اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

اذان میں حی علی خیر العمل کے الفاظ

  محمد عثمان رشید

صفحہ 2 از 3
ذہبی فی حدیثہ نکارۃ
(المغنی: صفحہ، 3570)
ابنِ حجر ضعیف
(تقریب: صفحہ، 3873)
شوکانی ضعیف
(نیل الاوطار: جلد، 3 صفحہ، 346)
ابنِ ابی عاصم ضعیف
(الاحاد والمثانی: جلد، 1 صفحہ، 65)
ترکمانی حنفی نے اس کو منکر الحدیث بتایا ہے
(جواہر النقی: جلد، 3 صفحہ، 286)
اس میں تیسرا راوی ابنِ معین سے عبداللہ بن محمد بن عمار و عمار ابنا حفص بن عمر بن سعد و عمار و عمر ابنا حفص بن عمر بن سعد عن ابائھم عن اجدادهم کے متعلق پوچھا ہه ان کا کیا حال ہے۔ تو جواب دیا لیسوا بشیء۔
(تاریخ الدارمی: صفحہ، 606)
اور عمر و عمار ابنا حفص کو ابنِ حبان نے ثقات جلد، 7 صفحہ، 170 جلد، 8 صفحہ، 516 میں ذکر کیا ہے۔
ہیثمی کہتے ہیں:
"فیه عبدالرحمٰن بن عمار بن سعد وقد ضعفه ابن معین."
(مجمع الزوائد: جلد، 1 صفحہ، 330)
ابنِ قطان فاسی کہتے ہیں۔
لا یعرف حاله ولا حال ابیه وجده مجہول الحال
(الجواہر النقی: صفحہ، 394)
نیز ارواء الغلیل جلد، 3 صفحہ، 120
ان پر جرح کے لیے دیکھیے:
(الضعفاء للعقیلی: جلد، 2 صفحہ، 300 الجرح و تعدیل: جلد، 6 صفحہ، 103 الجواہر النقی: جلد، 3 صفحہ، 287 المغنی: جلد، 2 صفحہ، 464 تہذیب لابنِ حجر: جلد، 6 صفحہ، 183 تہذیب الکمال: جلد، 21 صفحہ، 302 تحریر تقریب التاریخ الکبیر للبخاری: جلد، 5 صفحہ، 287 لسان المیزان: جلد، 4 صفحہ، 271 الجرح و تعدیل جلد، 6 صفحہ، 392 معرفہ علوم الحدیث للحاکم صفحہ، 70 النوع الخامس عشر)
امام بیہقی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
"قال الشیخ و هذه اللفظه لم تثبت عن النبی صلی الله علیه وسلم فیھا علم بلالا وابا محذور ونحن نکره الزیادۃ فیه بالله التوفیق."
کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں جیسا کے حضرت بلالؓ اور حضرت ابو محذورهؓ نے سکھائے اور ہم اس زیادۃ کا انکار کریں گے۔
نیز اس میں عبداللہ بن محمد بھی ضعیف ہے۔
(الجوہر النقی: جلد، 1 صفحہ، 395 جلد، 3 صفحہ، 287)
ایک اثر سیدنا ابنِ عمر رضی الله عنہ سے ملتا ہے جس میں حی علی خیر العمل کا ذکر ہے۔
ان کا اثر متعدد طرق سے مروی ہے۔
جس میں آیا کہ آپؓ اذان میں حی علی خیر العمل کہتے۔
(ابنِ ابی شیبه جلد، 1 صفحہ، 215 عبدالرزاق جلد، 1 صفحہ، 460، 464 ح، 1786، 1797 البیہقی الکبریٰ جلد، 1 صفحہ، 434 425)
اب اس کی تفصیل دیکھیں:
ایک روایت میں آیا کہ
سیدنا ابنِ عمر رضی الله عنہ یکبر فی النداء ثلاثا و یشهد ثلاثا وکان احیانا اذا قال حی علی الفلاح قال علی اثرھا حی علی خیر العمل
(الکبریٰ للبیہقی: جلد، 1 صفحہ، 424)
کے تین بار آذان میں حی علی الفلاح کہتے اور بعض اوقات حی علی خیر العمل کہتے۔
اور بعض میں ہے جب سفر میں ہوتے تو کہتے ہیں۔
(ایضاً)
اور بعض میں ہے کہ
لا یوذن فی سفره وکان یقول حی علی الفلاح واحیانا یقول حی علی خیر العمل
(ایضاً)
ترجمہ: یعنی سفر میں وه اذان نہیں دیتے تھے وه صرف حی علی الفلاح اور کبھی حی علی خیر العمل کہتے۔
اور بعض میں ہے 
یقیم الصلاۃ فی السفر یقولھا مرتین او ثلاثا یقول حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی خیر العمل
