حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ…

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بقول اہل سنت تمام امت محمدیہﷺ سے افضل ہیں تو بوقت مواخات یعنی جب رسول اللہﷺ نے مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیوں اپنا بھائی نہ بنایا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرتﷺ دعوت ذوالعشیرہ اور مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر فرمایا یا علیؓ انت اخی فی الدنیا والآخرۃ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بعد از رسول خدا تمام کائنات سے افضل و اکمل ہیں انصاف مطلوب ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 10
الجواب: دعوتِ ذوالعشیرہ کی حقیقت تو بیان ہوچکی ہے یہ دلیل بھی اسی جیسی ہے اور تاریخِ شہادت کا دعویٰ بلا دلیل ہے کیونکہ حضرت علیؓ کے متعلق مواخات فی المدینہ کی روایات مضطرب ہیں بعض میں ہے کہ ہجرت الی المدینہ کے بعد مہاجرین کا معاشی مسئلہ حل کرنے کے لیے آپﷺ نے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرایا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا سیدنا سہل بن حنیفؓ کے ساتھ بھائی چارہ قائم کرایا۔
(الاصابہ لابنِ حجر: جلد، 2 صفحہ، 87) 
غالباً یہ ہی وجہ ہے کہ سیدنا سہلؓ کے ساتھ آپؓ کے تعلقات اچھے رہے اپنے عہدِ خلافت میں ان کو گورنر بھی بنایا ہے۔
یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ مسندِ احمد کی طرف نسبت کر کے شیعہ علامہ حلی نے منہاج الکرامہ میں بھی نقل کی ہے شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہؒ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ روایت امام احمدؒ نے ذکر نہیں کی بلکہ القطیعی کے اضافات میں سے ہے جو ساقط الاحتجاج ہیں القطیعی نے سیدنا زید بن اوفیؓ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں جو روافض قصداً حذف کر دیتے ہیں کہ حضرت علیؓ میں عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں آپ سے کیا ورثہ پاؤں گا؟ آپﷺ نے فرمایا وہ ہی ورثہ جو انبیاءِ سابقین دوسروں کو دیا کرتے تھے یعنی کتاب اللہ اور سنتِ رسول یہ روایت بااتفاق محدثین جھوٹ ہے بلکہ مواخات پر مشتمل تمام روایات جھوٹ ہیں یہ مواخات آپﷺ نے مہاجرین کے درمیان قائم نہیں کی تھی بلکہ مہاجرین و انصار کے درمیان قائم کی تھی۔
(المنتقیٰ من المنہاج: صفحہ 678 اردو)
ماضی قریب کے مشہور سیرت نگار اور سنّی شیعہ نزاع سے آزاد مولانا غلام رسول مہر مرحوم رسولِ رحمت: صفحہ، 238 پر قمطراز ہیں۔
اجتماع اور مواخات:
مسجدِ نبوی کی تعمیر مکمل ہوچکی تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہﷺ نے مہاجرین و انصار کو جمع کیا اس اجتماع میں نوّے یا ایک سو اصحاب موجود تھے جن میں نصف مہاجرین تھے اور نصف انصار تھے حضورﷺ نے فرمایا: تاخوا فی اللہ اخوین اخوین۔
ترجمہ: اللہ کی راہ میں دو دو آدمی بھائی بھائی بن جاؤ۔
(ابنِ ہشام القسم الاول: جلد، اول و دوم صفحہ، 505)
پوری فہرستِ اسماء کہیں سے نہ مل سکی جو نام مختلف روایتوں سے معلوم ہوسکے وہ درج ذیل ہیں۔
مہاجرین:
حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف، حضرت زبیرؓ بن العوام، حضرت طلحہٰ بن عبید اللہؓ، حضرت عثمانؓ بن عفان، حضرت بلالؓ، حضرت سعید بن زیدؓ، حضرت مصعبؓ بن عمیر، حضرت ابو حذیفہؓ عتبہ بن ربیعہ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت ابوذر الغفاریؓ، حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ، حضرت سلمان فارسیؓ۔
انصار:
