہ، 65 
نزولِ آیتِ بالا سے قبل بھی حضرت ابوبکرؓ کا صاحب النبی ہونا اس قدر زبان زد خلائق تھا کہ کفار بھی آپؓ کو اسی لفظ سے یاد کرتے تھے ملا باقر علی مجلسی نے بروایت شیخ طبرسی ابنِ شہر آشوب وغیرہ سب مفسرین عامہ و خاصہ سے نقل کیا ہے کہ ایک کافر حضورﷺ کو پکڑنے کے لیے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گھر آیا سیدہ اسماءؓ دخترِ ابوبکرؓ کہتی ہیں کہ حضورﷺ نے: وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ الخ۔(سورۃ الاسراء: آیت، 45) 
جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور کافروں کے درمیان پردہ ڈال دیتے ہیں آیت تلاوت فرمائی جب وہ قریب آیا تو حضورﷺ کو دیکھ نہ سکا اور حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے صاحب تو تیرے ساتھی نے میرا گلہ کیا ہے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا پروردگارِ کعبہ کی قسم تجھے برا نہیں کہا ہے۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 266)
معلوم ہوا کہ مطلقاً کفار کی نظر میں بھی حضورﷺ صاحبِ صدیقؓ اور صدیقؓ صاحبِ رسولﷺ تھے ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ زندگی کی تبلیغی جاں فشانیوں میں حضرت ابوبکرؓ ہی رفیق خاص تھے ملا باقر علی مجلسی لکھتے ہیں۔
کہ ایک مرتبہ امِ جمیل زوجہ ابولہب حضورﷺ کے تعاقب میں نکلی جب مسجدِ حرام میں داخل ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ حضورﷺ کی خدمت میں تھے بولے آپﷺ اوجھل ہوجائیں کہیں یہ بکواس نہ کرے آپﷺ نے فرمایا مجھے نہ دیکھ سکے گی جب قریب آئی تو آپ کو نہ دیکھ سکی حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کیا تو نے محمدﷺ کو دیکھا آپ نے کہا ابھی نہیں پھر وہ واپس ہوگئی۔ 
حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 237 
نیز مجلسی: باب، 54 میں لکھتے ہیں:
کہ متواتر معجزات میں سے جن کو سنی و شیعہ نے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ کفار قریش ہتے تنگ آکر حضورﷺ نے مدینہ کا رخ کیا راستہ میں امِ معبد کے خیمہ میں پہنچے اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ حضرت عامرؓ بن فہیرہ اور عبداللہ بن اریقظ بھی آپﷺ کی خدمت میں تھے آپﷺ نے خشک تھنوں والی بکری کا دودھ اتنا دوہا کہ سب نے سیر ہوکر پیا۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 229)
ایک مرتبہ حضورﷺ کو اونٹ نے سجدہ کیا حضرت عمرؓ ساتھ تھے عرض کیا ہم آپﷺ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں حضورﷺ نے فرمایا بلکہ خدا کو سجدہ کرو۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 215) 
راوندی و ابنِ شہر آشوب نے روایت کی ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں چند بکریوں نے آپﷺ کو سجدہ کیا سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کیا ہم بھی آپ کو سجدہ کریں فرمایا غیر خدا کو سجدہ روا نہیں ہے۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 216)
گو ان واقعات میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ پر طعن بھی کیا گیا ہے مگر اس سے یہ تو معلوم ہوچکا کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آپﷺ کے ہمدم ساتھی اور رفیق خاص تھے اور حضورﷺ کی ذات بھی غیر خدا تھی آپ خدا کا عکس یا اوتار نہ تھے تاکہ عیسائیوں کی طرح آپ کو اوصاف خداوندی کا مظہر قرار دیا جائے اور شیخینؓ کو حضورﷺ سے کمال عشق و عقیدت تھی۔
مکی تبلیغ زندگی میں بارہا ایسا ہوا کہ کفار مکہ حضورﷺ پر حملہ کرتے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کہ حضورﷺ مدافعت کرتے ایک دفعہ عقبہ بن ابی معیط کو حضرت ابوبکرؓ نے حضورﷺ سے دھکیل کر فرمایا: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ يَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ الخ۔
(سورۃ غافر: آیت، 28) کیا تم اس آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پرور دگار صرف اللہ ہے۔ 
(تاریخ طبری: جلد، 2 صفحہ، 333 بخاری: جلد، 1 صفحہ، 520)
اسی مدافعت میں ایک مرتبہ آپؓ اتنے شدید زخمی ہوئے کہ بیہوش ہوگئے جب ہوش آئی تو سب سے پہلے حضورﷺ کی خیر و عافیت پوچھی۔ (کتب تاریخ)
الغرض ایسے واقعات حد و حساب سے باہر ہیں جن میں خلفائے ثلاثہؓ خصوصاً حضرت ابوبکر صدیقؓ کی مکی زندگی میں محبتِ نبوی اور نصرتِ دینی اظہر من الشمس ہے ان کا کفار کے ہاں معزب اور مظلوم فی سبیل اللہ ہونا تاریخی حقیقت ہے مثلاً کشف الغمہ: صفحہ، 245 ملاحظہ ہو اس کے برعکس سیدنا علی المرتضیٰؓ کے مدنی زندگی میں مجاہدانہ کارناموں کے باوجود مکی زندگی میں ایسی قربانیاں کم ہیں حتیٰ کہ ملا باقر علی پہلے منصب شیعہ مؤرخ بھی حیات القلوب و جلاء العیون میں حضورﷺ کی محبت میں کفار کے ہاتھوں ستم رسیدگی یا مدافعت عن الرسول کا ایک واقعہ بھی ذکر نہ کر سکے گویا جو مقام سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مدینہ میں حاصل کیا وہ شیخینؓ مکی زندگی میں قبل از ہجرت حاصل کر چکے تھے۔
2 : آپ رضی اللہ عنہ صدیقین کے سردار ہیں
افضلیت کی دوسری وجہ آپؓ کا صدیق ہونا ہے گو اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی مرتبہ صدیقیت پر فائز ہیں جیسے ارشادِ ربانی ہے۔
اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّيۡقُوۡنَ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ الخ۔
(سورۃ الحدید: آیت، 19)
ترجمہ: کہ یہی لوگ صدیق ہیں اور شہید ہیں اپنے رب کے ہاں مگر بطورِ لقب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا طرہِ امتیاز ہے آپؓ اس لقب سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ممتاز اور پکارے جاتے ہیں۔
صفحہ 4 از 10