حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 10
1: حضرت علیؓ نے جنگِ جمل کے دن فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے خلافت کے متعلق کوئی صریح چیز نہ دی تھی جسے ہم لیتے ہاں یہ چیز ہمارے اپنے مشورے سے ہوئی۔ پھر حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بنے اللہ کی آپؓ پر رحمت ہو تو آپؓ نے دین قائم کیا اور خود بھی دین پر جمے رہے۔ پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے اللہ کی ان پر رحمت ہو تو دین قائم کیا اور مستقیم رہے حتیٰ کہ دینِ اسلام نے اپنا سینہ زمین پر ٹیک دیامضبوطی سے قائم ہوگیا۔
(مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 114)
دوسری روایت میں یہ تصریح بھی ہے کہ حضرت صدیقِ اکبرؓ خلیفہ ہوکر حضورﷺ کے عمل اور سیرت پر چلے اور حضرت عمرؓ خلیفہ ہو کر حضرت ابوبکرؓ کرنے کے عمل اور سیرت پر چلے حتیٰ کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔
(مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 118)
حضرت صدیقِ اکبرؓ کی فضیلت میں قلم کو یہاں بریک لگا کر مختصر شیعہ دوست کے اس کفریہ جملہ پر کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت علیؓ بعد از رسولﷺ تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں۔
انبیاء علیہم السلام سب کائنات سے افضل ہیں:
واضح رہے کہ یہ صرف غالی شیعہ کا اپنا کفریہ عقیدہ ہے جو مفوضہ کی ایجاد ہے اور ان کے خاتم المحدثین مجلسی نے تو اور ہی کمال کر دیا ہے لکھتے ہیں۔
اکثر علماء شیعہ را اعتقاد است کہ حضرت امیر و سائر آئمہ افضلند آںٔمہ سائر پیغمبراں و احادیث مستفیضہ بلکہ متواترہ از آںٔمہ خود دری باب روایت کرده اند
(حیات القلوب: صفحہ، 526)
ترجمہ: اکثر علماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امیر اور باقی سارے اںٔمہ باقی سارے پیغمبروں سے افضل ہیں اور احادیث مشہورہ بلکہ متواترہ اس باب میں اپنے پیشواؤں سے نقل کی ہے۔ 
مگر کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں ہو سکتا اور نہ قرآن و سنت اور احادیث اس کی اجازت دیتی ہیں۔ قرآن پاک میں ایک رکوع میں 18 انبیاء علیہم السلام کا اجمالی تذکرہ کر کے اللہ پاک فرماتے ہیں۔
وَكُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞(سورۃ الانعام: آیت، 86)
ترجمہ: اور ہم نے ہر ایک کو تمام عالموں پر فضیلت دی (ترجمہ مقبول)
آگے فرمایا: اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡـكِتٰبَ وَالۡحُكۡمَ وَالنُّبُوَّةَ‌ ؕ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰٓؤُلَۤاءِ فَقَدۡ وَكَّلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ۞
اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ‌ فَبِهُدٰٮهُمُ اقۡتَدِهۡ ‌الخ
(سورۃ الانعام: آیت، 89، 90)
ترجمہ: وہ وہی ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا کی وہ وہی تو ہیں جن کو اللہ نے راستہ دکھلایا ہے پس اے رسولﷺ تم ان ہی کے راستے پر چلو۔(ترجمہ مقبول)