حضرت خارجہ بن زیدؓ بن الحارث، حضرت عتبان بن مالکؓ، حضرت سعدؓ بن معاذ، حضرت سعدؓ بن الربیع، حضرت سلمہ بن سلام بن وقش، حضرت کعبؓ بن مالک، حضرت انسؓ بن مالک، حضرت انسؓ بن ثابت، حضرت ابو رویحہ عبداللہ بن عبد الرحمٰن الحنثعمی ابی بن کعبؓ، ابوایوبؓ، عباد بن بشیر، حذیفہ بن الیمان العنسبیؓ، منذرؓ بن عمرو، عویمؓ بن ساعدہ، ابو الدردہؓ عویمر بن ثعلبہ۔ 
بعض ناموں کے متعلق روایات میں اختلاف ہے ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علیؓ بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا ھٰذا اخی یہ میرا بھائی ہے حالانکہ کے اسے مواخات کا جز قرار نہیں دیا جاسکتا جس کا انتظام مدینہ میں ہوا تھا پھر سیدنا حمزہؓ اور سیدنا زید بن حارثہ کی مواخات کا ذکر ہے یہ مکی مواخات ہو تو ہو مدنی نہیں ہوسکتی جس میں ایک فریق مہاجر اور دوسرا فریق انصاری تھا۔ سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب اور سیدنا معاذؓ بن جبل کے بھائی چارے کا بھی ذکر ملتا ہے حالانکہ مدنی مواخات کے وقت سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب حبش میں تھے وہ چھ سات سال بعد مدینہ پہنچے اور خیبر میں حضورﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔ 
(انتہیٰ بلفظہ: صفحہ، 238، 239)
ہم نے تفصیل آپ کی معلومات میں اضافہ کے علاوہ اس لئے نقل کی ہے کہ شیعہ کا تاریخی شہادت کا کمزور سہارا سامنے آجائے اس فہرست میں حضور اکرمﷺ اور حضرت علیؓ کی مواخات کا ذکر نہیں ملتا اگر ابنِ حجرؒ کا بیان علامہ کے سامنے ہوتا تو حضرت علیؓ و حضرت سہلؓ بن حنیف کا نام بھی ملتا بہرحال یہ روایت صرف ابنِ اسحاق سے ہے جس پر کڑی جرح کتبِ رجال میں موجود ہے۔
بالفرض اگر یہ واقع ہو تو اس کی وجہ سیدنا علیؓ کی تسکین و تسلی اور معاشی تکفل کا سامان ہے کیونکہ یہاں سیدنا علیؓ جیسے غیر شادی شدہ نادار درویش حضورﷺ کا سوا کوئی پشت پناہ نہ تھا آپؓ کے بھائی عقیل اور طالب (بحالتِ کفر) مکہ میں تھے سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب حبشہ میں تھے جیسے حضورﷺ نے مکہ میں آپؓ کی معاشی ذمہ داری خود لے رکھی تھی یہاں نئے دیس میں بھی آپؓ کی اشک شوئی اس کے بغیر ممکن نہ تھی یہی وجہ ہے کہ جب آپﷺ مواخات فرما چکے سیدنا علیؓ کو کسی کے ساتھ نہ لایا تو آپ سخت ناراض ہوئے تنبیہ کا بیان ملاحظہ ہو جو کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 92 پر ہے کہ جب سب مہاجرین و انصار کی آپﷺ مواخات کر چکے اور سیدنا علیؓ کی کسی کے ساتھ نہیں کی تو وہ حضورﷺ پر (العیاذ باللہ) غصے ہو کر کہیں چلے گئے حضورﷺ نے انہیں تلاش کر کے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا تو صرف مٹی والا (ابو تراب) بننے کے لائق ہے۔
اغضبت علی حین اخیت بین المهاجرين والأنصار وله أو اخ بينك و بين أحد منهم انت اخی فی الدنيا والآخرة۔ (بلفظه)
ترجمہ: کیا تو مجھ پر ناراض ہوگیا جب میں نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کی اور تجھے کسی کے ساتھ نہیں لایا تو میرا بھائی ہے دنیا میں اور آخرت میں۔
اخوتِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت زید رضی اللہ عنہ:
بشرطِ صحت روایت یہ فی الجملہ فضیلت کی بات ہے مگر کلی افضلیت کو اس سے کوئی تعلق نہیں حضورﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق بھی بروایتِ ابنِ عباسؓ یہ ہی فرمایا ہے
لو کنت متخذا من امتی خلیلا لاتخذت ابا بکرؓ ولٰکن اخی و صاحبی۔ وفی روایۃ لا اتخذتہ خلیلا ولٰکن اخوۃ السلام افضل۔
(بخاری: جلد،1 صفحہ، 516) 
صفحہ 1 از 10