حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 10
اس آیتِ کریمہ میں حضورﷺ کے ساتھ اللہ نے اس مدد کا ذکر کیا ہے جو صرف سیدنا ابوبکر صدیقِ اکبرؓ کے ذریعے فرمائی یعنی اس انتہائی مشکل اور خطرناک مرحلہ میں آپﷺ کے معاون و مددگار ساتھی سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہی تھے اس آلہ نصرت بننے کے لئے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اللہ نے آپؓ کو چنا اور صَاحِبہٖ پیغمبرﷺ کا ساتھی فرما کر گویا ناصر النبیﷺ فرمایا نیز ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ فرما کر یہ بتلایا کہ وہ دونوں ایسے جڑواں اور مساوی در مزاج و مصائب ہیں کہ ہر ایک کو ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ دو میں کا دوسرا اور ایک دوسرے کی صورت و یادگار کہا جائے گا اگر پیغمبرﷺ اوّل ہیں تو صدیقؓ ثانی ہیں اور خلافتِ بلا فصل کا فیصلہ علیم و حکیم نے اسی لفظ میں فرما دیا اگر اس سفر میں محافظ و باڈی گارڈ کی حیثیت سے صدیقؓ اول و آگے ہیں تو سرورِ کائنات ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ میں اور عقب میں محفوظ چلے آرہے ہیں یہ دونوں وہ لقب ہیں جو صدیق اکبرؓ سے ہی مخصوص ہیں کوئی صحابی ان سے مشرف نہیں کیا جا سکتا مقام نصرت و مشکلات میں صاحبِ پیغمبرﷺ ہونا بہت بڑا مخصوص اعزاز ہے جسے عام مسافروں کے ساتھیوں پر قیاس کرنا اور مدارِ فضیلت نہ ماننا قرآنِ حکیم کی روح و اسلوب پر ظلم ہے جو ملحدین کا شیوہ ہے لَا تَحۡزَنۡ تو میرا غم نہ کر میں یہ بھی بتلا دیا کہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو دین و دنیا کی سب سے قیمتی متاع سید الرسلﷺ کی سلامتی کا اس مشکل ترین گھڑی میں فکر تھا کیونکہ حزن کا معنیٰ دوسرے کے لئے غم کھانا ہے جیسے لف و نشر مرتب کے طور پر حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے:
لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ‌ اِنَّا مُنَجُّوۡكَ وَاَهۡلَكَ الخ۔ (سورة العنکبوت: آیت، 33)
ترجمہ: اےلوط! نہ خوف کر نہ غم بے شک ہم تجھے اور تیرے گھر والوں کو نجات دیں گے۔ 
شیعہ کا اسے غمِ پیغمبرﷺ سے اپنی ذات کے لئے ڈر میں تبدیل کرنا، لغت و قرآن کی بدترین تحریف ہے اگر اپنی ذات کا ڈر ہوتا تو اس خطرناک مرحلے میں ساتھ کیوں ہوتے مدّت سے اس سفر کی تیاری میں کیوں رہتے جب یہ بزدلی اور اپنی جان کا ڈر نہیں بلکہ محبوب پیغمبرﷺ کے عشق میں دُنیائے غم واندوہ کا غوطہ تھا تو یہ محبت کی اور ایمان کی زبردست دلیل ہوئی۔
اگر بالفرض یہ غم، غمِ جاناں نہ ہوتا اور لَا تَحۡزَنۡ‌ کا شیریں قول عاشق صادق کے گوشِ ایمان میں نہ ڈالا جاتا تو دنیا کو عشقِ صدیقؓ پر شبہ ہوتا مولانا ابو الکلام آزادؒ نے کیا خوب فرمایا ہے:
یہ تین راتیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شمع نبوت کے پروانے تھے جس عالم میں بسر کی ہونگی ان کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس نے عشق و محبت کا کچھ بھی ذائقہ چکھا ہو اللہ کا رسولﷺ غار میں پوشیدہ تھا دشمن سراغ میں تھے ہر لمحہ اندیشہ تھا کہ ہمیں سراغ نہ پالیں اور ایک مرتبہ ان کی صدائیں بھی کانوں میں آنے لگی تھیں ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ ان کے دل کے حزن و اضطراب کا کیا عالم ہوگا بلاشبہ انہیں یقین تھا کہ اللہ اپنے رسولﷺ کا مدد گار ہے لیکن عشق و محبت کا قدرتی تقاضہ ہے کہ محبوب کو خطرے میں دیکھ کر اضطراب ہو اس سے وہ اپنے دل کو روک نہیں سکتے تھے اگر روک سکتے تو محبت کی عدالت کا فیصلہ ان کے خلاف ہوتا۔ (رسول رحمت: صفحہ، 186) 
