کثرت حدیث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کثرت حدیث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے بہت سی احادیث سنتا ہوں مگر انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنی چادر بچھائیں۔‘‘ میں نے اپنی چادر بچھا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بھرا اور فرمایا: ’’اسے سمیٹ لو۔‘‘ میں نے اسے سمیٹ لیا اور پھر اس کے بعد مجھے کوئی چیز نہ بھولی۔

(بخاری: رقم: 119۔ مسلم: رقم: 160)

 سیدنا ابو ہریرہؓ کے شاگردوں اور ان سے نقل کرنے والوں کی کثرت

ابوہریرہؓ کے شاگردوں کی تعداد تقریباً آٹھ سو تھی۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 223۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 579)

 سیدنا ابو ہریرہؓ کا تاخیر سے فوت ہونا:

ایک قول کی رو سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ 58ھ میں جبکہ دوسرے قول کی رو سے 59ھ میں فوت ہوئے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:

 ضعیف السند احادیث، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحت کے ساتھ ثابت نہیں ہیں۔

 مکرر احادیث۔

ایک سے زائد اسناد والی احادیث۔

اکابر صحابہ مثلاً عشرہ مبشرہ اور امہات المؤمنین وغیرہم سے مروی احادیث۔

 ان پر موقوف روایات۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 223)

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے ان سے تین سو چھبیس احادیث اخذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امام بخاریؒ ترانوے احادیث کے ساتھ اور امام مسلمؒ اٹھانوے احادیث کے ساتھ منفرد ہیں۔ جن احادیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ ان میں سے زیادہ تر کے ساتھ منفرد نہیں ہیں بلکہ اس میں دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔

(خاتمۃ وسائل الشیعۃ: صفحہ 151)

رہا روافض کا ان کی مرویات پر اعتراض کرنا، تو جابر بن یزید جعفی نے محمد باقر رحمہ اللہ سے ستر ہزار باقی ائمہ سے ایک لاکھ چالیس ہزار حادیث روایت کی ہیں۔

(رجال النجاشی: صفحہ 9)

ابان بن تغلب جعفر الصادق رحمہ اللہ سے تیس ہزار احادیث روایت کرتا ہے۔

(مشیخۃ الصدوق: صفحہ 6)

محمد بن مسلمؒ نے باقر سے تیس ہزار اور الصادق رحمہ اللہ سے سولہ ہزار احادیث روایت کی ہیں۔

(موقف المدرسۃ العقلیۃ من السیرۃ النبویۃ: الامین و الصادق:  جلد 2 صفحہ 74)

اس سے روافض کا تناقض کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہم اللہ اور جید علماء نے قوت حافظہ اور عمدہ یادداشت کی گواہی دی ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 203، 204۔ اس کے راوی ثقہ اور سند صحیح ہے)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم ہم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، تم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سے بڑے عالم ہو۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 599)

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ میں راویان حدیث میں سے سب سے بڑے حافظ تھے۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 578)

امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک آپ سید الحفاظ ہیں۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 219)

مزید فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کردہ احادیث کو حفظ رکھنا ختم ہے۔

(العصر انیون: محمد حامد ناصر: صفحہ 115)

علمائے اسلام نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھرپور دفاع کیا اور ان کے بارے میں پیدا کردہ شبہات کا ازالہ کیا ہے۔ عصر حاضر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر عائد کیے گئے الزامات و اتہامات کی تردید میں تصنیف کردہ کتابوں میں قابل ذکر یہ کتابیں سرفہرست ہیں: ’’العصر انیون بین مزاعم التجدیدو میادین التغریب‘‘

(موقف المدرسۃ النقلیۃ: الامین الصادق: جلد 2 صفحہ 74)

اور ’’موقف المدرسۃ العقلیۃ من السنۃ النبویۃ‘‘۔




صفحہ 2 از 2