(عبدالرزاق ح، 1797 جلد، 1 صفحہ، 464)
جب وه سفر میں نماز پڑهتے تو تین یا دو بار حی علی الصلاۃ کہتے اور پھر حی علی خیر العمل کہتے۔
حبیب الرحمٰن الاعظمی نے اس اثر کے تحت کہا ہے کہ:
"معنی الاثر انه کان لا یوذن فی السفر بل یکتفی بالاقامه ویکتفی من الاقامه بقوله حی علی الصلاۃ مرتین او ثلاثا
ترجمہ: یعنی وه سفر میں اذان نہیں دیتے تھے وه صرف اقامت (کے ان الفاظ پر) اکتفا کرتے حی علی الصلاۃ۔
الشیخ بکر ابو زید کہتے ہیں:
"واما المروی عن ابنِ عمر رضی الله عنهما فان هذا کان منه بالسفر اذ کان لا یری الاذان فیه و یفعله علی سبیل الایذان والتنبیه لا علی انه لفظ مسنون اما وقد اصبح شعارا للرافضه فیجب هجره حتی ولو فی المباح من الکلام"
(تصحیح الدعاء: صفحہ، 379)
ترجمہ: ابو زید کہتے ہیں اور رہی وه عبارت جو حضرت ابنِ عمرؓ سے بیان کی گئی ہے تو بے شک وه سفر کے متعلق بیان کی گئی ہے اور اس میں اذان کو ذکر نہیں کرتے اور اس تنبیہ اذان کے قائم مقام میں سمجھتے یه بات نہیں کے بے شک وه الفاظ منسون نہیں ہیں جیسا کہ را‌فضہ نے سمجھ لیا۔
اس کے علاوه اس طرح کے الفاظ کا ذکر ابی امامہ بن سہل بن حنیف کی طرف بھی منسوب کیے جاتے ہیں محب طبری احکامہ میں کہتے ہیں اس کو سعید بن منصور نے سنن میں ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند پیش نہیں کی۔ نیز بیہقی نے بھی اشاره کیا ہے۔
(دیکھیے نیل الاوطار: جلد، 1 صفحہ، 531 السنن الکبریٰ ابنِ عمر کے اثر ذکر کرنے کے بعد)
یعنی اس کی سند موجود نہیں۔
ابنِ حزم کہتے ہیں:
"وقد صح عن ابنِ عمر و ابی امامه بن سھل بن حنیف انھم کانوا یقولون فی اذانھم حی علی خیر العمل, ولا نقول به لانه لم یصح عن النبی صلی الله علیه وسلم حجه فی احد دونه"
(المحلی: جلد، 3 صفحہ، 160)
شیخ السلام کہتے ہیں:
"کما یعلم ان حی علی خیر العمل لم یکن من الاذان الراتب وانما فعله بعض الصحابه لعارض تحضیضا للناس علی الصلاۃ"
(مجموع الفتاویٰ: جلد، 23 صفحہ، 103)
ابنِ ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے کہ یہ اذان الاول تھی۔
اہلِ علم نے اس زیادۃ حی علی خیر العمل کو اذان میں بدعت کہا ہے۔
(منہاج السنہ: جلد، 6 صفحہ، 293، 294 الدرر السنیہ لعبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب: جلد، 4 صفحہ، 206، 207 ابنِ باز نے مجموع الفتاویٰ و مقالات متنوعہ: جلد، 4 صفحہ، 260، 261جلد، 10 صفحہ، 353، 354 فتاویٰ الجنہ الدائمہ جلد، 6 صفحہ، 95، 96)
لہٰذا جب وه اذان میں اس کو کہتے ہی نہیں تھے تو پھر اس کو اذان میں اضافہ کی دلیل کیسے سمجھا جاتا ہے۔
اللہ سمجھنے کی توفیق دے۔
 حی علیٰ خیر العمل اذان كا جزء نہیں ہے، اس بارے میں اہلِ سنت كے دلائل
1: معتبر احادیث كے ذریعہ ثابت نہیں ہوتا كہ" حی علی خیر العمل" اذان كی فصل ہے، اور جن مصادر میں اس كا ذكر آیا ہے جیسے سنن الكبریٰ؛ للبیہقی اور المصنف لابی شیبہ، تو ان كی دوسرے درجہ كی حیثیت ہے۔
2: جن روایات سے اس جملہ كا جزءِ اذان ہونا ثابت ہوتا ہے وہ سب روایات ضعیف ہیں، لہٰذا یہ روایتیں درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں۔
صفحہ 2 از 3