لیکن پیغمبرِ اسلام کے سکون قلب کا عالم دوسرا تھا وہ بھی غمناک ہوتے تو تسلی کون دیتا اگر کیفیتِ قلبی دونوں کی یکساں ہوتی تو نبوت اور صدیقیت میں فرق کیا رہ جاتا مشکل اور آئینہ میں اصل اور نقل میں کچھ فرق تو ہونا چاہیئے۔
اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا بلا شبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا کیونکہ اس نے پیغمبرﷺ اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے مؤمنِ اکمل ہونے پر مہر لگا دی کیونکہ اللہ کی محبت منافقوں ظالموں ریاکاروں اور نافرمانوں کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ مومنوں پرہیز گاروں محسنوں نیکو کاروں اور صابروں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔
جیسے دسیوں ارشادات ربانی ہیں۔
وَأَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ۞  (سورۃ الانفال: آیت، 19)
ترجمہ: بلاشبہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيۡنَ هُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ۞ (سورۃ النحل: آیت، 128)
ترجمہ: اللہ متقی اور نیکو کاروں کے ساتھ ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ۞ (سورۃ البقرہ: آیت، 153)
ترجمہ: اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔
فَانْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَهُ عَلَيْهِ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت، 40) 
ترجمہ: پس اللہ نے اس پر اپنی ترجمہ رحمت و تسلی نازل فرمائی۔
یہ جملہ بھی کم مفسرین کے بیان کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی منقبت میں ہے کیونکہ حزن کے دفاع میں آپ ہی کو سکون و تسلی کی حاجت تھی۔
على أبی بكر ابن العربی قال علمأنا هو الاقوى لانه خاف على النَّبِیﷺ من القوم فانزل الله سكينته عليه بتامين النَّبِیﷺ فسكن جاشه وذهب روعه وحصل الأمن۔ (قرطبی: جلد، 8 صفحہ، 148)
ترجمہ: یعنی سیدنا ابوبکرؓ پر رحمت نازل فرمائی یہ ابنِ عربی نے کہا ہے ہمارے علماء کہتے ہیں یہی قوی تر تفسیر ہے کیونکہ وہی مشرکین سے حضورﷺ پر نقصان کا اندیشہ کر رہے تھے پس اللہ نے آپ پر تسلی نازل کی کہ حضورﷺ محفوظ رہیں گے تو آپ کا اندیشہ تھم گیا فکر دور ہوجا اور امن حاصل ہوگیا رہا یہ شبہ کہ آگے پچھے کی ضمیریں پیغمبرﷺ کی طرف رابع ہیں اس کو صاحبہٖ کی طرف لوٹانا انتشارِ ضمائر ہے تو جواب یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے جیسے مندرجہ ذیل آیت اس کی نظیر ہے:
لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا۞ (سورۃ الفتح: آیت، 9)
ترجمہ: ہم نے پیغمبر نذیر و بشیر بھیجا تاکہ تم اللہ و رسول پر ایمان لاؤ پیغمبر کی خدمت کرو اس کی عزت کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام 
پہلی دو ضمیریں رسولﷺ کی طرف راجع ہیں تیسری اللہ کی طرف کیونکہ اسی کی تسبیح کا ذکر بار بار قرآن میں آیا ہے۔
واقعہ ہجرت کتب شیعہ میں:
صفحہ 3 از 10