کثرت حدیث - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کثرت حدیث

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

ج: کثرت حدیث

نظام معتزلی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر کثرت حدیث کے حوالے سے اعتراض کیا جبکہ اس کی پیروی کرتے ہوئے بعض دیگر معتزلہ نے بھی ان پر یہی اعتراض وارد کر دیا جن میں سے بشر مریسی اور ابو القاسم قابل ذکر ہیں۔ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب (تاویل مختلف الحدیث) میں نظام کے اس مؤقف کی تردید کی، پھر یہی شبہ بعض متاخرین کے دلوں میں پیدا ہوا جیسا کہ رافضی مولف عبدالحسین شرف الدین، اس نے اپنی کتاب ’’ابوہریرۃ‘‘ (ابوہریرۃ: صفحہ 45 و ما بعدہا۔ السنۃ قبل التدین: صفحہ 446)

کے بہت سارے صفحات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے سیاہ کر ڈالے۔ پھر اسی رافضی کو ابوریہ نے اپنی کتاب ’’اضواء علی السنۃ المحمدیۃ‘‘(اضواء علی السنۃ المحمدیۃ: صفحہ 160 و ما بعدہا.)

میں بھڑکایا اور اس کے لیے ان دونوں نے ضعیف اور موضوع روایات سے استشہاد کیا اور باطل تاویلات اور غلط موازنہ سے کام لیا، ان لوگوں کی آراء بعض مستشرقین مثلاً ’’گولڈ زیہر‘‘ کی آراء سے ہم آہنگ ہیں جس کے نزدیک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیادہ روایات کی وجہ سے قابل گردن زدنی ہیں۔

(دائرۃ المعارف الاسلامیہ: مادہ: حدیث: نقلا عن السنۃ المحمدیۃ قبل التدوین: صفحہ 447)

ان کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ: ابوہریرہ نے متاخر الاسلام ہونے کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (5374 ) روایات نقل کی ہیں جو کہ خلفائے اربعہ اور دیگر کئی سابق الاسلام صحابہ رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ ہیں۔

(ایضاً: صفحہ 447)

مگر خلفائے راشدینؓ کا حفظ اور کثرت روایت کے میدان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقارنہ کرنا غلط ہے، اس کے چند اسباب ہیں، جن میں اہم تر یہ ہیں:

 یہ درست ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سابق الاسلام ہیں مگر ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جتنی روایات مروی نہیں ہیں، لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکومتی اور سیاسی امور میں مصروف رہے جس کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر تعلیم و تعلم کے لیے زیادہ وقت نہ نکال سکے۔ مگر انہوں نے یہ بار امانت اس طرح ادا کیا کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں علماء، قراء اور قضاۃ کو بھیجا اور خود امت کے معاملات کی اصلاح میں مصروف رہے، اگر ہم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قلت روایت کی وجہ سے اس لیے ملامت نہیں کر سکتے کہ وہ فتوحات اسلامیہ میں مصروف رہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بکثرت نقل حدیث کی وجہ سے بھی ملامت نہیں کر سکتے اس لیے کہ وہ علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 45)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تعلیم و تعلم میں مصروف رہنا اور ان کی طویل عمر کی وجہ سے لوگوں کا ان کی طرف رجوع کرتے رہنا ان کے اور سابق الاسلام صحابہ نیز خلفائے اربعہ کے درمیان موازنہ کرنے کو غیر صحیح قرار دیتا ہے۔ بلکہ ایسا کرنا بہت بڑی غلطی کے مترادف ہو گا۔

(ایضاً: صفحہ 451)

ان کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ روایات نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں رہ کر لوگوں کو فتاویٰ دیا کرتی تھیں جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں حلقہ درس قائم کر رکھا تھا، پھر مرد ہونے کے ناطے ان کا لوگوں کے ساتھ میل جول زیادہ رہتا تھا اور وہ سیدنا عثمان صبح و شام لوگوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ مزید برآں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی توجہ عورتوں کے مسائل پر مرکوز تھی اور ہر آدمی کا ان کی خدمت میں حاضر ہونا دشوار تھا۔

(ایضاً: صفحہ 451)

ہویٰ پرستی سے مجرد نظر اس امر کا ادراک کر سکتی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث تعجب خیز نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے اس شور و شغب کی ضرورت تھی جو ہویٰ پرستوں اور سنن نبویہ کے دشمنوں نے مچا رکھا ہے۔ اور یہ کہ ان سے مروی روایات میں چاہے انہوں نے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کیں یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان میں اس لیے شک نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں صحبت نبوی کا بہت کم عرصہ میسر آیا، بلکہ ان کا یہ عرصہ صحبت اس سے بھی زیادہ کا احتمال رکھتا تھا، اس لیے کہ دولت اسلام کے یہ سال دعوت و نشاط کے لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل اور تعلیم و توجیہ کے اعتبار سے بڑے گراں قدر تھے۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 452)

 انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفاقت کے چار سال میسر آئے اور اس دوران وہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، سیدنا ابوہریرہؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ لوگ کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے، اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیات نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِ اُولٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ۞ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَيَّـنُوۡا فَاُولٰٓئِكَ اَ تُوۡبُ عَلَيۡهِمۡ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ ۞ (سورۃ البقرة آیت 160)

ترجمہ: بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں۔ ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔

ہمارے مہاجر بھائی کاروبار میں مصروف رہتے جبکہ ہمارے انصاری بھائی اپنے اموال میں مصروف عمل رہتے جبکہ ابوہریرہ پیٹ بھر کھانے کے عوض ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا، وہ اس جگہ حاضر ہوتا جہاں دوسرے لوگ حاضر نہ ہوتے اور وہ وہ کچھ حفظ کر لیتا جو وہ حفظ نہ کر سکتے۔

(بخاری: رقم: 118۔ مسلم: رقم: 159)

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوہریرہؓ کے لیے حفظ و ضبط کی دعا کرنا

صفحہ 1 از 2