مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58 یا…

مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات (58 یا 59ھ)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اپنے گھر کی آبادی کا بھی اہتمام فرماتے۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دن تک سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان رہا، وہ، ان کی بیوی اور بیٹی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر کے باری باری قیام کرتے، ان میں سے ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسرے کو جگا دیتا اور پھر دوسرا تیسرے کو۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 209)

اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت سے سیدنا ابو ہریرہؓ کا روشن و تاباں گھر ہمیں اس دور کے گھروں کی کیفیت سے آگاہ کرتا ہے جب ان کا گھر رات بھر کی عبادت سے آباد رہتا تو اس میں شیطان کے لیے گنجائش کہاں سے نکل سکتی تھی۔ یہ حافظ کبیر اور عالم ربانی سید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی تقویٰ اور عمل صالح پر عالی شان تربیت، طاہرہ زکیہ خاتون کی طرف سے اس کی استجابت کریمہ اور اطاعت گزار صالح خادم کی طرف سے اس کی قبولیت کا مبارک نتیجہ تھا۔ جب 

فرزندان دنیا اپنے خدام کو کسی بڑے کام کا مکلف بناتے ہیں تو صرف دنیوی اعمال کا مکلف بناتے ہیں ان کے نزدیک اخروی عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جبکہ فرزندانِ آخرت کی خوشی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب وہ اپنے خدام کو اخروی اعمال کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے دیکھتے ہیں اس لیے کہ اس طرح وہ اپنی خوبی توجیہات کی وجہ سے اجر جزیل حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 19 صفحہ 215)

ھ: فقر و فاقہ اور عفت و پاک دامنی

سیدنا ابو ہریرہؓ کا شمار فقراء و مساکین لوگوں میں ہوتا ہے۔ سیدنا فقر و فاقہ کی شدت کے باوجود بھی صابر و شاکر رہے۔ یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ کنکریوں پر بچھا دیتے اور یوں شب و روز تڑپتے تڑپتے گزارا کرتے مگر انہیں ایسی کوئی چیز میسر نہ آتی جو ان کی پشت کو سیدھا کر سکتی۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 413)

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں گھومتے رہتے پھر گھر آکر پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیتے تو فرماتے: پھر میں روزے سے ہوں۔

(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 3381)

سیدنا ابو ہریرہؓ بڑے قناعت پسند اور اللہ کی نعمتوں پر شاکر رہنے والے تھے۔ اگر کبھی پندرہ کھجوریں کہیں سے میسر آ جاتیں تو پانچ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے، پانچ کے ساتھ سحری کرتے اور پانچ افطاری کے لیے رکھ لیتے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 385)

آپ بکثرت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و خیر پر بڑی کثرت کے ساتھ اس کی تسبیح و تحمید اور تکبیر بیان کرتے۔

(تاریخ الاسلام: جلد 2 صفحہ 335)۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 439، 440)

و: حلم و حوصلہ اور عفو و کرم

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سیاہ فام لونڈی تھی جس نے اپنے عمل و کردار سے انہیں زچ کر رکھا تھا، ایک دن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کوڑا اٹھاتے ہوئے اس سے کہا: اگر قیامت کے دن قصاص کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں تجھ پر اس کی بارش برسا دیتا، میں تجھے اس کے ہاتھ فروخت کروں گا جو اس دن مجھے تیری پوری پوری قیمت دے گا جب مجھے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی۔ چلی جا، تو اللہ کے لیے آزاد ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 385)

یوں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی خادمہ پر اپنی قدرت اور اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا موازنہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچاؤ کو اپنی ناراضی کے مقتضی کی تنفیذ پر ترجیح دیتے نظر آتے ہیں اور خادمہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور اسے سزا دینے کی بجائے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے لوجہ اللہ آزاد کر دیتے ہیں۔ یوں انہوں نے متعدد اعمال صالحہ اپنے نامۂ اعمال میں جمع کر لیے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی خشیت، بدسلوکی کے مرتکب کو معاف کرنا اور اس پر احسان کرنا۔ اس سے یہ امر بھی منکشف ہوتا ہے کہ اخروی زندگی کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تصور بڑا گہرا تھا، اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا کرتے تھے اور اس کی رضامندی کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے تھے۔

(التاریخ الاسلامی: للحمیدی: جلد 17 صفحہ 23)



صفحہ 2 از 2