شیعہ مناظر کا آخری ٹرن - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

شیعہ مناظر کا آخری ٹرن

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

جس کا جواب معاویہ صاحب نے نہیں دیا اور چھلانگ لگا کر کہا عطیہ شیعہ ہے اور بدعتی 


  تواتر اسے نہیں کہتے کہ ایک ہی دور سے کئی روایات پیش کردی جائیں بلکہ ہر دور ہر طبقے سے اتنے زیادہ راوی  روایت کریں جن کا کذب بیانی پر متفق ہونا ممکن نہ ہو ! 


  شیعہ مناظر: پہلی بات تو یہ کہ معاویہ صاحب شروع سے آخر تک یہ دعویٰ کرتے رہے کہ بدعتی راوی کی روایت اس کے مذہب کی تائید میں قبول نہیں، مگر آخر تک وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ عطیہ نے قرآن مجید کی آیت کی تفسیر میں اس حدیث رسول سے اپنے کونسے مذہب کی تائید کی ہے؟ 

شیعہ مناظر: کیا قرآن مجید کی تفسیر میں ثقہ راوی کی بیان کردہ حدیث رسول، اہل سنت مذہب کے خلاف شمار ہوتی ہے؟

اس پر معاویہ صاحب سے حوالہ طلب کیا گیا مگر انہوں نے ایک حوالہ تک نا دیا۔

دوسری بات معاویہ صاحب شروع سے یہ رٹ لگاتے رہے کہ عطیہ شیعہ اور امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھا  ، لہذا وہ پکا شیعہ ہوگا اور سنی علمائے متقدمین کو اس کا پتہ نہیں چلا کیوں کہ اس نے تقیہ کیا ہوگا۔


المحلی کا قول شیعہ مناظر کے کام اس وقت آتا جب وہ فدک کا ہبہ ہونا چار مختلف اسناد سے صحیح السند ثابت بھی کرتے لیکن شیعہ مناظر کا حال یہ تھا کہ وہ بغیر کتاب کے نام کے بھی روایات کاپی پیسٹ کرکے پیش کرتے رہے۔ جس بندے کو حوالوں کا علم نہ ہو وہ اسناد کیا خاک پیش کرتا۔


     یہاں معاویہ صاحب کو خود یقین نہیں ہے کہ وہ اہل سنت علما متقدمین کی لاعلمی کا دعویٰ درست کررہے ہیں یا غلط ۔ یہی حال معاویہ صاحب کے عطیہ پر تقیہ کرنے کا الزام لگانے کا ہے وہاں بھی معاویہ صاحب نے محض ایک شوشہ چھوڑا ہے کوئی دلیل نہیں دی کہ عطیہ نے تقیہ کیا ۔


عطیہ نے کم از کم اس روایت میں تقیہ نہیں کیا، شیعہ وہ پہلے سے تھا اسی لئے تو اہل سنت اسماء الرجال میں اسے شیعہ شمار کیا گیا ہے اس کے علاوہ خود شیعہ اسماء الرجال اسے اصحاب امام صادق میں شمار کیا ہے۔ اس سے زیادہ عطیہ کے شیعہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا؟؟ 

   عطیہ نے فدک ہبہ ہونے والی بات خلاف حقیقت بیان کی ہے اور شیعہ مناظر معصوم ہوکر پوچھتے رہے کہ عطیہ نے اپنے مذہب شیعہ کی کس طرح تائید کی ہے!!!

اس کے علاوہ سنی مناظر تو پہلے ہی سنی و شیعہ کتب سے حوالے پیش کرچکے کہ روایت میں بیان کی گئی آیت مکی ہے۔ اس کا رد تو کیا نہیں اور آئین بائیں شائیں کر رہے ہیں۔


 سب سے بڑی بات معاویہ صاحب خود اقرار کرتے رہے کہ عطیہ ثقہ ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔

تو جناب ایسا راوی ثقہ کیسے ہوگیا جو تقیہ کرکے قرآن مجید کی آیت بھی پڑھ رہا ہے اور رسول اللہ پر معاذاللہ بہتان بھی باندھ رہا ہے ۔


راوی ثقہ بھی ہو اور شیعہ بھی ہو۔۔ یہ ایسے ہی ممکن ہے جیسے اہل تشیع کے ہاں راوی ثقہ بھی ہے اور غیر اثناعشری بھی ہے! 