جن نفوس قدسیہ کو اللہ تعالیٰ تمام جہانوں پر فضیلت بخشیں اور کتاب، حکومت اور پیغمبری عطا فرمائیں اور بواسطہ پیغمبر حضورﷺ کی امت کو بھی ان کی پیروی کا حکم ہے کتنے ظلم اور افسوس کی بات ہے کہ امتِ محمدیہﷺ کے 12 حضرات شیعی ائمہ انبیاء علیم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کریں۔ حالانکہ وہ خود انبیاء علیہم السلام کے مقتدی اور پیرو کار ہیں ان کی وراثت علمی سے خوشہ چینی کرنے والے ہیں ان پر نہ کتاب اتری نہ ان کو شریعت اسلامیہ نافذ کرنے کی حکومت ملی نہ نبوت سے سرفراز ہوئے پھر افضلیت کیسی؟ یہ دعویٰ توچہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کا مصداق ہے۔
اگر اپنی مخصوص موضوع روایت کے پیش نظر شیعہ کا یہ اعتقاد ہو کہ ان پر بھی کتاب اتری۔ 
(12 صحاںٔف 12 اںٔمہ کے لیے) یہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے مماثل و ہمسر معصوم واجب الاتباع اور احکامِ شرع کے حلال و حرام بنانے میں خود مختار ہیں اور امت کے لیے براہِ راست مقتدا اور پیشوا ہیں (جیسے کہ کافی سے تفصیل سوال 20 کے تحت آئے گی) تو پھر کھل کر ان کو پیغمبر کہہ دیں اور ختمِ نبوت کا انکار کر کے ایک الگ امت کہلائیں اور مسلمانوں کا پیچھا چھوڑیں سنی شیعہ نزاع ختم کرنے کا یہی نسخہ اکسیر ہے۔(دیده باید)
شیعی احادیث میں بھی انبیاء کرام علیہم السلام افضل ہیں
اںٔمہ کی انبیاء کرام علیہم اسلام پر افضلیت کا عقیدہ شیعہ احادیث کے بھی خلاف ہے اصول کافی باب الفرق بین الرسول والنبی والمحدث امام میں رسول اور نبی کی تعریف کے بعد امام کی تعریف میں سیدنا باقرؒ کا ارشاد منقول ہے کہ امام وہ ہوتا ہے جو نیند میں فرشتہ کی آواز سنتا ہے مگر (نبی اور رسول کی طرح) فرشتہ کو دیکھ نہیں سکتا۔
2: پیغمبر نبوت اور علمِ امامت دو چیزوں کا حامل ہوتا ہے مگر امام کو صرف علمِ امامت ملتا ہے۔
(کافی: جلد، 1 صفحہ، 16)
3: حضرت جعفر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کرام علیہم السلام کو آتی ہے پھر ان کے بعد والوں کو پھر ان کے بعد والوں کو۔ 
(کافی: جلد، 1 صفحہ، 251)
4: ہم سب لوگوں سے زیادہ ابتلاء انبیاء کرام علیہم السلام کو ہوتا ہے پھر اوصیاء کو پھر ان کے بعد والوں کو درجہ بدرجہ ہوتا ہے۔
(کافی: جلد، 1 صفحہ، 251)
جب ابتلاء درجہ بندی کے سخت ہوتا ہے تو سب سے زیادہ ابتلاء والے اولاً مذکور انبیاء کرام علیہم السلام تمام اوصیاء سے افضل ٹھہرے اور یہ بالکل واضح ہے
عقلاً بھی یہ عقیدہ لغو ہے کیونکہ شاگرد اساتذہ کی صف میں شمار نہیں کیا جاسکتا نہ تابع متبوع سے بڑھ سکتا ہے ہائی کلاسز کے درجہ اول کے طلباء خواہ وہ مانیٹر ہی کیوں نہ ہوں ادنیٰ کلاسوں کے معلمین کے برابر علم یا رتبہ میں نہیں ہوسکتے چہ جائیکہ ان سے افضل مانے جائیں اس سے بعض شیعوں کے اس ڈھکوسلے کا جواب بھی ہوچکا جو کہتے ہیں کہ جب حضورﷺ کی نبوت ہمہ گیر اور وسیع ہے تو آپ کے ماتحت راہبروں کا مرتبہ بھی سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑا ہونا چاہیئے کیونکہ کسی بڑی ترقی یافتہ مملکت کا لازم درجہ اول ہی کیوں نہ ہو ملازم ہی ہے وہ اصولاً کسی صورت میں کسی چھوٹی حکومت کے سربراہ اور صدر کا اعزاز کبھی نہیں پا سکتا۔

صفحہ 10 از 10