حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 10
ترجمہ: اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یقیناً بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور دوست ہیں اور ایک روایت میں ہے میں ان کو خلیل بناتا لیکن اسلام کا بھائی ہونا بہت شان کی بات ہے 
چونکہ مقامِ خلت دل میں صرف ایک کے سمانے کا نام ہے وہ صرف خُدا کی ذات تھی اس لیے اس کی نفی کر کے اخوّت کا اثبات فرمایا اور حضرت زیدؓ بن حارثہ کے متعلق بھی آپﷺ کا ارشاد ہے انت اخونا ومولانا آپ ہمارے بھائی اور محبوب ہیں۔ 
(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 528)
احادیثِ صحیحہ میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپﷺ نے فرمایا میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا (جو میرے بعد پیدا ہوں گے اور بن دیکھے ایمان لائیں گے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ الخ (سورۃ الحجرات: آیت، 10)
ترجمہ: سب مؤمن بھائی بھائی ہیں۔
مواخات کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بھائی چارہ قائم کرنے والوں میں تمام امور میں تماثل اور تشابہ پایا جاتا ہے بھائیوں میں فرقِ مراتب اور اوصاف میں کمی بیشی مشاہدہ کی بات ہے تو اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حضورﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنا بھائی فرمایا تو اس سے یہ کیوں ثابت ہوا کہ آپؓ ہی سب سے افضل ہیں اور امامِ بلا فصل ہیں۔ 
اخوّت نسبی مدارِ فضیلت نہیں:
واضح رہے کہ اخوتِ نسبی ہی کو شیعہ حضرات مدارِ افضلیت کہتے ہیں لیکن اخوّتِ اسلامی اور صحبتِ پیغمبری اس سے کہیں افضل ہے کیونکہ وہ آخرت میں بھی بدستور ہوگی ارشاد ہے:
1:وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ۞
(سورۃ الحجر: آیت، 47)
ترجمہ:ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞
(سورۃ الزخرف: آیت، 67)
ترجمہ:اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔ 
(ترجمہ مقبول: صفحہ، 591)
معلوم ہوا کہ اسلامی برادری اتنی پختہ ہے کہ دنیا میں فی الجملہ کدورت کے بعد بھی محبت و الفت سے قائم و دائم ہوگی اور متقین بدستور ایک دوسرے کے دوست رہیں گے مگر اخوّتِ نسبی وہاں کام نہ دے گی۔
فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَئِذٍ وَّلَا يَتَسَآءَلُوۡنَ ۞
(سورۃ المؤمنون: آیت 101)
ترجمہ: اس دن ان کے درمیان نہ رشتہ داری ہوگی نہ ایک دوسرے کا پوچھیں گے۔ 
يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِ ۞(سورۃ عبس آیت 34)
ترجمہ: اس دن آدمی اپنے بھائی سے
وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِ ۞(سورۃ عبس آیت 35)
ترجمہ: اپنی ماں اور اپنے باپ
وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِ۞(سورۃ عبس آیت 36)
ترجمہ: اور بیوی اور بچوں سے بھاگے گا۔
جب یہ اخوّتِ اسلامی حضرت علی المرتضیؓ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مشترک ہے تو افضلیت پر استدلال درست نہیں ہے اگر استدلال اخوت اسلامی و نصبی کے جامع ہونے کی وجہ سے ہے تو یہ اجتماع حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ و حضرت عثمان رضی اللہ عنہ و حضرت زبیرؓ میں بھی ہے بوجوہ ان میں شیخینؓ کی افضلیت سوال نمبر 3 کے آخر میں ملاحظہ فرما لیں۔ 
بالفرض اس وصفِ مشترک کو شیعہ اگر سیدنا علیؓ کی افضلیت پر ہی دلیل بنائیں تو یہ جزوی فضیلت ہوگی جیسے قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے:
اُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيۡفًا الخ(سورۃ النحل: آیت، 120)
ترجمہ: وہ بمنزلہ ہے ایک امت کے خدا کے مطیع و موحد تھے۔ 
وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِى الدُّنۡيَا الخ (سورۃ البقرہ: آیت، 130)
ترجمہ: اور ہم ان کو دنیا میں چن لیا۔ 
ارشاد فرماتے ہیں مگر حضورﷺ کے متعلق ایسے الفاظ قرآنِ حکیم میں ہرگز نہیں ملتے جیسے ان انبیاء علیہم السلام کو اِن جزوی القاب و خصائص کے باوجود سید الرسل علیہ افضل الصلوات و التسلیم پر فضیلت نہیں دی جا سکتی اسی طرح سیدنا علیؓ کو اخوتِ نسبی کی وجہ سے خلفاء ثلاثہؓ پر فضیلت نہیں دی جا سکتی کیونکہ حضورﷺ کی افضلیت علی الانبیاء پر دلائلِ قاہرہ کی طرح سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی افضلیت پر بھی دلائلِ قاطعہ موجود ہیں۔ 
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خصائص:
آپؓ صَاحِبِهٖ کے تاجدار ہیں
قرآنِ کریم نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو صاحبِ پیغمبرﷺ فرمایا ہے۔
اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت، 40)
ترجمہ: اگر تم ان کی یعنی نبی کریم ﷺ کی مدد نہیں کرو گے تو ان کا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ اللہ ان کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت مکہ سے نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھی ہے۔
صفحہ 2 از 10