کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلق ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے مفسدوں سے اقتصادی و معاشرتی مقاطعہ ک


صفحہ 6 از 6
  1. کفارِ محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحقِ عذابِ الیم ہے۔
  2. جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔
  3. جو کافر مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں، ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی ناجائز ہے۔
  4. مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں یہاں تک کہ اگر پیاس سے جان بلب ہوکر تڑپ رہا ہو تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے.
  5. جو کافر مرتد اور باغی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دانیوں میں مصروف ہوں، ان سے خرید و فروخت اور لین دین ناجائز ہے جبکہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو بلکہ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کر کے ان کی جارحانہ قوت کو مفلوج کر دینا واجب ہے۔
  6. مفسدوں سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوہ رسول اکرمﷺ ہے۔
  7. اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدوں موذیوں اور مفسدوں کو یہ سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں قتل کرنا شہر بدر کرنا ان کے گھروں کو ویران کرنا ان پر ہجوم کرنا وغیرہ 
  8. اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انکی عورتیں اور بچے بھی تبعاً اس کی زد میں آجائیں تو اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
  9. ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا فرض ہے لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کریں تو خود مسلمان بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے دائرہ اختیار کے اندر ہوں مگر انہیں کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں جس سے ملکی امن میں خلل و فساد کا اندیشہ ہو۔
  10. مکمل مقاطعہ صرف کافروں اور مفسدوں سے ہی جائز نہیں بلکہ کسی سنگین نوعیت کے معاملہ میں ایک مسلمان کو بھی یہ سزا دی جا سکتی ہے.
  11. زندیق اور ملحد جو بظاہر اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو مگر اندرونی طور پر خبیث عقائد رکھتا ہو اور غلط تاویلات کے ذریعے اسلامی نصوص کو اپنے عقائد پر چسپاں کرتا ہو اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدتر ہے کہ کافر اور مرتد کی توبہ بالاتفاق قابل قبول ہے مگر بقول شامی زندیق کا نہ اسلام معتبر ہے نہ اس کی توبہ قابلِ التفات ہے الا یہ کہ وہ اپنے تمام عقائدِ خیثہ سے براءت کا اعلان کرے۔

 میرے محترم قارئین!

ان اصول کی روشنی میں زیر بحث فرد یا جماعت کی حیثیت اور ان سے اقتصادی و معاشی و معاشرتی و سیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہو جاتا ہے.

(فتاویٰ ختم نبوت: جلد، 2 صفحہ، 459)


صفحہ 6 از 6