سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا ابو…

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بحرین پر ولایت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

وہ فرمایا کرتے تھے: تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث بیان کرتا ہے۔ تمہارا یہ بھی کہنا ہے کہ انصار و مہاجرین کو کیا ہوا وہ ابوہریرہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے مہاجرین بھائی کاروبار میں مصروف رہتے جبکہ انصاری بھائیوں کو ان کے اپنے کام مصروف عمل رکھتے۔ 

میرا شمار صفہ کے مساکین میں ہوتا تھا اور میں پیٹ بھر کھانے کے بدلے ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا، جب وہ غائب ہوتے میں حاضر ہوتا، جب وہ بھول جاتے میں یاد رکھتا۔ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنا کپڑا پھیلائے رکھے گا یہاں تک کہ میں اپنی گفتگو پوری کر لوں پھر وہ اپنا کپڑا سمیٹ لے تو وہ میری تمام باتیں یاد کر لے گا۔‘‘ اس پر میں نے اپنی چادر بچھا دی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرما لی تو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لپیٹ لیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے کچھ بھی نہ بھولا۔

(صحیح مسلم: رقم: )2492

دوسری روایت میں ہے: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنا کپڑا بچھائے یہاں تک میں اپنی گفتگو پوری کر لوں پھر وہ اسے اپنی طرف سمیٹ لے تو وہ کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں بھولے گا جو اس نے مجھ سے سماعت کی ہو گی۔‘‘ میں نے ایسا ہی کیا، مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں کوئی ایسی بات نہیں بھولا جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 595۔ مسلم: رقم: 2294)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی شفاعت سے سب سے بڑھ کر سعادت کون حاصل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوہریرہ! میرا خیال تھا کہ اس بارے میں مجھ سے تم سے پہلے کوئی شخص سوال نہیں کرے گا اور یہ اس لیے کہ تم میری حدیث کے بڑے حریص ہو۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اس شخص کو حاصل ہو گی جو خالص دل سے لا الہ الا اللّٰه پڑھے گا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 596۔ اسنادہ صحیح)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کامل حاذق حافظ تھے، وہ جو کچھ روایت کرتے وہ انہیں حفظ و ضبط ہوتا اور جو کچھ بھی بیان کرتے بڑی ذمہ داری اور باریک بینی سے بیان کرتے۔ ان میں دو ایسی خوبیاں ایک ساتھ موجود تھیں جن میں سے ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہے،

پہلی: علمی وسعت اور کثرت روایات

دوسری: قوت حفظ اور حسن ضبط۔

یہ وہ عظیم وصف ہے جس کے اہل علم متمنی ہوا کرتے ہیں۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 427)

مروان کے کاتب ابو زعیزعہ نے ہمیں ایک ایسی چیز بتائی ہے جس سے ان کے حفظ و اتقان کا اثبات ہوتا ہے۔ اس کا بیان ہے: مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سوالات کرنے لگا اور مجھے پلنگ کے پیچھے بٹھا دیا ، جو کچھ سنتا اسے لکھتا جاتا۔ پھر سال ختم ہونے پر انہیں دوبارہ بلایا اور پھر انہیں پردے کے پیچھے بٹھا کر ان سے اس کتاب کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ انہوں نے اپنے جوابات میں نہ تو کوئی کمی بیشی کی اور نہ ہی تقدیم و تاخیر۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد ص صفحہ 598)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صرف راوی حدیث ہی نہیں تھے بلکہ ان کا شمار اپنے زمانے کے قرآن و سنت اور اجتہاد کے رؤسائے علم میں ہوتا تھا۔ ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحبت و رفاقت نے انہیں دین فہم و شعور عطا کرنے اور چھوٹی بڑی عملی سنت کے مشاہدہ کا بھرپور موقع فراہم کیا تھا جس کی وجہ سے ان کے پاس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ پھر ان سب چیزوں نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ وہ تقریباً بیس سال تک مسند افتاء پر فائز رہے۔ یاد رہے کہ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد موجود تھی۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 428)

ک: حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح ترین سند

ابن المدینیؒ سے ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ علی الاطلاق صحیح ترین سند یہ ہے: حماد بن یزید عن ایوب عن محمد بن سیرین عن ابی ہریرۃ 

(ایضاً: صفحہ 434)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی احادیث کے حوالے سے صحیح ترین اسناد یہ ہیں:

زہری، عن سعید بن المسیب، عن ابی ہریرۃ

ابو الزناد عن الاعرج -عبدالرحمن بن ہرمز- عن ابی ہریرۃ

مالک عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

سفیان بن عیینۃ عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

معمر عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

معمر عن ہمام بن منبہ عن ابی ہریرۃ

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 435)


صفحہ 2 از 2