گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں - دفاعِ…

گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جیسے ان کے عمال غیر مسلم تھے جن میں سے کچھ بعد میں دائرہِ اسلام میں داخل ہو گئے۔

مزید برآں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے غیر مسلم رعایا کو اپنی دینی اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی کھلی آزادی دے رکھی تھی۔ انہوں نے دمشق کے نصاریٰ کی اس درخواست کو قبول کر لیا کہ کنیسہ یوحنا کو دمشق کی مسجد میں شامل نہ کیا جائے۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 291،)

کنیسہ رھا (ادیسا) جو کہ زلزلہ کی وجہ سے گر گیا تھا (فتوح مصر: صفحہ 132، 222  )

غیر المسلمین فی المجتمع الاسلامی: قرضاوی صفحہ 20، 21 )

اس کی نئے سرے سے تعمیر کی اور مسلمہ بن مخلد انصاریؓ کی مصر پر ولایت (67، 68ھ) کے دوران فسطاط میں پہلا گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔

(فتوح مصر: صفحہ 132۔ غیر المسلمین فی المجتمع الاسلامی: قرضاوی: صفحہ 20، 21)

اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق میں قصر الخضراء کی تعمیر کے لیے دو غیر مسلم انجینئروں کی خدمات حاصل کیں۔ یہ وہی محل ہے جو بلاد شام میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت اور بعد ازاں خلافت کے دور میں ان کی اقامت گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، بلاذری روایت کرتے ہیں کہ پہلے یہ محل مٹی اور کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا پھر انہوں نے اسے پتھروں سے تعمیر کیا۔

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 147)

جس طرح غیر مسلم رعایا کے ساتھ فراخ دلی اور درگزر سے کام لینے کی پالیسی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست کا امتیازی وصف تھا اسی طرح موالی کے حوالے سے بھی ان کی سیاست نرم دلی اور حسن معاملہ پر مبنی تھی، انہوں نے بعض ملکی معاملات میں بہت سارے موالی کی خدمات سے فائدہ اٹھایا، چنانچہ انہوں نے اپنے مولیٰ عبداللہ بن دراج کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کے دوران کوفہ کا خراج وصول کرنے کے لیے متعین کیا۔

(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 81)

جبکہ عتبہ بن ابوسفیان کی امارت مصر کے دوران ان کا آزاد کردہ غلام مصر کے خراج پر مامور تھا۔

(الادارہ فی العصر الاموی: ضحاش: صفحہ 347)

موالی میں سے مختار نامی ایک آدمی ان کے حفاظتی دستے میں شامل تھا۔ اس زمرے میں مالک نام کے ایک آدمی کا نام بھی لیا جاتا ہے جس کی کنیت ابوالمخارق تھی اور وہ حمیر کا مولیٰ تھا، جبکہ ان کا مولیٰ سعدان ان کا دربان تھا

(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 54، 63۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)

جو کہ حجاز میں ان کی جائیداد کا نگران بھی تھا۔ زیاد بن ابوسفیان نے اپنے مولیٰ مہران کو اپنا دربان اور عراق میں خراج پر اپنا سیکرٹری مقرر کیا،

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 212)

ابو المہاجر دینار مسلمہ بن مخلد انصاریؓ کا مولیٰ تھا جو 55ھ میں ادارہ شؤن المغرب کا انچارج تھا۔

(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 82)

مذکورہ بالا مثالوں کے باوجود عباس محمود العقاد اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی موالی کی طرف نظر التفات نہیں تھی اور اس حوالے سے اس نے معاویہ رضی اللہ عنہ پر مستشرقین کے ناقابل التفات اعتراض کو ہی دہرایا، جبکہ قدیم عربی تالیفات موالی کے حوالے سے ان کی فراخ دلی کی مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔

(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)

دوسری جانب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ضروری اصلاحات صوبوں پر اپنے عمال کے لیے چھوڑ رکھی تھیں تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنے صوبے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری خود ادا کرے۔ 

(خلافۃ معاویۃ: صفحہ 82)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں

ریاست کی انتظامی تقسیم اس طرح سے تھی: دمشق دار الحکومت تھا، ملک کو چند صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور صوبے پر خلیفہ کی طرف سے مقرر کردہ والی حکومت کرتا تھا۔ بعض اوقات اسلامی مملکت والی کو اس کی مرضی سے حکومت چلانے کی آزادی دے دیتی تھی، یہاں تک کہ بعض والیوں کو قتل کرنے، جلا وطن کرنے، قید میں ڈالنے جیسے اختیارات بھی دے دئیے جاتے تھے۔ مگر یاد رہے کہ ایسا صرف عراق کے صوبہ میں ہوتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں دوسرے صوبوں سے زیادہ شورشیں اور فتنے سر اٹھایا کرتے تھے۔ خلیفہ اس صوبے کے لیے ایسے والیوں کا انتخاب کرتا جو حزم و احتیاط اور سختی میں شہرت رکھتے ہوں۔ زیاد بن ابیہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سب سے مشہور والی تھا۔ رہے دوسرے صوبے تو وہ ریاست کی عمومی پالیسی کے مطابق حکومت کرتے تھے۔ والی خلیفہ کے احکامات کا پابند ہوتا تھا، وہ اس کی رائے لینے اور اس سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتا۔ والی عوام الناس کی مصالح سے وابستہ جملہ امور میں خلیفہ کی طرف رجوع کرتا۔ اگر تو معاملہ اس کے صوبے کے ساتھ مخصوص ہوتا تو وہ مصلحت عامہ کے تقاضوں کے مطابق تصرف کرنے کا حق رکھتا، بصورت دیگر وہ اپنے تمام تصرفات کے لیے خلیفہ کے سامنے جوابدہ ہوتا۔ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں

(الدولۃ الامویۃ محمد سید الوکیل: جلد 1 صفحہ 97)

دولت امویہ کے بڑے بڑے صوبے یہ تھے: دمشق (دار الحکومت) بصرہ، کوفہ، مدینہ، مکہ اور مصر وغیرہا۔ جہاں تک عہد معاویہ کے دوران مختلف شہروں کے والیوں کا تعلق ہے تو ہم ان کے بارے میں ہر صوبے سے متعلق گفتگو کریں گے۔



صفحہ 2 از 2