شیعہ اور مرزا علی جہلمی کا مشہور اعتراض ہے کہتے ہیں کہ صحیح…

شیعہ اور مرزا علی جہلمی کا مشہور اعتراض ہے کہتے ہیں کہ صحیح بخاری حدیث 4108 میں لکھا ہے معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ہی مجلس میں تشریف لے گئے ۔ مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حاکم مقرر کیا گیا تھا اور حضرت معاویہؓ کی طرف سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ حاکم مقرر کیے گئے تھے۔ دونوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اس معاملے کو شوریٰ کے حوالے کر دیا جائے۔ حضرت امیر معاویہؓ اور علی رضی اللہ عنہ دونوں میں سے جن کو چاہیں گے لوگ خلیفہ بنا لیں گے۔ اُس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

 ہماری رائے یہ ہے کہ اس نزاعی صورت کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس معاملے کو شوریٰ کے حوالے کر دیا جائے۔

ہم علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں کو معزول کرتے ہیں اور امت کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے امر خلافت کو شوریٰ کے حوالے کرتے ہیں۔ لوگ جس کو پسند کریں گے اُس کو اپنا حاکم بنا لیں گے۔ میں نے سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ  کو معزول کر دیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ اُنہوں نے حمد وثنا کے بعد یہ کہا:  ابو موسیٰ نے تم سے جو کچھ کہا تم نے سنا۔ انھوں نے اپنے صاحب (حضرت علیؓ) کو معزول کر دیا۔ میں نے بھی اُن کو معزول کر دیا جیسا کہ ابو موسیٰ نے معزول کیا اور میں اپنے صاحب معاویہؓ کو اس کے لئے ثابت رکھتا ہوں کیوں کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ولی ہیں اور اُن کے خون کا بدلہ طلب کرنے والے ہیں لہٰذا اور لوگوں سے زیادہ وہی مستحق خلافت ہیں۔

(صحیح بخاری وارشاد الساری: جلد، 6 صفحہ، 324)

 یہاں پر ٹھہر کر شیعہ معترض سے پوچھا جائے کہ صحابی رسول حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا موقف ہے؟ یہاں تو صاف طور پر انھوں نے یہ کہا کہ ”میں نے علی رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا اور امیر معاویہؓ کو مقرر کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں امیر معاویہؓ کو زیادہ مستحق مانا"

اب اصل واقعہ کی طرف آئیے ۔ جب مجلس مشاورت ختم ہو گئی تو حضرت امیر معاویہؓ نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ مَنْ يَتَكَلَّمُ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَ مِنْ أَبِيْهِ

 ترجمہ: جو اس معاملے میں (امرِ خلافت میں) بات کرنا چاہتا ہے وہ ہمارے سامنے اپنا چہرہ لائے۔ ہم اُس سے اور اُس کے باپ سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں۔ حضرت امیر معاویہؓ نے یہ بات اس پس منظر میں کہی تھی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کے تعلق سے انہیں یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ وہ اپنے لیے خلافت کے استحقاق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ 

زبان و بیان کے اسلوب کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات ہر اہلِ علم سمجھ سکتا ہے کہ اس طرح کا جملہ کبھی کسی چیز کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ مثلاً کسی سے نوک جھونک ہو تو ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے تو کیا تیرا باپ بھی میرا بال بیکا نہیں کر سکتا حالانکہ اُس شخص کا باپ دنیا سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس جملے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ تجھ میں میرا کچھ بگاڑنے کی قدرت نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُس شخص کا باپ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کیوں کہ اس کا باپ دنیا میں موجود ہی نہیں تو اس کے بگاڑنے کا کیا سوال؟ حضرت معاویہؓ نے جو جملہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے فرمایا تھا اُس کو بھی اسی اسلوب کے تناظر میں سمجھا جائے گا کہ جب حضرت ابنِ عمر کے تعلق سے حضرت امیر معاویہؓ کو معلوم ہوا کہ وہ خود کو زیادہ مستحق خلافت سمجھتے ہیں تو انہوں نے اپنے شدید انکار کا اظہار کرتے ہوئے یہ جملہ کہا جو بھی امر خلافت کا دعویٰ دار ہے وہ ہمارے سامنے آئے ہم اُس سے اور اُس کے باپ سے زیادہ حق دار ہیں۔

 اس جملے کا صحیح مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم تم سے زیادہ مستحق خلافت ہیں یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ استحقاق ثابت کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ اُس وقت وہ باحیات نہیں تھے۔ خصوصاً جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہؓ خلیفۂ وقت مان چکے تھے۔ وہ ان کی خلافت کے مدح خواں تھے اور ان کی طرف سے شام کے گورنر بھی تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق خلافت ہونے کا دعویٰ چه معنی دارد؟ 

لہٰذا بخاری کی اس روایت سے یہ ثابت کرنا باطل ہے کہ حضرت معاویہؓ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ اپنے آپ کو مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ 

بخاری کے شارحین میں سے کسی نے حدیثِ مذکور کے ضمن میں یہ نہیں لکھا ہے کہ اس روایت کی بنا پر حضرت امیر معاویہؓ کو بُرا کہا جائے بلکہ امام قسطلانی رحمۃ اللہ اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ نے حضرت امیر معاویہؓ کا دفاع کرتے ہوئے یہ لکھا ہے:

وَ لَعَلَّ مُعَاوِيَةَ كَانَ رَأَيهُ فِي الْخِلَافَةِ تَقْدِيمَ الْفَاضِلِ فِي الْقُوَّةِ وَالْمَعْرِفَةِ والرأي عَلَى الْفَاضِلِ السّبْقِ إِلَى الْإِسْلامِ وَالدِّيْنِ فَلِذَا أَطْلَقَ أَنَّهُ أَحَقُّ وَ رَأَى ابْنُ عُمَرَ خَلافَ ذَالِكَ

ترجمہ: ہو سکتا ہے کہ معاویہؓ کی رائے خلافت کے معاملے میں یہ ہو کہ جو قوت ،سیاسی بصیرت اور عقل و رائے میں افضل ہو وہ شخص زیادہ مستحق خلافت ہو گا جو پہلے دین اسلام قبول کیا ہے۔ اسی بنا پر حضرت معاویہؓ نے کہا کہ وہ زیادہ مستحق خلافت ہیں۔ اس کے برخلاف حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی رائے یہ تھی کہ جو قدیم الاسلام ہے وہی زیادہ مستحق خلافت ہے۔ (بہر حال یہ دو صحابی رسولﷺ کا اجتہادی معاملہ تھا)

 (ارشاد الساری: جلد، 6 صفحہ، 324)


صفحہ 2 از 2