رہی بات راوی کے جھوٹ بولنے کی تو یہی تو اس کی شیعیت کی تائید میں بدعت ہے جس کی وجہ سے یہ اصول بنایا گیا تاکہ راویوں کی ایسی خیانتوں سے بچنا ممکن ہوسکے۔

اگر عطیہ کو ثقہ لکھنے والے اہل سنت علماء جھوٹے ہیں تو پھر اہل تشیع کے وہ علماء بھی جھوٹے ہوجائیں گے جو غیر اثناعشری راوی کو ثقہ قرار دیتے ہیں!! شیعہ مناظر کے غیر علمی اعتراضات کے سادہ جواب اسی طرح دئے جاسکتے ہیں۔


شیعہ مناظر: لہذا یا تو عطیہ کو ثقہ لکھنے والے اہل سنت علما جھوٹے ہیں یا پھر معاویہ صاحب خود جھوٹ بول رہے ہیں ۔

   


 عطیہ نے فدک ہبہ ہونے والی بات خلاف حقیقت بیان کی ہے اور شیعہ مناظر معصوم ہوکر پوچھتے رہے کہ عطیہ نے اپنے مذہب شیعہ کی کس طرح تائید کی ہے!!!

اس کے علاوہ سنی مناظر تو پہلے ہی سنی و شیعہ کتب سے حوالے پیش کرچکے کہ روایت میں بیان کی گئی آیت مکی ہے۔ اس کا رد تو کیا نہیں اور آئین بائیں شائیں کر رہے ہیں۔


 شیعہ مناظر: پھر معاویہ صاحب یہاں مذکورہ آیت پر مفسرین کا اختلاف بھی دکھاریے ہیں کہ بعض اسے مکی اور بعض اس کے مدنی ہونے کے قائل تھے ۔ تو جب اختلاف ثابت ہوگیا تو یہ دلیل نا رہی کیوں کہ اصول ہے جس رائے میں اختلاف سامنے آئے وہ قابل حجت نہیں ۔ جناب طباطبائی کی رائے مذکورہ سورہ سے متعلق ہے اور یہ تو سب ہی مانتے ہیں قرآن میں بعض سورتیں ایسی ہیں جن کی بعض آیات مکہ اور بعض آیات مدینہ میں نازل ہوئیں ۔ مگر مفسرین نے سورہ کو مجموعی حیثیت میں مکی یا مدنی شمار کیا ۔ معاویہ صاحب یقیناً اس علمی نقطے سے بھی لاعلم ہیں ۔ 


  بخش حسین صاحب! سنی کتاب سے دلیل دی ہے تو سنی کتاب سے رد کو بھی قبول کرنا ہوگا!! آپ کی دلیل اہل سنت کو منوانے کے لئے تھی اور اہل سنت سے ہی اپنی دلیل کا دفاع کرتے ہوئے سنی مناظر کے حوالوں کو رد کرنا ضروری تھا! آپ نے یہ کہہ کر اہل سنت حوالوں کے جواب دینا گوارہ نہ کئے  کہ وہ آپ کے لئے حجت نہیں ہیں!!! آپ کے لئے حجت ہونا ضروری کیوں تھا؟

 مناظرے میں مدعی آپ تھے ، اپنا دعوی منوانا آپ کا کام تھا۔ سنی مناظر کو اپنا دفاع کرنا تھا، آپ سے  اہل سنت کا کوئی دعوی تھوڑی منوانا تھا۔ 

رہی بات سیدہ فاطمہ نے بعد از نبی فدک کا مطالبہ کیوں کیا تھا، تو بخش حسین صاحب۔ سیدہ نے فدک کا مطالبہ بطور میراث کیا تھا، جبکہ آپ کا دعوی میراث پر نہیں بلکہ ہبہ کے متعلق تھا۔ آپ کو فدک کا ہبہ ہونا ثابت کرنا تھا۔

سیدہ فاطمہ کا مطالبہ کرنا جائز اور درست تھا، حضرت ابوبکر صدیق نے فرمان نبوی سناکر فدک کا جو فیصلہ کیا وہ بھی عین قرآن و سنت کے مطابق تھا۔ سیدہ فاطمہ کی خاموشی ہی ان کی رضامندی تھی۔ آپ کو اس مطالبہ پر مناظرہ کرنا تھا تو ہبہ والا دعوی کیوں کیا؟


شیعہ مناظر: پہلی بات تو سنی کتاب کا حوالہ ہم پر حجت نہیں بارہا دیا جاچکا، دوسری بات بالفرض اہل سنت عقیدے کے مطابق یہ مان لیا جائے کہ صحیح روایت سے یہ ثابت ہے کہ جناب سیدہ نے رسول اللہ سے بھی فدک مانگا تھا اور رسول اللہ نے انکار کردیا تھا پھر  جناب سیدہ نے یہ مطالبہ جناب ابوبکر سے کیوں دہرایا؟


  شیعہ مناظر نے شاید سنی مناظر کے اسکین پڑھے بھی نہیں!! کیونکہ سورت کو مکی قرار دینے کے علاوہ اس مخصوص آیت کو بھی مکی آیت ثابت کیا گیا ہے!! 


صفحہ 2 از 3