قیروان مغرب میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور اس کا علمی دار…

قیروان مغرب میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور اس کا علمی دار الحکومت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

50ھ میں قیروان کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد ہی باقاعدہ علمی زندگی کا آغاز ہوا تو پھر جلدی ہی یہ شہر مغرب میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور اس کا علمی دار الحکومت بن گیا، یہیں سے ہی داعیان اسلام روانہ ہوتے اور اسلامی دنیا کے گوشے گوشے سے متلاشیان علم ادھر ہی کا رخ کرتے۔ قیروان کے اس تہذیبی اور علمی مقام و مرتبہ کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

الف: قیروان کی تعمیر کا مطلب یہ تھا کہ افریقہ نیا اسلامی صوبہ اور عالم اسلامی کا جزو لا ینفک بن گیا ہے اور اس کے نتیجے میں اس میں مسلمان اپنی عادی زندگی گزاریں گے جس میں تعلیم اور اسلامی ثقافت کی نشر و اشاعت سرفہرست ہو گی، اس لیے کہ قیروان شہر رسالت تھا جس کے شہریوں پر مغرب میں اشاعت اسلام کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی جس طرح یہاں سے اسلامی لشکر روانہ ہوتے تھے، اسی طرح اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے داعیان اسلام بھی یہیں سے روانہ ہوا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قیروان کے اس مقام و مرتبہ سے اس کی تاسیس کے دن سے ہی آگاہ تھے۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 50)

ب: قیروان میں جامع مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ جسے اسلام میں پہلے مدرسہ کی حیثیت حاصل تھی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عقبہ کے لشکر میں شامل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس مسجد میں اسی انداز سے فریضہ تعلیم ادا کرتے جو اس وقت مشرقی شہروں میں مروج تھا، قیروان کی تاسیس کے دوران عقبہ کے ساتھ اٹھارہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 20)

جو وہاں پانچ سال تک مقیم رہے اور اس دوران وہ جامع قیروان میں عربی زبان کی اشاعت اور قرآن و سنت کی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور یہ سب کچھ قیروان کی تعمیر کے دوران ہوتا رہا۔ اس دوران کوئی ایسی بڑی جنگیں نہیں ہو رہی تھیں جو ان کی قیروان سے طویل غیر حاضری کا مطالبہ کرتیں۔ عقبہ کے دوسرے غزوہ کے دوران ان کے ساتھ پچیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 23)

جبکہ باقی سارا لشکر تابعینؒ پر مشتمل تھا، اس عرصہ کے دوران حدیث نبویﷺ کی روایت اس قدر عام ہو گئی کہ عقبہ کو اپنی اولاد اور ان کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو یہ وصیت کرنا پڑی کہ وہ ثقہ راویوں کی روایات اخذ کیا کریں اور ایسی چیزیں نہ لکھا کریں جو انہیں قرآن سے مشغول کر دیں۔

(شجرۃ النور: جلد 2 صفحہ 100۔ مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 51 )

ج: قیروان بربر مسلمانوں کی بھاری تعداد کا مرکز بن گیا تھا جو یہاں نیا دین سیکھنے کے لیے آئے تھے۔ ابن خلدونؒ عقبہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: وہ افریقہ میں داخل ہوئے تو بربر قبائل کے مسلمان ان کے ساتھ مل گئے جس سے ان کی جمعیت میں اضافہ ہو گیا، اکثر بربر اسلام میں داخل ہو گئے اور دین کو رسوخ حاصل ہو گیا۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 4 صفحہ 186)

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ فاتحین اسلام نے اپنے لیے ایسے لوگوں کو خاص کر لیا تھا جو یہ ذمہ داری بخوبی نباہ سکتے تھے۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 51)

قیروان سے اسلام تمام بلاد مغرب میں پھیل گیا۔ عقبہ نے بربر قبائل میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے مغرب اقصیٰ اور مغرب اوسط میں متعدد مساجد تعمیر کروائیں۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 27۔ مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 51)

پھر جب ابو المھاجر دینار افریقہ کے والی بن کر آئے تو انہوں نے کسیلہ اور اس کی قوم کی تالیف قلبی کی اور بربر قبائل کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے تو وہ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ بعد ازاں حسان بن نعمان نے بربر قبائل میں اسلام کی نشر و اشاعت کی کوششوں کو مزید تقویت دیتے ہوئے انہیں عربی زبان، فقہ اور مبادیات اسلام کی تعلیم کے لیے تابعین میں سے تیرہ فقہاء کا تقرر کیا۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 52)

موسیٰ بن نصیر نے بھی یہ سلسلہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے عربوں کو حکم دیا کہ وہ بربر قبائل کے لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں اور دین کے مسائل سے آگاہ کریں۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 42)

انہوں نے مغرب اقصیٰ کے لوگوں کو تعلیم دینے کی غرض سے وہاں ستائیس فقہاء کا تقرر کیا۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 42)

د: اسلامی لشکر کے زیادہ تر لوگ اپنی بیویاں بھی اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے افریقہ میں لونڈیاں اور امہات الاولاد اپنا رکھی تھیں۔ ابو العرب (الریاض: جلد 1 صفحہ 91۔ مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 52)

کہتے ہیں: بعض محدثین روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر جہاد کے لیے نکلے تو ان کی ام ولد بھی ان کے ساتھ تھی جس نے ان کی بچی کو جنم دیا جو مر گئی اور جسے انہوں نے باب سلم میں قریش کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ جسے قریش نے اس بچی کی وجہ سے مستقل قبرستان بنا لیا جس میں وہ اپنے مردوں کو دفن کیا کرتے تھے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 52)

دریں حالات مسلمان نوخیز بچوں کے لیے عربی زبان اور مبادیات اسلام کی تعلیم کا اہتمام کرنا ازحد ضروری تھا، یہی وجہ تھی کہ قیروان میں آغاز ہی سے تعلیم گاہیں قائم کر دی گئیں۔ غیاث بن شبیب سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرتے اس وقت ہم قیروان میں بچپن کی عمر میں تھے، وہ ہمیں سلام کہتے جبکہ ہم مکتب میں ہوتے، انہوں نے سر پر پگڑی باندھ رکھی ہوتی جس کا ایک سرا پیچھے کی طرف لٹکا رکھا ہوتا۔

(اسد الغابۃ نقلا مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 52)

سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ دو دفعہ قیروان آئے تھے۔ پہلی دفعہ 60ھ میں، یعنی قیروان کی تاسیس سے پانچ سال بعد، اور دوسری دفعہ 78ھ میں۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 53)

ھـ: قیروان کے محل وقوع کا بھی علمی زندگی کو مالا مال کرنے اور اسے اوپر اٹھانے میں بڑا اہم کردار ہے۔ یہ شہر مشرق و مغرب کے درمیان میں واقع ہے جب مغرب اور اندلس کے علماء و طلباء مشرق جانے کے لیے وہاں سے گزرتے تو وہ اس کے علماء سے استفادہ کرتے۔

(ایضاً)

صفحہ 1 از 2