قیروان مغرب میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور اس کا علمی دار…

قیروان مغرب میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور اس کا علمی دار الحکومت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اسی طرح اہل مشرق میں سے جو لوگ مغرب یا اندلس جانا چاہتے وہ بھی اس شہر میں آتے اور وہاں کے اہل علم سے علمی استفادہ کرتے۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 53)

و: قیروان میں تجارت بڑی نفع بخش تھی اور اس میں سامان تجارت بڑی جلدی فروخت ہو جاتا تھا، لہٰذا مشرق و مغرب کے بڑے بڑے تاجروں کا وہاں آنا جانا لگا رہتا، ان تاجروں میں بہت سے محدثین اور فقہاء بھی ہوتے۔ قیروان میں علمی زندگی کی ترقی کا یہ بھی ایک اہم عامل تھا۔

(ایضاً)

ز: اس شہر کی علمی زندگی کے پر رونق ہونے کا ایک سبب اس کا سیاسی دارالحکومت ہونا تھا، جب بھی کوئی نیا امیر آتا وہ کئی علماء اور ادباء کو بھی اپنے ساتھ لے کر آتا۔ مزید برآں افریقی دار الحکومت میں آنے والے بہت سارے علماء و فقہاء مشرق سے آنے والے اسلامی لشکروں میں شامل ہوئے اور یہ سلسلہ دوسری صدی کے نصف تک جاری رہا۔ علاوہ ازیں امراء کی مدح و ستائش کے لیے آنے والے شعراء اور ادباء نے بھی قیروان کی علمی و ادبی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 54)

ح: چونکہ قیروان کی تاسیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں ہوئی تھی اور اس میں ان کے ہاتھوں بہت ساری کرامات کا ظہور ہوا اور ان میں سے کچھ ایک عرصہ تک اس میں مقیم بھی رہے اور یہ بلاد مغرب کا آخری شہر ہے جس میں صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف لائے

(ایضاً)

تو اس وجہ سے قیروان کو ایک طرح کا احترام اور تقدس حاصل ہو گیا جس کی وجہ سے قیروان کو افریقہ اور مغرب میں علمی قیادت کا شرف حاصل ہوا۔ اس شہر کے اوصاف گنواتے ہوئے ابواسحاق جبنیانی فرماتے ہیں: قیروان سر اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ جسم ہے، اہلیان قیروان نے ہی شکوک و شبہات اور بدعات و خرافات کی تردید کی، اور اس کے ائمہ نے ہی احیاء سنت کے لیے قتال کیا اور پھر اسی مقصد کے لیے جام شہادت نوش کیا۔

(مناقب ابی اسحاق الجبنیانی: صفحہ 60، 61)

تمام قدیم مصنفین علمی میدان میں قیروان کی مغرب کے تمام شہروں پر فضیلت کے معترف ہیں، قیروان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ولایت و علوم کا منبع ہے وہ اہل مغرب کے لیے ہر خبر کی اصل ہے اور تمام شہر اس کے محتاج ہیں۔ مغربی شہروں کی ہر ٹہنی قیروان سے بلند ہوئی اور اس کی ہر شاخ اسی پر مبنی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو۔ ہر مذہب کے علوم کا یہیں سے خروج ہوا اور ہر علم اسی کے ائمہ کی طرف منسوب ہوا اس حقیقت کا نہ کوئی خاص انکار کرتا ہے اور نہ کوئی عام، اور تاریخ کے طویل دور میں اس کی اس فضیلت میں کوئی ایک بھی مزاحم نہیں ہے۔

(حسن البیان للشیخ محمد النیفر: صفحہ 189)

یوں قیروان افریقی دار العلم قرار پایا اور یہاں سے بڑے بڑے فقہاء، محدثین اور قراء کا ظہور ہوا۔ اہل مغرب و اندلس طلب علم کے لیے اس کی طرف کشاں کشاں دوڑے چلے آتے تھے۔ اس شہر کے علماء و محدثین نے سلف صالحین کے مذاہب کا دفاع کیا اور وہ مغرب میں دار السنہ و الجماعہ قرار پایا۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 55)

قیروان نے شمالی افریقہ اور اندلس کو فتح کرنے اور مغرب میں اسلام کی نشر و اشاعت میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور وہ اسلامی تہذیب کا اہم ترین مرکز بن گیا۔

(العالم الاسلامی فی العصر الامو: صفحہ 270)


صفحہ 2 از 2